ہم نے ویکسین لگوائی

ہم نے ویکسین لگوائی
ہم نے ویکسین لگوائی

  

 ہماری سب سے بڑی بیٹی  ڈاکٹر ہیں صرف ایم بی بی ایس نہیں بلکہ ماہر و اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر ہیں میں نے انہیں اپنا معالج تسلیم کر لیا ہے صرف اس لئے نہیں کہ وہ میری بیٹی ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ ماہر اور زیرک ڈاکٹر ہیں۔ ہماری بیٹی نے ویکسین لگوانے کے لئے ہماری رجسٹریشن کرائی۔ پھر ہمیں کوڈ نمبر اور ویکسینشن سینڑ کی اطلاع بذریعہ ایس ایم ایس ملی۔ 

بیٹی کی ہدایت پر ہم نے میسیج میں دیئے گئے سینڑ کی تلاش شروع کی ریلوے ڈسپنسری ہمار ا سینٹر قرار دیا گیا تھا۔ ہم انجیکشن لگوانے کے لئے تیار ہو کر نکلے۔ ریلوے آفیسرز کا لونی میو گارڈن میں گئے۔ پتہ چلا یہاں کلب میں ایک ڈسپنسری ہے ڈھونڈتے ڈھانڈتے یہاں پہنچے تو پتہ چلا یہ تو نام کی ڈسپنسری ہے کھلتی نہیں ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ میو گارڈن میں ہی ایک اور ڈسپنسری بھی واقع ہے ٹیوب ویل کے ساتھ، مسجد کی اوٹ میں خجل خوار ہوتے ہوئے وہاں تک پہنچے تو ویرانی ہی ویرانی تھی۔ پھر یہاں کچھ معززین نے بتایا کہ ریلوے کیرن اسپتال چلے جائیں شاید وہاں ویکسی نیشن مرکز قائم ہو۔ وھاں پہنچے تو ایک ڈیوٹی ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی انہوں نے ایسی کسی بھی ڈسپنسری کی موجودگی سے لاعلمی کا اظہار کیا لیکن انہوں نے بتایا کہ والٹن میں شاید ریلوے کی ایسی کوئی ڈسپنسری قائم ہو۔ وہاں چلے جانے کا مشورہ زھر لگا۔ کیرن اسپتال گڑھی شاہو ریلوے سٹیشن کے پاس ہے وہاں سے والٹن جانا ایک مہم نظر آئی۔ جھنجلاہٹ میں ایک انقلابی فیصلہ کیا۔ لیکن اس سے پہلے ذرا ان کاوشوں کا بھی ذکر ہو جائے جو ہماری بیٹی نے ریلوے ڈسپنسری ڈھونڈنے کے لئے "آن لائن   " کیں۔ گوگل کے ذریعے ڈھونڈ یا ڈالی گئی لیکن کچھ نہیں ملا پھر سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے بھی "منزل  مقصود "تلاش کرنے کی کاوشیں کی گئیں لیکن بے سود۔

اسی سرکاری ویب سائٹ میں ایک کھڑکی تھی جس میں لکھا ہوا تھا کہ اگر آپ اپنا ویکسینشن مرکز تبدیل کر نا چاہیں تو یہاں آکر کر سکتے ہیں۔ میں اور میری بیٹی اس کھڑکی سے بھی سر ٹکرا کر نڈھال ہوتے رہے لیکن مثبت جواب تو دور کی بات کسی قسم کا بھی جواب نہیں ملا۔ یہ ویب سائٹ مکمل طور پر خاموش تھی۔ پھر ایک ھیلپ لائن نمبر دیا گیا تھا اس سے بھی سر کھپاتے رہے وہ بھی کسی قسم کا جواب دینے سے عاری نظر آیا۔ بالآخر ہم بغیر کسی اطلاع کے حکومت پنجاب کے محکمہ صحت کی طرف سے قائم کردہ سب سے بڑے ویکسینیشن مرکز کی طرف چل پڑے۔ ایکسپو سینڑ۔ جو ہر ٹاؤن۔ رات 10 بجے وہاں پہنچے تو ایک نئی دنیا سے پالا پڑا۔ ایسا لگا کہ پورا لاہور ہی اس طرف امڈ آیا ہے گاڑیوں کی لمبی دو رویہ بلکہ سہ رویہ قطاریں،چیونٹی کی رفتار سے چلتی ہوئی ایکسپو سینڑ میں داخل ہو رہی تھیں۔ ھال نمبر 3,2,1 مکمل طور پر سیل نظر آئے ان پر ایک مہیب اداسی چھائی ہوئی تھی۔ ان ھالوں میں داخل ہونے کا راستہ شاید کسی اور طرف تھا یہاں کو رونا کے مریضوں کو رکھا گیا تھا۔ ھال نمبر 4۔صرف اسی ھال میں ویکسینیشن مرکز قائم تھا دور سے ہی دو رویہ، طویل، بہت طویل قطاریں بنی نظر آئیں۔ ایسا لگا کہ شاید آج سحری یہاں ہی کرنا پڑے گی۔ لوگوں کو لانے لے جانے والی خصوصی گاڑیاں متحرک تھیں ایسی گاڑیاں ائیر پورٹ پر ہی نظر آتی ہیں انہیں یہاں فعال دیکھ کر حیرت ہوئی۔

پھر جب قطار میں کھڑے ہوئے تو ایک چاک و چوبند، تمیز دار گارڈ نے یہ کہہ کر ہمارا حوصلہ بڑھایا کہ”گھبرانا نہیں آپ 10/15 منٹوں میں ہال میں پہنچا دئیے جائیں گے“۔  قطاروں میں نوجوان اور بوڑھے، مرد و خواتین اور لڑکے لڑکیاں بھی موجود تھے ہمیں ڈر تھا کہ کہیں ہمیں انجیکشن لگانے سے انکار ہی نہ ہو جائے کیونکہ ہمارے پاس ایکسپو سینٹر میں انجیکشن لگوانے کا سرکار ی اجازت نامہ نہیں تھا۔ خیر جب چند منٹوں کے بعد ھال میں داخل ہونے کی اجازت ملی بلکہ ہماری باری آگئی تو وہاں حیرت ناک منظر دیکھنے کو ملا بہت سے کاؤنٹر رجسٹریشن کا کام کر رہے تھے چاک و چوبند نوجوان لڑکے لڑکیاں رجسٹریشن کر رہے تھے اور ہر فرد 2/4 یا زیادہ سے زیادہ 5 منٹ میں رجسٹریشن فارم لے کر اگلے ھال میں انجیکشن لگوانے کے لئے چلا جاتا تھا۔ ہماری باری آئی ہم نے ڈرتے ڈرتے اپنا شناختی کارڈ نوجوان کے حوالے کیا اور انہیں اپنے فون پر وصول کردہ میسج دکھانے کی کوشش کی تو اس نے کہا اسکی ضرورت نہیں ہے آپ آگئے ہیں ہمارے لئے یہی کافی ہے 4/5 منٹ میں اس نے رجسٹریشن فارم مکمل کر کے ہمارے ہاتھ میں تھما دیا اس نے صرف ہمارا موبائل فون نمبر پوچھ کر درج کیا باقی سب کوائف ہمارے شناختی کارڈ نمبر کی مدد سے نادرا سے حاصل کئے گئے تھے۔

جب ویکسنیشن ھال میں داخل ہوئے تو وہاں بہت سے کیبن بنے ہوئے تھے ہر کیبن میں ویکسینیڑ لڑکے لڑکیاں انجیکشن لگانے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے یہاں ہمیں اپنی باری کا انتظار نہیں کرنا پڑا۔ ہم ایک لڑکے کے پاس گئے۔ ہم نے اب تک انجیکشن اپنی بیٹی کے ھاتھوں سے ہی لگوایا ہے کیونکہ اس انجیکشن لگوانے میں بیٹی کی باپ کے لئے شفقت اور محبت بھی شامل رہی ہے اسلئے ہمیں کبھی درد کا احساس نہیں ہوا۔ زندگی میں پہلی مرتبہ کسی دوسرے سے انجیکشن لگواتے ہوئے ہمیں ذرا جھجک محسوس ہو رہی تھی مگر نوجوان نے بڑی مہارت سے بغیر کسی درد کے انجیکشن لگایا۔ اس کے بعد باہر نکلتے ہوئے ہمیں ایک خاتون نے بتایا کہ اگر آپ ویکسینشین کا سرٹفکیٹ لینا چاہیں تو نادرا کی ویب سائٹ پر جا کر حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم رات گئے سرشاری کے ساتھ گھر واپس آئے۔ ایک صاحب الرائے شہری کے طور پر میری رائے ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کورونا سے نمٹنے کے لئے جو کچھ کر رہی ہیں وہ انہی کے شایان ِ شان ہے وہ ایک پیشہ ور ڈاکٹر ہیں اور ھیلتھ سیکڑ کو سمجھتی ہیں انکی منصوبہ سازی قابل ستائش ہے -

مزید :

رائے -کالم -