روزگار کی عدم دستیابی اور مہنگائی دے دیہاڑی دار مزدوروں کی پریشانی میں اضافہ

روزگار کی عدم دستیابی اور مہنگائی دے دیہاڑی دار مزدوروں کی پریشانی میں ...

  

لاہور(لیاقت کھرل)کورونا وائرس کے سبب فیکٹریاں اور کاروبا ر بند ہونے کے باعث محدود ذرائع آمدن رکھنے والوں کا گھریلو بجٹ بری طرح متاثرہوگیا، وزیر اعظم کا احساس پروگرام بھی مدد گار ثابت نہیں ہو سکا،رمضان المبارک میں ہوشربا مہنگائی نے مزید پریشانی سے دوچار کر کے رکھ دیا۔ ان خیالات کا اظہارمردو خواتین محنت کشوں نے روزنامہ پاکستان کی جانب سے کئے گئے سروئے میں کیا۔ شہری اکرام، بلال حسین، اصغر علی اور انصر جاوید نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے ابتدائی دنوں میں معاملات ٹھیک رہے لیکن جونہی ماہ رمضان شروع ہو ا گھروں کے اخراجات کئی گنا بڑھ گئے جبکہ سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ نے معاشی پریشانی بڑھادی۔شہریوں محمد بلال، عادل حسین، محمد شفیع، شفیق احمد، اصغرخان، حاجی منور حسین،راشد عنایت، غازی آباد کے محمد ریاض اور اسلم پرویز نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے باعث ذرائع آمدن ختم ہونے پر گھر چلانے میں شدید دشواری کا سامنا ہے جبکہ وزیر اعظم کا احساس پروگرام بھی کوئی مددگار ثابت نہیں ہو سکا ہے۔شہری امجد پرویز، اعجاز احمد،فیاض احمد، باغبانپورہ کے حاجی فیاض علی اور محمد اقبال نے کہا کہ حکومت نے لاک ڈاؤن سے پہلے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی، سرکاری و نجی اداروں اور صنعتوں و فیکٹریوں کے بند ہونے سے ورک چارج اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے لاکھوں افرادبے روزگار ہو گئے۔شہری وسیم احمد، عامر محمود، سہیل احمد، فیاض اکبر نے کہاکہ حکومت کی جانب سے تعمیراتی انڈسٹری کوکھول دیا لیکن بجری سیمنٹ اور ریت کی دکانیں بند ہونے پر کاروبار نہیں چل سکا ہے اور کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہے۔فیکٹریوں میں محنت مزدوری کرنے والی خواتین زہرہ بی بی، صغریٰ بی بی، نسیم بی بی، وجاہت بی بی اور طاہرہ بانو کا کہنا تھا کہ سکولوں کی انتظامیہ نے بچوں کے نام خارج کرنے کی دھمکی دے کرفیسیں وصول کر لی ہیں جبکہ مالک مکان بھی کرائے کیلئے تنگ کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو کر رہ گیا ہے لہٰذا حکومت کو روزگار کی بحالی کیلئے مناسب حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے۔

پریشانی/ اضافہ

مزید :

صفحہ آخر -