وزیرخزانہ شوکت ترین کے خیالات

وزیرخزانہ شوکت ترین کے خیالات

  

وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ معیشت کا پہیہ نہیں چل رہا، جی ڈی پی گروتھ ریٹ 5فیصد تک لے کر نہ گئے تو چار سال تک ملک کا اللہ حافظ۔ بجلی کا ٹیرف بڑھانے سے کرپشن کی شرح بڑھ رہی ہے اور اس سلسلے میں آئی ایم ایف کا مطالبہ ناجائز ہے دو ماہ سے ٹیکس جمع کرنے میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم معیشت کی بحالی اور استحکام کے لئے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔ نئے ٹیکسوں کی بجائے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ریونیو بڑھانے کے لئے کسی کی دُم پر پاؤں نہیں آنا چاہیے۔ اب معیشت کا گیئر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ بیس سے تیس سال کے لئے شرح نمو پائیدار ہونی چاہیے۔ ایف بی آر نے مجھے دس سال تنگ کیا۔ ایف بی آر نے دو دفعہ سکروٹنی کی ایک دفعہ میری فائل گم کر دی گئی۔ سابق وزیر خزانہ کے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے تو عام آدمی کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ ایف بی آر سے ہراسگی ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔ آئی ایم ایف سے کہا ہے کہ گردشی قرضہ کم کریں گے لیکن ٹیرف بڑھانا سمجھ سے باہر ہے، بجلی ٹیرف پر آئی ایم ایف سے بات کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ہمارے ملک میں شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم پالیسی نہیں جبکہ چین، ترکی اور بھارت نے معاشی پالیسیوں میں تسلسل رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ سے ریلیف لینے کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے سخت ہیں۔ وزیرخزانہ نے یہ باتیں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہیں۔

شوکت ترین خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے معاشی تلخ حقائق کا ذکر اس وقت کیا جب وہ بالفعل وزیر خزانہ ہیں ورنہ اگر وہ پہلے کی طرح ”سابق“ ہوتے تو ان کے بقول ان کا جو حال ایف بی آر نے کیا تھا کچھ اس سے ملتا جلتا حکومت کے معاونینِ خصوصی، ترجمانانِ خصوصی اور ٹائیگر کر رہے ہوتے وہ یہ کہہ کر سکھی نہ رہتے کہ معیشت کا پہیہ چل نہیں رہا کیونکہ حکومت کے خیال میں تو پہیہ تیز رفتاری سے دوڑ رہا ہے۔ وزیراعظم خود کئی مرتبہ فرما چکے ہیں کہ معیشت اوپر سے اوپر جا رہی ہے، مہنگائی کم ہو رہی ہے، روپے کی قیمت بڑھ رہی ہے، ہاؤسنگ انڈسٹری کے ساتھ چالیس دوسری صنعتیں بھی چل رہی ہیں وہ اور بھی بہت سی خوبیاں گنواتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ کامیابیاں ان لوگوں کو نظر نہیں آتیں جنہوں نے ملک کی دولت لوٹ کر بیرونِ ملک جائیدادیں بنائیں اور ایسے علاقوں میں بنائیں جہاں برطانوی وزیراعظم بھی نہیں بنا سکتا، اب وزیراعظم کے ان فرمودات کے علی الرغم اگر شوکت ترین کا یہ خیال ہے کہ معیشت تو چل ہی نہیں رہی تو پھر ہماشما کِس کی بات کو درست تسلیم کریں وزیراعظم کے فرمودات کو یا وزیر خزانہ کی بات کو؟ جہاں تک آئی ایم ایف کے پاس جانے، اس کے ساتھ کڑی شرائط تسلیم کرنے کے بعد قرض کا معاہدہ کرنے اور ہر قسط سے پہلے شرائط پر عمل درآمد کے جائزے کا تعلق ہے تو یہ کام باقاعدگی سے ہوتا ہے آئی ایم ایف حکام تو کہتے ہیں کہ ہم کسی ملک کے پاس چل کر نہیں جاتے کہ قرض لے لو، ملک ہمارے پاس آتے ہیں اپنی مشکلات بتاتے ہیں معیشت کی پتلی حالت بتا کر قرضہ مانگتے ہیں تو ہم اس ملک کی معیشت اور معاشی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے اور اگر ضروری ہو تو بعض تجاویز دیتے ہیں جن کا نام لوگوں نے شرائط رکھ دیا ہے، جن ملکوں کو قرضے کی ضرورت ہوتی ہے وہ یہ تجاویز  مان لیتے ہیں کوئی نہ مانے تو اس کی مرضی، وہ موج کرے اور کہیں اور سے قرضے کا انتظام کرے اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس ملک کو ہمارے قرضے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔لیکن جتنی آسان شرائط ہمارے قرضوں کی ہوتی ہیں شاید ہی کسی اور قرضے کی ہوں۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کا تعلق دیرینہ ہے، جب ہم پہلی مرتبہ اس ادارے کے پاس قرضہ لینے گئے تھے تو ملک میں پہلا مارشل لا لگا ہوا تھا اس سے پہلے معتوب سیاست دانوں کی حکومتوں کا دس سالہ دور ختم ہو چکا تھا اس دور کے عاقبت نا اندیش سیاستدانوں نے آئی ایم ایف کی اس وقت کی بعض تجاویز یا شرائط نہ مان کر قرض نہیں لیا تھا جونہی یہ دور ختم ہوا مارشل لا کے حکمرانِ اول نے آئی ایم ایف کی ساری شرائط بھی مانیں اور قرضہ بھی لیا۔ پھر اس کے بعد چل سو چل، آج تک ہم کئی قرض لے چکے اور کئی واپس کر چکے۔ آئی ایم ایف کا پروگرام معین مدت کے لئے ہوتا ہے، قرضے کی قسطیں ملتی ہیں اور پھر پروگرام کے مطابق واپسی ہوتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے ایک اعلان کر رکھا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے خودکشی کر لیں گے لیکن جس طرح انہیں حکومت میں آنے سے پہلے بہت سی باتوں کا پتہ نہیں تھا اور اس کی خبر خود انہوں نے دی اسی طرح انہیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا بعض اوقات مجبوری ہو جاتا ہے اس لئے خودکشی جیسی باتیں جذباتی اور انتہا پسندانہ ہوتی ہیں کسی بھی سیاست دان کو جذبات کی ایسی رو میں بہنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اسد عمر بھی چونکہ اپنے لیڈر کے ایسے ہی سحر کی گرفت میں تھے بلکہ اب تک چلے آ رہے ہیں اس لئے وہ بھی ایسی ہی تصوراتی بڑھکیں مارتے رہے لیکن پھر ایک ہی جھٹکے میں نہ صرف ان کے سارے تصورات اڑ گئے بلکہ ان کی پہلی وزارت ہی غفرلہ‘ ہو گئی ان کے جانشین ڈاکٹر حفیظ شیخ آئی ایم ایف کے پاس بھی گئے،  شرائط بھی مانیں، بجلی اور گیس کے نرخ بھی بڑھائے، سبسڈیز بھی مرحلہ وار ختم کر رہے تھے کچھ ختم کر دیں، کچھ ہو رہی ہیں یا آئندہ ہوں گی ان کی ان پالیسیوں کی تحسین بھی ہو رہی تھی خود وزیراعظم بھی ان کے صدقے واری جا رہے تھے پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کی وجہ سے کُبّے کو لات راس آ گئی اور حفیظ شیخ مشیر و معاون وغیرہ کی بجائے پورے وزیر خزانہ بنا دیئے گئے ان کا یہ سفر کامیابی سے جاری تھا کہ انہوں نے سینیٹ الیکشن کی گیلی زمین پر پاؤں رکھ دیا اور پھر اس ”کھوبے“ سے نہیں نکل سکے، وزارت خزانہ بھی گئی، طمطراق بھی رخصت ہوا، خود بھی اقتدار کی غلام گردشوں سے نکل گئے اب نہ جانے کہاں ہیں، جہاں بھی ہیں خوش رہیں۔ 

اب جناب شوکت ترین نے ”ہرکہ آمد، عمارتِ نوساخت“ کے مصداق معیشت کی بہتری کا اپنے ہی انداز میں بیڑہ اٹھایا ہے وہ بجلی کے نرخ بڑھانے کی مخالفت کررہے ہیں ان کے نزدیک یہ مشکل فیصلہ ہے لیکن مشکل فیصلوں کی تشریح بھی اپنی اپنی ہے، جب حفیظ شیخ کہتے تھے کہ ہمیں مشکل فیصلے کرنے ہیں تو ان کا مطلب ہوتا تھا بجلی کے نرخ بڑھانے ہیں اب شوکت ترین کا مطلب بالکل ہی مختلف ہے، ان کے منہ میں گھی شکر۔ وہ اگر آئی ایم ایف سے شرائط نرم کرانے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ان کے اس اقدام کو بھی سراہا جائے گا لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے آئی ایم ایف بھی اپنی ان شرائط پر عمل درآمد پر اصرار کرے جو وہ پہلے وزیر خزانہ سے منوا چکا ہے بہرحال اپنی اپنی کوششیں جاری ہیں۔ شوکت ترین بھی اپنے پیشرو کی طرح چھ ماہ کے وزیر ہیں اس دوران انہیں  پارلیمنٹ کے کسی ایوان کا رکن منتخب کرانا ہوگا دیکھیں وہ مرحلہ کب آتا ہے، لیکن آج کل تو اسمبلی توڑنے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں اور یہ باتیں بھی پہلے وزیر خزانہ (اسد عمر) ہی کر رہے ہیں۔ ایسے میں کیا کہا جا سکتا ہے اگر اسمبلی ہی نہ رہی تو ظاہر ہے حکومت بھی گئی کیونکہ اسمبلی کو کوئی اہمیت دے نہ دے، اس کے ارکان کو بکاؤ مال کہے یا کچھ اور، اگر اسمبلی نہیں تو حکومت بھی نہیں، اس کے بعد جناب شوکت ترین نہ جانے کہاں ہوں گے لیکن جہاں بھی ہوں گے معیشت دان ہی ہوں گے جب تک وہ ہیں اپنی صلاحیتوں کو آزماتے رہیں  اور اچھے نتیجے کی امید رکھیں،خدا ان کا حامی و ناصر ہو۔

مزید :

رائے -اداریہ -