اک روز حشر برپا ہو گا!

اک روز حشر برپا ہو گا!
اک روز حشر برپا ہو گا!

  

1973ء کا دستور ملک کی ساری سیاسی و مذہبی جماعتوں کے تعاون سے وجود میں آنے والا اسلامی دستور ہے،جس میں حکومتی زور سے کئی ترامیم کی گئیں، تا ہم یہ دستور غنیمت ہے۔ اگر نیک نیتی سے اس پر عمل درآمد ہو۔ بد قسمتی سے حکومتوں میں دین اسلام اور شریعت محمدی سے پہلو تہی کرنے والے بھی بڑے زور آور رہے ہیں۔ 1956ء کا دستور بھی  وفاقی جمہوری اور اسلامی دستور تھا، جس کی بنیاد پر ملک میں انتخابات متوقع تھے کہ آمر حکمران نے اسمبلی ہی تحلیل کر دی اور ملک و قوم کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔ قادیانیوں کی چیرہ دستیاں ملک کی آزادی سے قبل ہی شروع تھیں۔ ملک کا وزیر خارجہ سر ظفر اللہ قادیانیوں کا سرغنہ اور سرپرست تھا۔ قادیانی ملک کے نظم و ضبط میں خون کی طرح گردش کر رہے تھے۔ نشتر میڈیکل کالج ملتان سے اسلامی جمعیت طلبہ کے قافلہ پر ربوہ ریلوے اسٹیشن پر حملہ کیا گیا، نوجوان طلبہ کو زخمی کیا گیا، جس پر پورے ملک میں شدید ردعمل ہوا۔جس کا نتیجہ بالآخر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی شکل میں نکلا۔

ملک میں پہلے مارشل لاء  کے نفاذ کے دوران ایجی ٹیشن ہوا،جس کے دوران علماء کرام اور عوام پر قادیانیوں کے خلاف تحریک چلانے پر تشدد اور گرفتاریاں ہوئیں۔ سید ابو الاعلی مودودی، مولانا عبد الستار نیازی اور بعض دیگر جید علمائے کرام گرفتار کر لئے گئے۔ سید ابو الاعلی مودودی کو قادیانی مسئلہ نامی رسالہ لکھنے پر فوجی عدالت نے سزائے موت کا حکم سنایا، بعد میں ملکی و غیر ملکی احتجاج سے ڈر  کر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا لاوا مدت سے پک رہا تھا۔انہیں غیر مسلم قرار دینے کا شرف ذوالفقار بھٹو کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے لکھا تھا، جس پر ہر مسلمان دِل مطمئن اور بھٹو مرحوم کے لئے دُعا گو تھا۔عاشق رسول جناب شورش کاشمیری نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے مسلسل جدوجہد کی، اور اقلیت قرار دینے کے اعلان پر پارلیمنٹ اور بھٹو کا تہہ دِل سے شکریہ ادا کیا اور انہیں اللہ کی جناب سے بہترین اجر و انعام کی امید دلائی۔ بعض حضرات نے زیب داستان کے لئے عجیب و غریب ردے چڑھا ئے اور اپنے ذہن سے بہت سی من گھڑت کہانیاں لکھ ماریں۔ شورش کاشمیری مرحوم و مغفور ایسے مرد مومن کا بھی لحاظ و احترام نہ کر سکے۔ نبی آخر الزماں حبیب کبریا، نے ایک صحابی کو اپنے دوسرے بھائی کی بے جا تعریف کرنے پر فرمایا۔ اپنے محدثین کے لئے کہانیاں گھڑنا، لوگوں کی گمراہی کا سبب بن کر انسان کے لئے گناہ کا موجب بنتا ہے۔ پڑھے لکھے پی ایچ ڈی تک اسلام کی بنیادی تعلیمات کو فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔

اعتقاد اور اعتماد میں شگاف کا تذکرہ کرتے کرتے بعض لوگ بھول جانے ہیں کہ انسان کو ایک روز رب ذوالجلال کے رو برو پیش ہونا ہے۔اور اپنے ایک ایک لفظ اور بات وفعل کا جواب دینا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے ساتھ دو فرشتے کرام کاتبین متعین فرما دیئے ہیں،جو انسان کی ہر بات، ہر قدم، ہر حرکت، ہر خیال اور ایک ایک فعل کا اندراج کرتے ہیں۔ کوئی کمی بیشی نہیں کرتے نہ اندرج کرنے سے بھولتے ہیں۔

شیطان جس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں یہ گستاخی کی تھی کہ میں تیرے بندوں کو آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے اوپر سے اور نیچے سے ہر طرح سے بھٹکاؤں گا، گمراہ کر وں گا۔ اللہ کا بھی فرمان تھا کہ میں ان گمراہوں کو تیرے ساتھ دائمی جہنم کا ایندھن بناؤں گا۔شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ انسان سے ایسے ایسے کفریہ کلمات کہلوا جاتا ہے،جو اسے جہنم واصل کروا جاتے ہیں۔کتنے لوگ ہیں،جو دوسروں کی دنیا بنانے، شان بنانے کے لئے اپنی عاقبت برباد کرتے ہیں۔

نہ جانے یہ کس قسم کی ولایت ہے کہ کئی ایک تاریخی واقعات کو من مرضی کے اضافوں کے ساتھ لکھ جاتے ہیں۔اپنے پسندیدہ تاریخی و غیر تاریخی، صحیح و من گھڑت معاملات کو حقیقت کا رنگ دے دیتے ہیں۔

ضلع جالندھر کے انتہائی دین دار مذہبی خاندان کے فرد جنرل محمد ضیاء الحق شہید کو مرحوم بھٹو کے والد کی قبر پر جھاڑو دینے والا، قرآن پاک پر ھاتھ رکھ کر بھٹو سے وفاداری کرتا ہوا دکھائی دیتے ہیں۔ محمد ضیاء  الحق شہید سے اپنے فوجی افسران کی بیگمات سے بھٹو پر گل پاشی کرتے ہوئے دکھا دیتے ہیں۔اس پر بھٹو کی ناراضگی دکھا کر انہیں نواب صادق حسین قریشی کی رہائش گاہ پہنچا دیتے ہیں، جہاں جنرل ضیاء  الحق شہید سلوٹ مار کر فرشی قالین پر بھٹو کے سامنے مودبانہ بیٹھ جاتے ہیں۔  جنرل مجیب الرحمن کو وفاقی سیکرٹری بنا کر بھٹو کے خلاف من گھڑت الزامات کا طومار باندھتے ہیں تا کہ بھٹو افواج پاکستان اور عوام کی نظروں میں معتوب ٹھہرائے جا سکیں۔ اعتقاد و اعتماد میں شگاف کے مصنف نہ ایک لمحہ بھٹو سے الگ ہوتے ہیں،بلکہ جہاں جہاں بھٹو کا قدم پڑتا ہے لکھاری کی موجودگی  وہاں ہوتی ہے، اور جنرل محمد ضیاء  الحق شہید کے بھی ہر لمحہ، ہر موقع، ہر وقت، ہر دن ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ بھٹو اور ضیاء  الحق رب کی مشیت کے مطابق چل رہے تھے۔ ذوالفقار بھٹو اللہ کی گرفت اور پکڑ میں تھے۔ 

   ان سب کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پہنچ چکا،  وہاں سے بے لاگ انصاف ہو گا۔ ہم آپ سب ایک روز جوابدہی کے لئے اللہ کے رو برو پیش ہوں گے۔ اللہ معاف کرے۔

مزید :

رائے -کالم -