نابینا نعت خوان

نابینا نعت خوان
نابینا نعت خوان

  

مؤذن اللّٰہ اکبر کی صدا بلند کرتا۔ہم صحن میں چارپائی پہ لیٹے خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہوتے۔صحن میں ابھی تک رات کی ساحرہ کا سرمئی جادو پھیلا ہوتا۔دادی کان سے پکڑ کے ہمیں اٹھا دیتیں۔ان کے ایک ہاتھ میں تسبیح اور دوسرے ہاتھ میں ہمارا کان ہوتا۔ادھر ورد کرتیں ،درمیان میں ہمیں ڈانتیں،ایک ہاتھ سے تسبیح کا منکا پھینکتی دوسرے دوسرے سے ہماری گوشمالی اس وقت تک کرتیں جب تک ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی نہ رہ جاتیں۔اب آنکھیں نیند کی کمین گاہ بنی ہوئی ہیں۔ہم کبھی جمائیاں کھینچتے ہیں کبھی انگڑائیاں لیتے ہیں۔یاقوت کی طرح سرخ آنکھوں میں پھیلے نیند کے یاقوتی ڈوروں کو نلکے کے شفاف پانی سے دھو کر ہم سپارہ پکڑتے اور مسجد کی راہ لیتے۔اب راستے میں کبھی سوتے ہیں کبھی جاگتے ہیں۔لڑکھڑاتے ہوے چلتے جا رہے ہیں۔کبھی کبھار، مست الست نیند میں سوئے کسی گلی کے آوارہ کتے سے پاؤں ٹکرا جاتا وہ ہڑابڑا کے اٹھتا اور چاؤں چاؤں کی آواز سے صبح کے بے جان سناٹے میں آواز ڈال دیتا۔کبھی کبھار تو ہم لہراتے لڑکھڑاتے ہوئے نالی میں بھی جا براجمان ہوتے ۔خیر مسجد میں پہنچتے۔سحری کی سپیدی مشرقی افق پہ ایک نقرئی لکیر کھینچ دیتی۔سحر خیز پرندے بھی خواب غفلت سے بیدار ہوکر خالق کائنات کی حمدو ثنا میں رطب اللسان ہوجاتے۔چڑیوں کی روحانی چہچہاہٹ سے دل کے کنول کھل اٹھتے ،روح شاداب ہو جاتی۔ بادصبا گل و گلزار سے خوشبوؤں کے تحفے سمیٹ کر درو دیوار پہ دستک دیتی۔سانسیں معطر اور روح منور ہوجاتی۔ہم ٹھنڈے ٹھنڈے پانی سے وضو کرتے۔ فرحت اور تر وتازگی کا احساس تھا جو روح تک میں اتر جاتا۔مسجد کے ٹھنڈے فرش پہ سنت نماز ادا کرتے۔آہستہ آہستہ صبح کی سفیدی پھیلنے لگتی۔تکبیر اولی کے بعد امام صاحب فجر کی باجماعت نماز کھڑی کر دیتے۔ہم بھی ان کی اقتدا میں نیت باندھ لیتے۔نماز ختم ہوتی تو امام صاحب دعا کے لیے ہاتھ کھڑے کر دیتے۔نہایت رقت آمیز لہجے میں دعا مانگتےآہستہ آہستہ صبح کا سورج جلوہ نما ہونے لگتا نرم نرم روشنی پھیلنے لگتی ۔ دعا کے بعدکبھی کبھار ایک نا بینا بزرگ دیواریں اور ستون ٹٹولتے ہوئے منبر کے قریب جا کر کھڑے ہوجاتے۔ انہیں دیکھ کے نماز کے بعد بھی تمام نمازی بیٹھے رہتے۔ان بزرگ کی آنکھوں کے بجھے ہوئے چراغ پپوٹوں کے بھاری بھرکم پردوں کے پیچھے چھپے ہوتے۔بھنووں کے سفید چھجے پلکوں کی سفیدی پہ سایہ تانے رکھتے۔نحیف و نزار جثہ۔ہاتھوں میں کپکپی اور لرزش ،چلتے ہوئے ٹانگوں میں لڑکھڑاہٹ۔کپڑےبوسیدہ ہوتے۔اکثر کرتے پہ گاڑھے کی مرزئی پہن رکھی ہوتی، ایک دوشالہ کندھے پہ دھرے،رنگدار دھاری دار لنگی کمر سے باندھے،سر پہ ترکی ٹوپی جمائے،منبر کے پاس جم کر کھڑے ہو جاتے ۔ان کے لبوں میں جنبش آتی درود وسلام کے پھول آقائے دو جہاں کی ذات پر نہایت عقیدت سے نچھاور کرتے۔درود شریف کے بعد ہمیشہ ایک ہی نعت پڑھنا شروع کر دیتے۔آواز اتنی گونجدار اور جاندار تھی کہ یقین نہیں آتا تھا اس لاغر جسم میں سے اتنی طاقتور آواز نکل رہی ہے۔لفظ ان کے دل سے نکلتے اور دلوں میں اتر جاتے۔اپنی آواز سے ایک جادو پھونک دیتے سحر طاری کر دیتے۔ہر کوئی وجد میں آ کے جھومنے لگتا۔ایک سماں بندھ جاتا۔آج گاڑی میں یہ نعت سنی

یا مصطفیٰ خیرالوریٰ

تیرے جیہا کوئی نہیں۔

تو ان نابینا بزرگ کی یاد تازہ ہوگئی۔ ہمیشہ یہی نعت پڑھتے اور ہر دفعہ دل کو ایک نیا سرور ملتا۔کچھ پتہ نہیں تھا کی وہ بزرگوار کہاں سے آتے تھے اور کہاں غائب ہو جاتے۔ان جیسا نطق،نعت کا ابلاغ،لہجے کا سریلا پن میں نے آج تک کسی نعت خوان میں نہیں دیکھا۔نعت پڑھتے ہوئے سراپا عقیدت بن جاتے۔نابینا آنکھوں سے محسوس ہوتا کہ اشکوں کی لڑیا نکل نکل کے رخساروں اور داڑھی کو بھگو رہی ہیں۔ایسا عشق و مستی خوش قسمت لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔لوگ عقیدت میں ڈوب کر نوٹ اور روپے پیسے نچھاور کرتے تھے مگر وہ ان باتوں سے بے نیاز ہو کر نعت پڑھتے اور لرزتے لڑکھڑاتے ہوئے اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاتے۔ہم میں سے کوئی لڑکا بالا اٹھتا نوٹ چنتا اور زبردستی ان کے کرتے کی جیب میں ٹھونس دیتا۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

 .

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -