قرآن اور ہم 

قرآن اور ہم 
قرآن اور ہم 

  

سورۂ ابراہیم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف لائیں“۔اس کتاب سے مراد قرآن پاک ہے جس کا سب سے پہلا مقصد یا وصف کہہ لیں، یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے اللہ پاک فرماتے ہیں کہ  اے نبی ﷺ آپ لوگوں کو اندھیروں سے اجالے میں لا سکتے ہیں۔سورۂ بقرہ میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ اللہ ایمان لانے والوں کا دوست ہے اور وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے، جبکہ کافروں کے دوست شیاطین ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔قرآن پاک کا سب سے بڑا اور اہم کام یہ ہے کہ اگر انسان اس قرآن کو مضبوطی سے تھام لیں تو یہ انہیں روشنیوں کی طرف لے جاتا ہے اور جو کوئی اسے چھوڑ دے، وہ اندھیروں کا مسافر بن جاتا ہے۔

یہ قرآن پاک اللہ کے قرب کا بھی سب سے اہم ذریعہ ہے۔ا للہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم کی عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ ہمیں اسے پڑھنے اور اس میں تدبر و تفکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہم جتنا اس میں تدبر و تفکر کریں گے، اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا۔ قرآن کریم کی تلاوت سے زیادہ کسی بھی چیز سے اللہ عز و جل کا تقرب حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے ذریعے ہی اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے واقف ہو سکتے ہیں اور شریعت کے احکام و اوامر سے مطلع ہو سکتے ہیں۔ آپ ﷺکا ارشاد ہے کہ”اللہ تعالی نے فرمایا کہ مَیں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے“ ……اور اللہ کو یاد کرنے کا ذریعہ اس کا قرآن ہے۔ 

قرآن کریم انسانی تاریخ اور دنیا کی واحد کتاب ہے جس میں پچھلے چودہ سو سال سے کوئی زیر زبر کا فرق نہیں ہے اور نہ ہی قیامت تک آئے گا۔ قرآن سے قبل 313 صحیفے اور تین آسمانی کتابیں نازل ہوئیں اور یہ قرآن پاک ان کا نچوڑ ہے۔قرآن کے علاوہ تین الہامی کتابیں زبور، توریت، انجیل آج اصل حالت میں موجود نہیں ہیں، آپ امریکہ،برطانیہ، ناروے،کینیڈا الغرض کسی بھی عیسائی ملک میں چلے جائیں، آپ کو انجیل کے نسخے ایک جیسے نہیں ملیں گے، اس کے مقابلے میں دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں آپ کو قرآن ایک جیسا ہی ملے گا، جیسا آج سے چودہ سو سال قبل نازل ہو اتھا۔دنیا کا کوئی مصنف گارنٹی نہیں دے سکتا کہ اس کی کتاب سو سال بعد ہو بہو اسی حالت میں موجود ہو گی، بلکہ کوئی یہ دعویٰ بھی نہیں کر سکتا کہ اس کی زبان سو سال بعد دنیا میں ہو گی بھی کہ نہیں، لیکن اللہ نے فرما دیا کہ  قیامت تک کیلئے قرآن تبدیل نہ ہونے والی کتاب ہے۔ یہ قرآن کا ہی اعجاز ہے کہ جو اس سے جڑ گیا وہ دنیا میں معزز ہو گیا اور جو اس سے دور ہو گیا، وہ دنیا میں رسوا ہو گیا۔

قرآن مکہ میں،اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر امت محمدیہ کی فلاح کیلئے نازل ہوا تو آپ غور کریں کہ جہاں جہاں قرآن کا تعلق بنتا گیا، وہ چیز وہ انسان دنیا میں سب سے معزز اور اعلیٰ ہوتے گئے۔مکہ میں نازل ہوا تو مکہ شہر دنیا کا سب سے مکرم شہر بن گیا، حضرت محمد ﷺ پر نازل ہو اتو وہ اللہ کے محبوب نبی بن گئے، جس رات نازل ہوا، وہ لیلۃ القدر بن گئی۔ امت محمدیہ کی فلاح کیلئے نازل ہوا تو وہ امت تمام امتوں کی سردار بن گئی۔اس کے مقابلے میں دیکھیں کہ جنہوں نے قرآن کو جھٹلایا، وہ ابوجہل بن گیا اور دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس کا نام ناکام و نامراد لوگوں میں لکھ دیا گیا اور آخرت میں بھی ان کیلئے ناکامیاں ہی ناکامیاں ہیں۔ الغرض قرآن نہ صرف ہمارے اخروی مسائل کا حل ہے، بلکہ ہمارے معاشرتی مسائل کا حل بھی قرآن پاک میں موجود ہے۔ خانگی مسائل سے لے کر جائیداد کے گھمبیر مسائل کا احاطہ قرآن پاک ہی کرتا ہے۔اس کے علاوہ ہماری معیشت قرآن سے جڑی ہوئی ہے، کیونکہ اللہ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ سود اللہ کے ساتھ جنگ ہے اور آج ہم نے سود کو پکڑا ہوا ہے، جس کی وجہ سے ہم دنیا میں رسوا ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں، جس نے میرے ذکر سے منہ موڑا میں اس کی معیشت تنگ کر دوں گا“۔اللہ کا ذکر یہ ہے کہ قرآن پاک کی تلاوت کرنا اور اس کو سمجھ کر پڑھنا،اس کے احکامات کو سمجھنا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ہم سے مخاطب ہو کر ہمیں کیا سمجھانا چاہ رہے ہیں۔ اس پر اگر ہم غور نہیں کریں گے تو جس طرح آج امت مسلمہ پوری دنیا میں ذلیل ہو رہی ہے، وہ صرف قرآن سے دوری ہی کی وجہ سے ہے۔ بقول علامہ محمد اقبالؒ 

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر 

اورتم خوار ہوئے تارک قراں ہو کر

مزید :

رائے -کالم -