عالمی یومِ آزادیء صحافت پر بزمِ بزرگانِ ریاض کا صحافیوں کو خراجِ تحسین

عالمی یومِ آزادیء صحافت پر بزمِ بزرگانِ ریاض کا صحافیوں کو خراجِ تحسین

  

ریاض (وقار نسیم وامق) صحافت ہر اس معاشرے کے لئے آئینہ دار ثابت ہوتی ہے جہاں معاشروں کی تعمیر کا عمل جاری ہو ایسے میں شعبہ صحافت سے منسلک افراد کو چاہئیے کہ وہ قلم کی حرمت کو سمجھیں اور معاشرے کو سدھارنے کے لئے کام کریں ان خیالات کا اظہار بزمِ بزرگان ریاض کی ہفتہ وار آن لائن بیٹھک میں عالمی یومِ صحافت کے موضوع پر پاک میڈیا فورم کے چیئرمین الیاس رحیم اور سنئیر نائب صدر وقار نسیم وامق نے کیا. 

ان کا مزید کہنا تھا کہ صحافت مقدس پیشہ ہے اور اسکے ذریعے برائیوں کی نشاندہی کرکے اچھائیوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے جبکہ اچھی اور مثبت صحافت کے ذریعے جہاں مسائل کو حل کروانے میں مدد کی جاسکتی ہے وہیں متوسط اور غریب طبقے کی رہنمائی اور ان کو حقوق دلانے میں بھی اہم فریضہ سرانجام دیا جاسکتا ہے. 

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک میں صحافت چوتھا ستون کے طور پر جانا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں صحافت بدنام ہو کر رہ گئی ہے اور بےشمار الزامات کی زد میں ہے مگر جہاں دیگر اداروں کی بدحالی ہوچکی ہے وہیں پر صحافت جیسا چوتھا ستون بھی ایسی ہی کسی بدحالی کا شکار ہے اسکی بڑی وجہ ایسے افراد کا اس میں گھس جانا ہے جو صحافت کو شیلٹر کے طور پر استعمال کرتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ صحافت سے منسلک افراد خود احتسابی کے عمل سے گزر کر آگے بڑھیں. 

 سعودی عرب میں پاک میڈیا فورم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ صحافی برادری کے تحفظ اور انکے حقوق دیکر تبدیلی کے نعرے کو تقویت بخشے اور جمہوری اقدار کی طرح صحافت کو جکڑنے اور قابو میں رکھنے کی بجائے اسے مکمل آزادی دے تاکہ جمہوری اقدار کے ساتھ صحافتی اقدار بھی مناسب انداز کے ساتھ آگے بڑھ سکیں اور پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا ہاوسز کو بھی چاہئیے کہ وہ صحافت کے اصل معیار کو بام عروج تک پہنچائیں. 

بزمِ بزرگانِ ریاض کے بانی ڈاکٹر سعید احمد وینس، چیئرمین قاضی اسحاق میمن، جنرل، سنئیر نائب صدر ڈاکٹر ریاض چوہدری، ڈاکٹر طارق عزیز، سیٹھ عابد، عقیل قریشی، اسلم عاشق، آر جے فواد، سید بابر علی اور دیگر نے کہا کہ آج کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں صحافت میں جدت آئی ہے اور خبروں کا نا رکنے والا سلسلہ جاری رہتا ہے، دنیا کے ایک خطے سے دوسرے خطے تک خبر چند لمحات میں پہنچ جاتی ہے اس لئے ایسے میں خبروں کی سچائی اور ان کے معیار میں کمی بیشی ہوتی ہے جس کو دور کرنا بہت ضروری ہے. 

بزمِ بزرگانِ ریاض کے ذمہ داران نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں جہاں صحافیوں کو نامساعد حالات میں کام کرنا پڑتا ہے اور کئی بار اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا یے اسکی جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور حکومت کی جانب سے میڈیا کے خلاف مہم چلانے اور اسے یرغمال بنانا بھی کسی صورت درست عمل نہیں ہے اسلئے ضروری ہے کہ ملک میں حکومت اور میڈیا کے لوگ آپس میں بیٹھ کر ایسا فارمولا طے کریں جس سے صحافت کسی جکڑ بندی میں نظر نا آئے. 

بزمِ بزرگانِ ریاض کی جانب سے پاک میڈیا فورم کی صحافتی سرگرمیوں کو سراہا گیا اور کہا کہ پاک میڈیا فورم نے ثابت کیا ہے کہ اسکا ہر ایک صحافی پروفیشنل ہے اور اپنے کام کو بھرپور اچھے انداز کے ساتھ سرانجام دیتا ہے، پاک میڈیا فورم کیمونٹی تقریبات کی کوریج کرکے ان کو پوری دنیا میں نشر کرکے جو مثبت چہرہ دیکھا رہا ہے اس پر پوری کیمونٹی ان کو خراج تحسین پیش کرتی ہے. 

مزید :

عرب دنیا -تارکین پاکستان -