بینکوں کے باہر لمبی قطاریں!

بینکوں کے باہر لمبی قطاریں!

  

این سی او سی کی طرف سے کورونا کی تیسری لہر  روکنے کے لئے جو اقدامات کئے گئے ہیں۔ ان میں اوقات کار مقرر کرنا بھی شامل ہے۔ عام دفاتر کے اوقات8بجے صبح سے 2بجے دوپہر تک مقرر کئے گئے ہیں لیکن بینکوں کے اوقار کار نوبجے سے ایک بجے دوپہر تک ہیں۔ کورونا کے علاوہ یہ اوقات رمضان المبارک کی وجہ سے بھی ہیں۔ سرکاری دفاتر اور عدالتی اوقات سے تو عوام نبردآزما ہو رہے ہیں، تاہم بینکوں کے اوقات کار پریشانی کا باعث بن گئے ہیں۔ عیدالفطر کی آمد،آمد ہے۔ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے، ان دنوں بینکوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں، مہینے کی ابتدائی تاریخوں کے باعث یوٹیلٹی بلز بھی موصول ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ لوگ یہ بھی جمع کرانے پر مجبور ہیں جبکہ روزمرہ کا لین دین اپنی جگہ ہے۔ بینکوں کی انتظامیہ کی ہدایات پر کورونا ایس او پیز پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ بینک کے اندر ایک کاؤنٹر پر صرف ایک شہری کو بھیجا جاتا ہے۔ یوں جب ایک واپس آئے تو اس کی جگہ دوسرے کو جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ بینک کے اندر بیٹھ کر انتظار کی اجازت بھی نہیں، چنانچہ صارفین کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث بینکوں کے باہر قطاریں نظر آ رہی ہیں۔ لوگ دھوپ میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ کراچی سے خیبر تک شہری احتجاج کر رہے ہیں، لیکن بینکوں کی انتظامیہ اپنی مجبوری ظاہر کر رہی ہے۔ یوں بھی معمول کے اوقات میں دو گھنٹے کی گئی کمی بھی آڑے آ رہی ہے۔ ایسا کرتے وقت صارفین کی تعداد اور عیدالفطر کی آمد کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔

مزید :

رائے -اداریہ -