افغان شہریوں کو ایران میں دریا برد کرنے کے واقعہ کی تحقیقات جاری، کابل حکام

افغان شہریوں کو ایران میں دریا برد کرنے کے واقعہ کی تحقیقات جاری، کابل حکام

  

کابل،تہران(این این آئی) ایرانی سرحدی محافظین کی جانب سے درجنوں افغان شہریوں کو ایران سے باہررکھنے کی کوشش میں تشدد کر کے پانی میں پھینکنے کی رپورٹس پر افغان حکام ایران کی سرحد کیساتھ بہتے دریا میں افغان مہاجرین کو تلاش کرتے رہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مغربی صوبے ہرات میں حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے دریائے ہری رود سے 12لاشیں برآمد کیں جبکہ 8افراد لاپتہ ہیں۔ افغا ن وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے، کابل میں صدارتی محل کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا ابتدائی تحقیقا ت سے معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم 70 افغان شہریوں نے ہرات سے ایران میں داخلے کی کوشش کی جس پر انہیں مار پیٹ کر دریائے ہری رود میں دھکیل دیا گیا۔دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا یہ واقعہ افغانستان کی سرزمین پر پیش آیا، ایران کے سرحدی محافظین نے اپنے ملک میں اس قسم کا کوئی واقعہ پیش آنے کی تردید کی ہے،تاہم ہرا ت کے ضلع گلران کے گورنر عبدالغنی نوری نے اس کی نفی کی اور کہا ایرانی فورسز نے در جنو ں افغان مہاجرین ورکرز کو دریا میں پھینکا، ادھرہرات کے ضلعی ہسپتال کے ڈاکٹرا کا کہنا تھا انہیں افغان مہاجرین کی5 لاشیں موصول ہوئی ہیں جبکہ 2زخمیوں کو لایا گیاجو زیر علاج ہیں۔علاوہ ازیں افغان طالبان نے کہا ایران کو ان ہلاکتوں کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو سخت سزا دینا چاہیے۔

افغان شہری

مزید :

صفحہ آخر -