ایک قابل مطالعہ کتاب

ایک قابل مطالعہ کتاب
ایک قابل مطالعہ کتاب

  

علامہ عبدالستار عاصم نے ادبی اور دینی موضوعات پر اعلیٰ پائے کی کتابیں لکھی ہیں۔ ان کی ایک کتاب ”پاکیزہ زندگی“ میری نظر سے گزری،جو قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل نے شائع کی ہے۔ جب مَیں نے اس کا مطالعہ کیا تو بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ان کی کتاب کا بنیادی مقصد معاشرے کی طہارت اور پاکیزگی ہے۔  بقول علامہ عبدالستار عاصم انسان کا جسم آلائشوں سے پاک ہوگا تو اس کی روح بھی پاکیزہ ہوجائے گی۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسی بیماریاں ہیں جو گندگی کی وجہ سے پھیل رہی ہیں، اگر ہم صفائی ستھرائی کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں، بلکہ یہ صحت مند اور توانا زندگی کی ضمانت بھی ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ اس کے متبعین، خاص طور پر دعوت کے میدان میں کام کرنے والے جب معاشرے میں جائیں تو نمایاں ہوں۔ لوگ ان کی طرف دیکھنا چاہیں، نہ کہ ان کو دیکھنے سے اذیت محسوس کریں اور وہ نگاہوں میں حقیر ہوں۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں کہ انسان اپنے لباس اور ظاہری ہیئت میں بہت زیادہ بے اعتنائی اور بے توجہی سے کام لے اور یہ دعوی کرے کہ یہ زہد اور تقویٰ ہے۔ 

اسلام نے نماز کی قبولیت کو طہارت کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے ایمان والو! جب تم نماز پڑھنے کے لئے چلو تو اپنے منہ  اور ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سر کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھولو“۔ احادیث کی کتابوں سے لے کر فقہ کی چھوٹی بڑی کتابوں کے ہزاروں صفحات میں طہارت و پاکیزگی کے متعلق طویل بحثیں پڑھنے کو ملتی ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے انسانی معاشرے کو صفائی کا ایک شان دار نظام دیا ہے اور کسی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا۔ طہارت کو نماز کی شرط قرار دے کر تو ہر انسان کو صفائی کاعادی بنادیا گیا ہے، کیونکہ صحت کا دار و مدار  بڑی حد تک صفائی اور پاکیزگی پر ہے۔طہارت، پاکیزگی اور صفائی کو اسلام کے مطابق ایمان کا نصف حصہ شمار کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی عبادت اس وقت تک قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کرسکتی، جب تک اس سے قبل، عبادت گزار اپنے آپ کو کم از کم جسمانی طور پر پاک و صاف نہ کرلے، بلکہ صوفیائے کرام اور بزرگان دین تو اس امر پر زور دیتے ہیں کہ طہارت اور پاکیزگی صرف جسمانی اعتبار سے ضروری اور لازمی نہیں،بلکہ دلی، قلبی اور روحانی طور پر بھی پاکیزگی لازمی ٹھہرتی ہے۔ عبادت کی شرط اول پاک، صاف اور ستھرا ہونا ہے ورنہ عبادت کامقصد پورا نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ پاک اور مطاہر لوگوں کو پسند کرتا ہے۔

طہارت دو طرح کی ہے۔ ایک ظاہری دوسری باطنی۔ ظاہری طہارت کے بغیر عبادت قبول نہیں اور باطنی طہارت کے بغیر وصل خدا میسر نہیں۔ ظاہری طہارت غسل اور وضو سے حاصل ہوتی ہے، جبکہ باطنی طہارت توبہ اور یادالٰہی سے ملتی ہے۔ جو لوگ خدا کے طالب ہوتے ہیں، وہ ہمیشہ ظاہراً پاک صاف رہتے ہیں اور باطن میں اپنی روح کو گندے خیالات سے پاکیزہ رکھتے ہیں۔قرآن پاک میں مختلف مقامات پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پاک صاف رہنے کی تاکید فرمائی ہے تاکہ انسان غلاظت سے پاکیزہ رہنے میں کوشاں رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب صفہ کی تعریف میں فرمایا: ”اس میں وہ مرد(عبادت کرتے)ہیں جو خوب صاف ستھرے ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ خوب صاف ستھرا ہونے والوں کو پسند فرماتا ہے“……طہارت کے فضائل میں سے ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ طہارت روز قیامت کو علامت (پہچان)بنے گی۔ روز قیامت  جب تمام انبیاء کی امتیں ایک ہی مقام پر موجود ہوں گی تو ان میں امت مسلمہ کی پہچان کی ایک علامت ہوگی اور وہ علامت طہارت کے باعث ہوگی، یعنی اہل طہارت کے چہرے چمکتے ہوں گے۔ جس سے فوراً پتہ چل جائے گا کہ یہ رسول اکرمﷺ کے امتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے صفائی کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنائیں، کیونکہ صفائی ستھرائی کی بہت فضلیت ہے۔ انسان بیماریوں کے ساتھ ساتھ بدگمانی سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ جسمانی صفائی سے لے کر روح کی صفائی کا تعلق ایک جیسا ہی ہے،اس لئے ہمیں عملی طور پر اپنی زندگی کو صفائی کا حصہ بنانا چاہیے۔”پاکیزہ زندگی“ پڑھ کر انسان کا ایمان تازہ ہوجاتا ہے۔ روح و قلب کو سکون ملتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -