سندھ حکومت وہ بات کر رہی ہے جو دنیا کے طبی ماہرین کر رہے ہیں: ناصر حسین شاہ

        سندھ حکومت وہ بات کر رہی ہے جو دنیا کے طبی ماہرین کر رہے ہیں: ناصر حسین ...

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر اطلاعات، بلدیات، ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ، مذہبی امور، جنگلات اور وائلڈ لائف سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت وہ بات کررہی ہے جوپوری دنیا کے طبی ماہرین کررہے ہیں۔پیرکوصوبائی وزیر زراعت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے لوگوں کی جان بچانا چاہتے ہیں۔اس وقت میڈیا کی توپوں کارخ سندھ کی طرف ہے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کیا لاک ڈاؤن صرف سندھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ منظم طریقے سے سندھ حکومت کوبدنام کیا جارہا ہے۔ اسد عمر نے 14اپریل کوہی اعلان کیا تھا9مئی تک لاک ڈاؤن ہوگا اب وہ کہہ رہے ہیں نقصان ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کوڈس کریڈٹ کرنے کیلئے یہ سب کچھ کیا جارہا ہے اور سوشل میڈیا پرغلط پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بے بنیاد لسٹ تھی اور وہاں کے لوگوں نے کہا کہ ہم سے کہلوایا گیا جبکہ راشن ان لوگوں تک بھی پہنچایا گیا تھا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ جب بات اورکوشش کے بعد بھی نتیجہ نہ آئے تو پھربات کرنی پڑجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال سے ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے وفاق کو کہہ رہے ہیں۔ صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ پچھلے سال سندھ کیپندرہ اضلاع میں ٹڈی دل پہنچی تھی اور لاکھوں ایکڑ زمین پرکھڑی فصلوں پرحملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا حل صر ف اور صرف پلانٹ پروٹیکشن کا کام ہے اور ہوائی اسپرے ہی اس کا حل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری کوششوں سے صرف 46ہزارایکڑ زمین پراسپرے ہوسکا۔ صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ ہم نے فنڈزدینے کی آفربھی کی اور ہم نے جہاز کے فیول اوردوائی کے لئے پیسے بھی دینے کا کہا تھا۔ وزیر زراعت نے کہا کہ 142ہزارایکڑ فیلڈ پر اسپرے کروایا۔ اسماعیل راہو نے کہا کہ یہ قومی مسئلہ ہے اس سے فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ اور تمام ترکوششوں کے بعد بائیس جنوری کواجلاس بلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے اقدامات کو سراہا گیا اور کہا گیا کہ سندھ حکومت کی کوششوں کی وجہ سے فصلوں کو بڑانقصان نہیں ہوا۔ وزیر زراعت نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان بناکرپہلی فروری سے ایمرجنسی ڈکلیئرکی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی صدارت میں بھی اجلاس ہوا اور پہلی اپریل سے ہوائی اسپریکاوعدہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ بلوچستان اس وقت سب سے زیادہ متاثرہورہے ہیں۔ وزیراعلی سندھ بھی وزیر اعظم کو خط لکھ رہیہیں۔ وزیر زراعت نے کہا کہ مختلف اضلاع سے آبادگاررابطہ کررہے ہیں۔ اس وقت ملک کے تین لاکھ کلومیٹرکے اندرٹڈی دل ہے جس میں سے 35پرسنٹ سندھ میں ہے۔ ہمارے سروے کے مطابق پچاس ہزاراسکوائرکلومیٹرتک ٹڈی دل موجود ہے۔ اور تھر، میرپورخاص،سانگھڑ اور نوابشاہ میں اس کا بیج موجودہے جوخطرناک ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ساٹھ ملین روپے اضلاع کودیئے اور دس ملین پلانٹ پروٹیکشن کودیئے مزید تین سوملین اورجاری کئے کچھ سامان لیا۔ جبکہ دوائی خریدنے کے لئے دوبارہ فنڈزجاری کئے جائیں گے۔ صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ پچاس ہزاراسکوائرکلومیٹرپر یہ 35ہزارلوگوں کے کھانے جتنی خوراک کھاجاتا ہے لیکن وفاقی حکومت کی سنجیدگی نظرنہیں آرہی ہے۔ صرف دوگاڑیاں اورتین بندے وفاق نے دیئے ہوئے ہیں۔ اسماعیل راہونے کہا کہ وفاق اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم سے کم تین ڈزرٹ اضلاع کے لئے جہاز دیئے جائیں۔ وزیر زراعت نے بتایا کہ چائینہ نے ایک لاکھ چارہزارلیٹردوائی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک آرمی نے ٹڈی دل کے خاتمیکے لئے ہماری خصوصی مدد کی ہے۔ اسماعیل راہو نے کہا کہ ڈزرٹ ایریا اس کی نسل کی افزائش کے لئے موزوں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دولاکھ لیٹر دوائی اوربیس ٹیمیں دی جائیں اور اگر نہیں دیا گیا تواحتجاج کریں گے۔ کیونکہ پاکستان اوردیہی آبادی زراعت پر دارومداررکھتی ہے اس لئے وفاقی حکومت اس مسئلے کوسنجیدہ لے۔اسماعیل راہو نے کہا کہ گندم اسکینڈل کی اپڈیٹ نیب نے نہیں دی انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے سندھ حکومت گندم کی خریداری کرتی ہے جبکہ پچھلے سال خریداری نہیں کی گئی اور سیکریٹری فوڈ نے چیف سیکریٹری کولکھا کہ لاکھوں بیگ گھوٹکی سے کراچی کے لئے نکلی اور نہیں پہنچی دوسری کھیپ میں 172ہزاربوریاں غائب ہوئی پھرچیف سیکریٹری نے اینٹی کرپشن کوانکوائری کے لئیلکھا انہوں نے کہا کہ ہم گندم قرض پرخریدتے ہیں۔ ہم خود نیب کوخط لکھ رہے ہیں اورآج محکمہ فوڈ نیب کوخط لکھے گا اسماعیل راہو نے کہا کہ اینٹی کرپشن پلی بارگین نہیں کرسکتا اس لئے نیب کوکہہ رہے ہیں۔ اس موقع پر سید ناصرشاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے خود انکوائری کی ہے اور نیب پہلے بھی انکوائری کرچکا ہیاس دفعہ خریداری پر خبریں نہیں آرہی ہیں کیونکہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں ریٹ بہترہیں۔ حکومت ٹارگیٹ پورانہیں کرپارہی انہوں نے کہا کہ محکمہ فوڈ کی کرپٹ لوگوں سے جان چھڑائی جائے گی اور جلد نئی بھرتیاں کریں گے۔

مزید :

صفحہ اول -