پاکستان میں گٹر صاف کرنے والے دراصل کون ہیں؟ افسوسناک کہانی

پاکستان میں گٹر صاف کرنے والے دراصل کون ہیں؟ افسوسناک کہانی
پاکستان میں گٹر صاف کرنے والے دراصل کون ہیں؟ افسوسناک کہانی

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں صفائی عملے کے لیے صرف مسیحیوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔گٹر صاف کرنے اور دیگر ایسے صفائی کے کاموں کے لیے نوکریوں کے جو اشتہار دیئے جاتے ہیں ان پر واضح کیا جاتا ہے کہ صرف مسیحی اس نوکری کے اہل ہیں۔ یہ گٹرصاف کرنے والے دراصل کون ہیں؟ نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں ان کے ماضی کے متعلق حیران کن انکشاف کر دیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ لوگ نچلی ذات کے ہندو تھے جنہوں نے اونچی ذاتوں کے مظالم سے تنگ آ کر عیسائیت قبول کر لی تھی لیکن ان کے ساتھ اب بھی وہی نچلی ذات والے ہندوﺅں کا سا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

لاہور کے ایرک نامی مسیحی نے بتایا کہ ”گٹرصاف کرنا بہت مشکل نوکری ہے۔ میں جب کسی گٹر میں اترتا ہوں تو میرے چاروں طرف کاکروچوں کے جھنڈ پھر رہے ہوتے ہیں۔کام کے بعد بھی ہمارے جسم سے بدبو آ رہی ہوتی ہیں۔ جب ہم کام ختم کرکے گھر جاتے ہیں اور کھانے لیے نوالہ منہ کی طرف لیجاتے ہیں تو ہمارے ہاتھ سے بدبو آ رہی ہوتی ہے۔گٹر میں زہریلی گیسوں کی وجہ سے کئی ورکرز کی اموات بھی ہو چکی ہیں۔ “

ایرک نے بتایا کہ ”دیگر نچلی ذات کے ہندوﺅں کی طرح میرے آباﺅ اجداد بھی صدیوں پہلے مسیحی بن گئے تھے۔ انہیں امید تھی کہ شاید اس طرح وہ اس ذات پات کی چکی میں پسنے سے محفوظ ہو جائیں گے لیکن آج صدیوں بعد بھی ہمارے ساتھ وہی سلوک کیا جا رہا ہے۔ہم اس وقت بھی اچھوت تھے اور آج بھی ہمیں اچھوت ہی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے آباﺅ اجداد نے اس غلیظ کام سے بچنے کے لیے مذہب تبدیل کیا تھا لیکن ہم آج بھی وہی کام کرنے پر مجبور ہیں۔“

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -