ایم آر آئی ، کیا ہمیں ڈرنا چاہیے ؟

ایم آر آئی ، کیا ہمیں ڈرنا چاہیے ؟
ایم آر آئی ، کیا ہمیں ڈرنا چاہیے ؟

  

( magnetic resonance imaging)   جسے ایم آر آئی بھی کہا جاتا ہے  ہمارے جسم میں لگنے والی کسی چوٹ  اور نقصان کے بارے میں تشخیص کرنے کا ایک اہم طریقہ ہے ۔ ایم آر آئی ویسے تو کئی مسائل کی تشخیص کے لئے استعمال ہوتی ہے  لیکن اہم یہ ہے کہ یہ دماغ یا سر میں لگنے والی  چوٹ  کے بارے میں  معلوم کرنے کے لئے جدید ترین اور واحد طریقہ سمجھا جاتا ہے  ۔

ایم آر آئی صرف اس صورت میں کروائی جاتی ہے  جب ڈاکٹر اسے تجویز کرے  اس ٹیسٹ کو آپ خود سے نہیں کروا سکتے ۔جب ایکسرے  سے مریض کی  اندورنی چوٹ سے متعلق کچھ پتہ نہ لگ رہا ہواور ڈاکٹر رپورٹس سے بھی مطمئن نہ ہو  تو یہ حتمی حل کہلایا جا سکتا ہے ۔

اس طریقہ تشخیص میں  بہت طاقتور ریڈیائی لہروں کا استعمال ہوتا ہے تاکہ جسم میں ہونے والے نقصانات کا علم ہو سکے  ۔ بہت سے لوگ تو ایم آر آئی کے نام سے بھی خوف زدہ ہوتے ہیں ۔ سپائنل کارڈ اور کئی مرتبہ وزن کی زیادتی کے سلسلے میں ہونے والی سرجری سے پہلے بھی  ایم آر آئی تجویز کی جاتی ہے ۔

ایم آر آئی کروانے سے پہلے بہت سی باتوں کا جاننا ضروری ہوتا ہے  تاکہ اس سسلسلے میں خدشات کو دور کیا جا سکے ۔

جو شخص ایم آر آئی کی مشین سے آپ کا معائنہ کرے گا وہ آپ سے آپ کی صحت  سے متعلق  تمام تر سوالات کرے گا  ، آپ کے  ماضی میں ہونے والی تمام  بیماریوں ، الرجی یا کسی بھی ہونے والی سرجری ان سب کے بارے میں دریافت کیاجائے گا یہاں بہت دیانتداری سے  ان سب سوالوں کا ٹھیک ٹھیک جواب دیں  ، اپنی عمر بھی  درست بتائیے ، اس سے آپ کے بارے میں  ایم آر آئی کرنے کے لئے بہتر تعین ہو سکے گا کہ آپ کو اس مرحلے سے گذارنا بھی ہے یا نہیں ؟

 ایم آر آئی میں صرف ۳۰ منٹ درکار ہوتے ہیں  ۔ تاہم ان تیس منٹ میں آپ کو خوف زدہ نہیں ہونا ،۔ اپنی جگہ سے ہلنا بھی بالکل نہیں اور اسے مکمل طور پر محفوظ سمجھنا ہے  ، بلکہ بہتر تو یہ ہو گا کہ  آپ اس وقت اچھی باتیں  سوچیں  ، جیسے آپ کا امتحان میں کامیاب ہونا  ، آپ کی شادی یا اولاد کا ہونا  ،مقدس مقامات کی زیارت اور عمرہ کا سوچنا وغیرہ ۔

ایم آر آئی کے بارے میں یہ خدشہ بھی پایا جاتا ہے کہ اس عمل کے دوران آپ سانس نہیں لے سکتے  ۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے  آپ سانس لے سکتے ہیں کئی مرتبہ آپ کو لگتا ہے کہ سانس میں دشواری ہے جبکہ ایسا ہوتا نہیں یہ صرف نفسیاتی خوف ہوتا ہے ۔۔

ایم آر آئی کی مشین کیونکہ بہت شور کرتی ہے  اور یہ شور غیر معمولی ہوتا ہےلہذا اس سے بچنے کے لئے  آپ کو ائیر پلگس دئیے جاتے ہیں۔ یہ لازمی لگانا ہوتے ہیں  ، اگر یہ آپ کے کانوں میں  فٹ نہ ہوں اور چھوٹے بڑے ہوں تو فوری طور پر اپنے اٹینڈ کرنے والے  ہسپتال کے عملے کو آگاہ کریں کیونکہ آپ کے کان مکمل طورپر کور یا ڈھکے ہوئے ہونے چاہیں ۔۔۔

یہ یقین کر لیں کہ آپ کے جسم پر کوئی دھاتی چیز جیولری وغیرہ نہ ہو کیونکہ وہ ریڈیائی لہروں کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے ۔ اب آخر میں سب سے اہم بات  یہ ہے کہ اس میں بالکل باریک ایک گائون سا پہننا ہوتا ہے ۔ فطری شرم کی وجہ سے بہت سے لوگ اس سے ہچکچاتے ہیں  ۔۔ ایسا بالکل مت کریں کیونکہ علاج معالجے میں شرم محسوس نہ کرنا ہی بہتر ہوتا ہے ۔۔

ایم آر آئی ہمیشہ  مستند ڈاکٹر کی ہدایات پر ہی کسی اچھے اور ماہر ڈاکٹر سے ہی کروائیں تو بہتر ہوتا ہے کیونکہ اس طریقہ علاج کو غلط طریقے سے انجام دینے سے ہمارے جسم میں کئی طبی مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں ۔

 ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -