کراچی میں کورونا کے سینکڑوں مریض، وینٹی لیٹر، 68علاج کیسے ہو؟ پی ایم اے

کراچی میں کورونا کے سینکڑوں مریض، وینٹی لیٹر، 68علاج کیسے ہو؟ پی ایم اے

  

کراچی (آئی این پی) کراچی کے ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی کمی کے باعث کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے میں ڈاکٹروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔کراچی میں سول ہسپتال میں 8 وینٹی لیٹر تو موجود ہیں لیکن ایک بھی فعال نہیں، جناح ہسپتال میں 12وینٹی لیٹر، ایس آئی یو ٹی میں 15، بے نظیر بھٹو ٹراما سینٹر کے پاس 12، انڈس ہسپتال میں 15 اور اوجھا ہسپتال میں 14 وینٹی لیٹر کورونا کے مریضوں کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ گزشتہ روز نجی ہسپتال میں خدمات انجام دینے والے 60 سالہ ڈاکٹر فرقان بھی بروقت وینٹی لیٹر نہ ملنے کے باعث چل بسے۔ اس حوالے سے جنرل سیکرٹری پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن قیصر سجا د نے کہا ہے کہاتوار کی رات ڈاکٹر فرقان کی موت بھی وینٹی لیٹر نہ ملنے سے واقع ہوئی ہے۔ طبیعت بگڑنے کے بعد ڈاکٹر فرقان کو ہسپتال لے جایا گیا لیکن وینٹی لیٹر کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے وہ انتقال کر گئے۔ان کے اہلخانہ 2 گھنٹے وینٹی لیٹر ڈھونڈتے رہے۔ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا ہے کہ کیسز زیادہ بڑھ گئے تو ہمارا صحت کا نظام بیٹھ سکتا ہے، لہذا ڈاکٹرز کو اپنی حفاظت کرنی ہو گی۔کراچی میں سول ہسپتال میں 8 وینٹی لیٹر تو موجود ہیں لیکن ایک بھی فعال نہیں۔ محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق سٹیڈیم روڈ پر واقع ایک نجی اسپتال نے 5 وینٹی لیٹرز کورونا مریضوں کے لیے مختص کر رکھے ہیں۔ایک اور نجی ہسپتال میں جہاں وینٹی لیٹرز کی تعداد 54 ہے لیکن وہاں کورونا کے مریضوں کا علاج نہیں کیا جا رہا۔

کراچی وینٹی لیٹر

مزید :

صفحہ آخر -