بغیر پروٹوکول دورے کا اناڑی ہدایت کار 

بغیر پروٹوکول دورے کا اناڑی ہدایت کار 
بغیر پروٹوکول دورے کا اناڑی ہدایت کار 

  

ہدایت کار اچھا نہ ہو تو فلم ہٹ نہیں ہوتی چاہے فلم کا ہیرو کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو۔ حکمرانوں کے اردگر یوں تو ایسے بہت سے کردار موجود ہوتے ہیں جو انہیں عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے مختلف ڈرامے کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، حکمران بھی راضی ہو جاتے ہیں مگر بنیادی غلطی یہ کرتے ہیں کہ ہدایت کار اچھا نہیں رکھتے، اب وزیر اعظم عمران خان کے اسلام آباد ماڈل بازار کے بغیر پروٹوکول دورے کی فلم کو ڈبہ فلم قرار دیا جا رہا ہے۔ لکشمی چوک لاہور میں واقع فلمی اداروں کے دفاتر میں جا کے بآسانی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ڈبہ فلم کسے کہتے ہیں۔ وہ فلم جو اپنی بے ربط کہانی، بے کار ایکٹنگ اور کمزور ہدایت کاری کے باعث پٹ جائے اسے ڈبہ فلم کہا جاتا ہے یعنی اس کی ریلیں ڈبے میں بند ہو جاتی ہیں اب کہا یہ جا رہا ہے کہ سینٹر فیصل جاوید وزیر اعظم عمران خان کو امیج بلڈنگ کے لئے ایسے کاموں پر آمادہ کرتے ہیں اس سے پہلے انہوں نے عوام سے براہ راست رابطے کا ٹیلی فونک پروگرام دیا، اس میں اتنے جھول تھے کہ سب کچھ عیاں ہو گیا،

خیر اس میں تو پھر بھی کچھ پردہ رہ گیا لیکن یہ ماڈل بازار کا دورہ تو ایسی حماقت ثابت ہوا کہ اب تک اس کی سوشل میڈیا پر در گت بنائی جا رہی ہے لوگ بھی بہت تیز ہیں، وہ یو ٹیوب پر موجود پچھلی ویڈیوز نکال لاتے ہیں اور پھر موازنہ کرتے ہیں، وزیر اعظم عمران خان کے اس دورے کے جواب میں سابق وزیر اعظم نوازشریف کے اسلام آباد کے بازاروں کی ویڈیوز سامنے لے آئے، جہاں وہ واقعی بغیر پروٹوکول کے دورہ کرتے نظر آ رہے ہیں، اردگرد لوگوں کا ہجوم ہے اور وہ درمیان کھڑے اشیا کے بھاؤ بھی پوچھ رہے ہیں اور خریداروں سے باتیں بھی کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ دورے بھی منصوبہ بندی سے ہی کئے گئے ہوں گے تاہم ہدایتکار بہتر تھا، اس لئے پردہ پڑا رہا۔ ہدایت کار تو جنرل ضیاء الحق کو بھی اچھا نہیں ملا تھا اور سائیکل پر دفتر جانے کی مشق ایک مذاق بن گئی تھی۔

وزیر اعظم عمران خان کو اچھا ہدایت کار مل گیا ہوتا تو ان کا ماڈل بازار کا دورہ بھی ہٹ ہو سکتا تھا۔ مثلاً وہ گاڑی خود چلا کر ماڈل بازار تک آتے ہیں، گاڑی کے آگے کوئی پروٹوکول گاڑی نہیں، وہ ٹریفک سگنل پر رکتے ہیں، یہاں تک بھی ڈرامہ  اچھا نظر آتا ہے مگر جونہی وہ گاڑی سے اتر کر ماڈل بازار میں قدم رکھتے ہیں کمزور ہدایتکاری اور سکرپٹ کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔ ان کے ساتھ پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ہیں، اور فیصل جاوید رننگ کمنٹری کر رہے ہیں ارے بھائی پاکستان میں کون سا بازار ہے جہاں صرف دکاندار ہی موجود  ہوتے ہیں، گاہک دور دور تک نظر نہیں آتے۔ پھر کیمرے کی زد میں وہ تمام سکیورٹی سٹاف بھی آتا ہے، جو وزیر اعظم کی حفاظت پر مامور ہوتا ہے۔ اگر وزیر اعظم بغیر پروٹوکول کے آئے تھے تو یہ سٹاف کہاں سے آیا اور پہلے سے کیسے موجود تھا۔

پھر یہ واحد ماڈل بازار تھا جہاں ماہ رمضان میں دن کے وقت سموسے اور پکوڑے تلے جا رہے تھے۔ ان کا ڈھیر لگا ہوا تھا، مگر خریدنے والا ایک آدمی بھی موجود نہیں تھا، سوائے وزیر اعظم کے جو صرف حال چال ہی پوچھ رہے تھے۔ وہاں کوئی خاتون بھی دور دور تک نظر نہیں آ رہی تھی۔ حالانکہ ایسے بازاروں میں ان کی تعداد زیادہ ہوتی ہے ہاں اس بات کی داد دینی پڑے گی کہ وزیر اعظم عمران خان نے اداکاری لا جواب کی، ان کے اسٹالوں پر کھڑے افراد سے مکالمے بروقت تھے۔ مگر انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ ”آج گاہک کہاں گئے؟“ کیا مہنگائی کی وجہ سے تو ان بازاروں میں نہیں آئے۔ انہوں نے پھلوں کی قیمتیں پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا کہ کس بھاؤ مل رہے ہیں۔ انہوں نے وہاں ریٹ لسٹیں بھی چیک نہیں کیں تاکہ انہیں اندازہ ہوتا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ اشیائے صرف کی قیمتیں کیا مقرر کر رہی ہے۔ گویا فلم میں جھول ہی جھول تھے اور صاف لگ رہا تھا کہ کمزور ہدایتکار نے ساری لٹیا ڈبو دی ہے اس سے تو کہیں بہتر تھا کہ وہ پورے پروٹوکول کے ساتھ وہاں جاتے اشیاء کا معیار اور قیمتیں چیک کرتے اور پھر وزیر اعظم ہاؤس میں ایک اجلاس بلا کے سارے حالات کا جائزہ لیتے۔

آیئے اب دیکھتے ہیں کہ اس سارے ڈرامے کے ہدایتکار اگر کامیاب فلموں کے کوئی ہدایت کار ہوتے تو اسے کیسے ترتیب دیتے۔ وہ سٹوڈیو میں سیٹ لگا کر جو فلمی ماحول بناتے ہیں، اسی طرح کا سیٹ اسلام آباد کے ماڈل بازار میں لگواتے۔ وہ سرکاری بندوں کو مختلف رنگوں اور ڈیزائنوں کے کپڑے پہنا کر بازار میں کھڑا کرتے۔ ان میں کچھ گاہک ہوتے اور کچھ دکاندار، پھر وہ اسلام آباد پولیس کی لیڈی کانسٹیبلوں کو برقعے اور کہیں جینز پہنا کر ان سے خریداری کی ایکٹنگ کراتے، کہیں ایک دو جگہ ان کی دکاندار سے توتکار بھی کرواتے اور وہاں وزیر اعظم عمران خان کی انٹری ڈالتے۔ جن سے خواتین شکایت کرتیں کہ مہنگائی بہت ہے اور یہ سب دکانداروں کی ناجائز منافع خوری کا نتیجہ ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کہتے ہم اس کا سد باب کر رہے ہیں اور جلد ہی مہنگائی میں کمی آ جائے گی۔ ماڈل بازار میں چینی کا ایک سٹال بھی دکھایا جاتا جہاں وافر مقدار میں چینی موجود ہوتی اور دکاندار گاہکوں کے انتظار میں مکھیاں مار رہا ہوتا۔ سید نور اس بات کا پورا پورا خیال رکھتے کہ کیمرے کی زد میں کوئی سکیورٹی اہلکار بیگ اٹھائے نظر نہ آئے۔ اگر سیکیورٹی والے ہوتے بھی تو ان کے لباس محنت مزدوری کرنے والوں جیسے ہوتے۔ وہ وزیر اعظم سے یہ مکالمہ بھی ضرور بلواتے کہ ریاستِ مدینہ میں کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا اور کسی کو ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں تھی۔ دن کے وقت دکانداروں کو سموسے اور پکوڑے تلتے نہ دکھاتے بلکہ بیسن اور میدہ بناتے دکھایا جاتا۔ کچھ خواتین پھلوں کے شاپر بھر کے لے جاتی دکھائی جاتیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ ملک میں اتنی خوشحالی ہے کہ ساڑھے چار سو کلو مرغی کا گوشت اور 280 روپے درجن انڈے بھی لوگ بآسانی خرید کر لے جا رہے ہیں۔ اچھی ہدایتکاری سے بہت کچھ ہو سکتا تھا لیکن فیصل جاوید کی کمزور ڈائریکشن نے لٹیا ڈبو دی۔

 اندھے کو بھی پتہ ہے وزیر اعظم تو کیا وزیر اعلیٰ بھی پروٹوکول کے بغیر کہیں نہیں جا سکتا شاید وزیر عظم کے مشیران ابھی تک وزیر اعظم کی ان تقریروں کے سحر میں مبتلا ہیں جو انہوں نے اپوزیشن رہنما کے طور پر کی تھیں اور کہا تھا وہ وی آئی پی کلچر اور پروٹوکول کا خاتمہ کر دیں گے۔ ابھی چند روز پہلے وزیر اعظم کوئٹہ گئے تھے تو ان کے پروٹوکول میں 36 گاڑیاں تھیں جس پر خاصی نکتہ چینی ہو رہی تھی غالباً اسی کا توڑ کرنے کے لئے اسلام آباد ماڈل بازار کا بغیر پروٹوکول دورہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سب کچھ ارینج تھا، بہتر تو یہی ہے کہ اب وزیر اعظم ہاؤس میں ایک ہدایتکار کی پوسٹ بھی پیدا کی جائے۔ پھر آپ جتنے مرضی ڈرامے کریں کم از کم جگ ہنسائی تو نہیں ہو گی۔

مزید :

رائے -کالم -