حکومت کی کارکردگی، قابلِ فخر یا……

حکومت کی کارکردگی، قابلِ فخر یا……
حکومت کی کارکردگی، قابلِ فخر یا……

  

آج کل یہ موضوع زیر بحث ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی تقریباً پونے تین سالہ کارکردگی کیا ہے، وزیراعظم اسے قابلِ فخر گردانتے ہیں مخالفین اسے شرمندگی سے تعبیر کرتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کی رائے ہے کہ عام لوگوں کو فریقین کی حمایت یا مخالف دلائل سے کوئی غرض نہیں عام لوگوں کا سوال صرف یہ ہے کہ کیا انہیں ان کی ضروریاتِ زندگی ان کی قوت خرید کے مطابق مل رہی ہیں‘کیا وہ بجلی،گیس یا دیگر یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کرنے کی سکت رکھتے ہیں؟ کیا ان کے اہل خاندان  کو دو وقت کا کھانا با عزت طور پر بروقت مل رہا ہے؟کیا انہیں زندگی گزارنے کیلئے آمد و رفت کے مناسب وسائل میسر ہیں؟کیا انہیں چینی قطار میں کھڑے ہوئے بغیر ضرورت کے مطابق ارزاں نرخوں پر مل رہی ہے؟کیا انہیں معیاری آٹا حکومت کی مقررہ قیمت پر مل رہا ہے؟کیاانہیں روزگار کے حسب ضرورت مواقع میسر ہیں؟کیا انہیں متعلقہ اداروں سے انصاف مل رہا ہے؟کیا عام آدمی اس دور میں اپنے آپ کو محفوظ ہاتھو ں میں سمجھتا ہے؟کیا اس کے بچوں کو معیاری تعلیم آسانی سے مل رہی ہے؟کیا اسے بیماریوں سے علاج کیلئے طبی سہولیات مل رہی ہیں؟کیا تھانے کچہری میں انہیں متعلقہ مسائل کے آسا ن حل کی سہولتیں میسر ہیں؟

کیا نچلی سطح پر سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں کرپشن میں کمی واقع ہوئی یا پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہوگیا ہے؟کیا نچلی سطح پر فوری احتساب کا عمل شروع ہوچکا ہے؟اگر یہ سب عام آدمی کو حسب ضرورت حاصل ہورہا ہے تو سمجھ لیں کہ حکومت کی کارکردگی قابل فخر ہے کیونکہ عام آدمی کا یہ مسئلہ ہی نہیں  کہ ملک کی معیشت بہترہورہی ہے یا نہیں،حکومت سیاسی طور پر مضبوط ہے یا نہیں‘بڑا کرپٹ مافیا قابو میں آرہا ہے یا نہیں‘سینیٹ،پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی میں حکومت کے پاس اکثریت ہے یانہیں‘امریکہ کیا کررہا ہے چین کیا کہہ رہا ہے روس ہمارا حامی ہے یا نہیں‘سعودی عرب،یو اے ای یا دیگر اسلامی ممالک سے کوئی امداد مل رہی ہے یا نہیں‘آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو قرضہ یا امداد دے رہے ہیں یا نہیں،حکومت قرضے واپس کررہی ہے یا نہیں،عام آدمی ان جھمیلوں میں پڑتا ہی نہیں حکومت خواہ کسی کی بھی ہو اسے اگر یہ سب سہولتیں مل رہی ہیں تو اس کے مطابق سب اچھا ہے اور حکومت کی کارکردگی قابل فخر ہے،بصورت دیگر اس کے نزدیک حکومت کی کارکردگی باعث شرمندگی ہی تصورہوگی اور وہ اپوزیشن کے مؤقف کودرست تسلیم کرے۔جہاں تک عام آدمی کا تعلق ہے تو وہ اتنا غیر جانبدار ہے کہ وہ حکومت کو کرونا جیسی مہلک بیماری کی رعایت بھی دینے کو تیار نہیں۔

وہ اتنا بے خوف ہے کہ آسانی سے ماسک پہننے کو بھی تیار نہیں ہوتا‘وہ موج میں آتا ہے تو بلّے کو بھی ووٹ دے دیتا ہے اور جب ناراض ہوجائے تو ”شیر“ کو بھی ووٹ نہیں دیتا وہ تو بس اپنے بچوں اور اہل خانہ کیلئے ہی فکر مند ہے،وہ تو یہ بھی نہیں سوچتا کہ کیا اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کو کرپشن مافیا کے خلاف طویل جنگ میں الجھا کر ترقی و خوشحالی کی راہیں مسدود تو نہیں کردیں؟کیا اپوزیشن عمران خان کو صرف احتساب کے گرداب میں پھنسا کر ان کے وہ تمام نعرے، دعوے، وعدے،اعلانات پس ِ پشت ڈالنے میں کامیاب تو نہیں ہوگئی جو انہوں نے اپنے126روزہ دھرنوں کے دوران کیے تھے اور عوام کو شاندار نتائج کی امید بند ھائی گئی تھی،عام آدمی تو یہ بھی نہیں سوچتا کہ کرپٹ مافیا کے احتساب کی کوشش میں عمران خان کو کامیابیاں کیوں نہیں مل رہیں۔اس کے ذہن میں یہ خیال بھی نہیں آتا کہ کیا کرپٹ مافیا کے خلاف جنگ ملک کے تمام متعلقہ ادارے ایک ہی پیج پر کیوں دکھائی نہیں دے رہے؟احتساب کے عمل میں کون رکاوٹ بن رہا ہے۔حکومت اپنے ہی ساتھ شامل مفاد پرست ٹولے کی خود غرضیوں اور مفاد پرستیوں کو باریک بینی سے کیوں نہیں دیکھ رہی؟کرپٹ مافیا کے خلاف جب بھی کوئی ایکشن لیا جاتا ہے تو وہ اپنے منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچ پاتا؟ وہ با اثر کرپٹ مافیا حکومت کو کوئی اچھا کام کرنے کیوں نہیں دیتا؟وہ تو یہ بھی نہیں سوچتا کہ وزیراعظم کو اتنی بڑی تعداد میں وزیروں مشیروں کو رکھنے کی کیا مجبوری ہے؟ اور ابھی تک یہ سلسلہ کیوں جاری ہے؟وہ اپنوں کی ہی بلیک میلنگ کو کیسے برداشت کررہے ہیں؟

اس کے ذہن میں تو یہ سوچ بھی نہیں آتی کہ حکومت اوپر کی سطح پر کرپشن کے خاتمہ کی کوشش کے دوران نچلی سطح پر کرپشن سے پیش آنے والے تکلیف دہ اثرات کو کیوں بھول گئی؟ اور جو تکالیف وہ برداشت کررہا ہے ان کی موجودگی میں وہ اپنے ووٹ حکومت کے حق میں کیسے استوار کرسکتا ہے؟کسی نے عام آدمی کے ذہن میں جب یہ ڈالنے کی کوشش کی کہ پی ٹی آئی کی حکومت ضمنی انتخابات مسلسل کیو ں ہار رہی ہے تو اس کے ذہن میں اپنی اہمیت کا احساس پیدا ہورہا ہے۔اس سے قبل کہ وہ اپنے غصے اور ناراضی پر قابو نہ رکھ سکے اور اپنے تین سالہ پرانے خیالات، توقعات اور امیدیں ٹوٹتی محسوس کرے اور اپنے  ووٹ کا پھر غلط استعمال کر بیٹھے حکومت کو ریلیف دینے کیلئے کوئی فوری اقدام اٹھانا پڑے گا۔

مزید :

رائے -کالم -