جماعت اسلامی نے کاروبا ر کھلوانے کیلئے تاجروں کے ہمراہ احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا

    جماعت اسلامی نے کاروبا ر کھلوانے کیلئے تاجروں کے ہمراہ احتجاجی تحریک کا ...

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کے تاجروں اور چھوٹے کاروباری نمائندوں کے ہمراہ ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سندھ حکومت نے آگرآج کراچی میں کاروبار اور مارکیٹیں کھولنے کا واضح اعلان نہ کیا تو جماعت اسلامی کل منگل 5مئی سے تاجروں کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک کا آغاز کر رہی ہے اور اس سلسلے میں پہلا مظاہرہ منگل5 مئی کوفائیو اسٹار چورنگی پر3بجے دن ہو گا جبکہ 6مئی کو شہر بھر میں مارکیٹوں اور کاروباری مراکز میں تاجروں کی جانب سے احتجاج کیا جائے گا اور جمعرات 7مئی کو ادارہ نور حق میں 3بجے دن شہر کے تمام چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کا ”آل کراچی تاجر کنونشن“ ہو گا مظاہرے اور کنونشن میں احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی۔ جماعت اسلامی تاجروں کے ساتھ ہے اور ان کے کاروبار اور ان کو مزید تباہ و برباد نہیں ہو نے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جب گھروں میں بجلی اور گیس کے بل پہنچنے لگیں لیکن راشن نہ پہنچے تو غریب اور ضرورت مند کہاں جائیں؟ وفاقی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے بجائے لاک ڈاؤن اور کاروبار ی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے واضح اور دو ٹوک اعلان کرے۔ جماعت اسلامی تصادم نہیں چاہتی ہم مذاکرات سے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو تمام سیاسی و جمہوری طریقے استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں سے بھی کہنا چاہتے ہیں کہ وہ کورونا وائرس کی تباہ کاریوں اور احتیاطی تدابیر سے عوام کو ضرور آگاہ کریں لیکن حکومت کے ترجمان بننے کے بجائے عوام کے ترجمان بنیں۔ لاک ڈاؤن کی صورتحال سے نمٹنے میں سندھ حکومت کی نا اہلی پر خاموشی اور ہسپتالوں میں ڈاکٹروں او ر پیرا میڈیکل اسٹاف کو حفاظتی سامان مہیا نہ کرنے پر حکومت کے خلاف کوئی واضح موقف اختیار نہ کرنے پر ڈاکٹروں کے حوالے سے بھی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم تقریر تو بہت اچھی کرتے ہیں لیکن عملی اقدامات نہیں کرتے، وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں انہیں لاک ڈاؤن کے حوالے سے دوٹوک اعلان کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کی جانب سے قابل عمل تجاویز دی جا چکی ہیں اور ایس او پیز پر بھی اتفاق رائے ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود سندھ حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ آن لائن کاروبار صرف ایک مذاق ہے، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی اور سندھ سمیت آج پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہے اور اس صورتحال نے ہر شہری اور طبقے زندگی کو پریشان کیا ہے لیکن مزدور و محنت کش اور تاجربرادری اس دوران شدید متاثر ہوئی ہے اور کراچی جو ملک کا سب سے بڑا شہر ہے اور معاشی حب ہے۔ اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے 13فیصد صحیح لیکن معیشت کے اعتبار سے کراچی پورے ملک پرسب سے زیادہ اثر انداز ہو تا ہے۔ کراچی میں سارا کاروبار بند ہے۔ شہر کی چھوٹی بڑی تقریباً 700مارکیٹیں مسلسل بند ہیں، جن سے وابستہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 70سے 80لاکھ افراد کاروبار کی بندش سے متاثر ہو رہے ہیں اور کاروبار تباہ اور ورکرز فاقوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف صنعتوں کو کھولنے کا اعلان تو کیا گیا مگر کراچی اور سندھ میں ساری صنعتیں بھی اس طرح نہیں کھل سکی ہیں جس طرح پنجاب میں کھل چکی ہیں۔ کاروباری طبقہ، تاجر برادری اور ان سے وابستہ لاکھوں افراد بدترین حالات کا شکار ہو گئے اور لاک ڈاؤن کے باعث ایک سنگین اور خطر ناک صورتحال جنم لے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ 10دن قبل ایک سائینٹیفک سروے جو ایک معروف ادارے پلس کنسلٹینٹ سے کرایاگیا تھا‘ کے مطابق 80فیصد لوگ کہتے ہیں کہ اگلے تین ماہ میں وہ انتہائی غیر یقینی صورتحال سے دو چار ہو جائیں گے۔ کراچی کے ایسے افراد کی تعداد 80فیصد ہے جو ان افراد کو جانتے ہیں جن کا روزگار اس لاک ڈاؤن سے ختم ہوا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سندھ حکومت کہہ رہی ہے اور اس پر زور دے رہی ہے کہ کورونا کی وباء کا شدید خدشہ ہے اس لیے سب کچھ بند کردیا جائے جبکہ اعداد و شمار، حقائق اور ماہرین بتاتے ہیں کہ اس وباء کے پھیلاؤ کا ایک فطری عمل ہے جو لاک ڈاؤن سے نہیں رک سکا ہے۔ اس کا ایک خاص گراف ہے جو اپنی انتہا کو پہنچ کر رہے گا۔ اس لیے یہ درست ہے کہ احتیاط کی جائیں اور اس سے بچاؤ کی تدابیر کی جائیں، لہٰذا اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی و جماعتی مفادات، وفاقی و صوبائی حکومتوں کی چپقلش، ضد اور ہٹ دھرمی سے بالا تر ہو کر موجود حالات بالخصوص کراچی کی صورتحال کو دیکھا جائے اور حکومت فوری طور پر قابل عمل ایس او پیز کے ساتھ کراچی میں کاروبار اور دوکانیں کھولنے کا واضح طور پر اعلان کرے۔ جماعت اسلامی کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتی اس وقت قوم کو متحد کرنے اور وباء سے نجات دلانے کی ضرورت ہے لیکن افسوس کہ سندھ حکومت نے کورونا وباء کے موقع پر بھی کرپشن اور لوٹ مار کے راستے نکال لیے ہیں۔ لاکھوں افراد شدید متاثر اور پریشان حال ہیں لیکن لوگوں کو راشن نہیں مل رہا۔ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو تحفظ نہیں فراہم کیا جا رہا۔ ہسپتالوں میں طبی خدمات کو محدود کرنے کے باعث بے شمار عام مریض اور شدید بیمار افراد بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ یکطرفہ طور پر سب کچھ بند کرکے صورتحال میں بہتری نہیں لائی جا سکتی۔ آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز کے صدر محمود حامد نے کہا کہ حکومت نے آن لائن کاروبار کے نام پر کراچی کے تاجروں کو دھوکہ دیا ہے، تاجروں کے نمائندوں اور صوبائی وزراء کے درمیان مذاکرات میں ایس او پیز طے کی جا چکی تھیں اور کاروبار کو 13سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا تھا لیکن معلوم نہیں کیوں اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور آج کراچی میں تاجروں کو بے عزت کیا جا رہا ہے، گرفتار کیا جا رہا، صورتحال نا قابل برداشت ہو چکی ہے، تاجر برادری اب سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو گئی ہے۔اس موقع پر لیاقت آباد ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدربابر خان بنگش، آل کراچی موٹر ڈیلر ایسوسی ایشن کے ایم شہزاد، نرسری فرنیچر مارکیٹ کے صدر جاوید ابدالی، حیدری مارکیٹ کے صدر سید سعید، پاکستان کنفکشنری ایسوسی ایشن کے صدر جاویدحاجی،ناز پلازہ مارکیٹ کے صدر سید نوید علی، خیبر مارکیٹ کے صدر لال محمد، سماما شاپنگ سینٹر کے صدر حاجی طور خان، ریشم بازار مارکیٹ کے صدر محمد اسلم، صدر الائنس کراچی صدر کے دلاور خان اعوان، میٹھا در ٹریڈرز کے نعیم ذکی، کراچی اسپورٹس مارکیٹ سلیم ملک، گلبہار ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے فیصل ہاشمی اور مظفر السلام سمیت مختلف تاجر تنظیموں اور مارکیٹ ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کے علاوہ جماعت اسلامی کراچی کے سیکریٹری عبد الوہاب،ڈپٹی سیکریٹری عبد الرزاق خان، یونس بارائی، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے۔ #

مزید :

صفحہ آخر -