ایشو کی جگہ نان ایشو، مہنگائی کی جگہ الیکٹرونک ووٹنگ زیر بحث

 ایشو کی جگہ نان ایشو، مہنگائی کی جگہ الیکٹرونک ووٹنگ زیر بحث
 ایشو کی جگہ نان ایشو، مہنگائی کی جگہ الیکٹرونک ووٹنگ زیر بحث

  

ہمارے ملک میں ”ایشو اور نان ایشو“ کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے اور جب بھی اصل مسائل درپیش ہوں تو کوئی نہ کوئی غیر متعلق معاملہ محاذ آرائی کے لئے استعمال ہونے لگتا ہے اور ایسے ہی کسی ”نان ایشو“ کے سبب ”حقیقی ایشو“ دب کر رہ جاتا ہے۔ اس وقت ملک کورونا کی تیسری لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ رمضان المبارک کا تیسرا عشرہ بھی شروع ہو چکا، فروٹ  اشیاء خوردنی و ضرورت کے نرخ عام آدمی تو کجا سفید پوش حضرات کی پہنچ سے بھی باہر ہو چکے ہیں، اس حوالے سے اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔ رمضان بازار لگا کر قومی خزانے سے دی جانے والی سبسڈی بھی ضائع ہو رہی ہے، اس سے ”کچھ پیٹ“ ہی بھر رہے ہیں عام لوگ تو چینی اور آٹے کے لئے قطاروں میں رل کر رہ گئے ہیں۔ ایسا احساس ہونے لگا ہے کہ حکومت سے جو کام کروائے گئے یہ سب وہی ہیں جو پہلے سے ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ منافع خور بڑے تجربہ کار ہیں وہ جانتے ہیں کہ صورت حال سے کس طرح فائدہ  افھاتا ہے اور وہ کامیاب بھی ہیں۔

اس سلسلے میں تجربہ کار حضرات ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ رسد و طلب ہی سے حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ منڈی میں اشیاء کی آمد زیادہ ہو گی تو نرخ بھی از خود گریں گے بہر حال یہ سلسلہ جاری ہے ہے۔ لیکن اس عرصہ میں کراچی کے حلقہ این اے 249 میں ہونے والے ضمنی انتخابات نے ایک بالکل ہی مختلف بحث چھیڑ دی ہے حکومت الیکٹرونک ووٹنگ مشین کو بہتر جانتی ہے۔ جبکہ اپوزیشن کے خیال میں یہ تجویز پٹ چکی ہے کہ الیکشن کمیشن نے بھی اتفاق نہیں کیا تھا، وزیر اعظم انتخابی اصلاحات کے حوالے سے اپوزیشن کو دعوت دیتے ہیں اور اپوزیشن انکار کر رہی ہے جبکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں والی تجویز کو اپوزیشن نے مسترد کر دیا، اس سلسلے میں جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ بھی تو مبہم ہے۔ اگر پارلیمان میں مسئلہ حل کرانا ہے تو پھر پارلیمان ہی میں جانا چاہئے۔ کہا گیا کہ آرڈی ننس لے آئیں گے۔ یہ کہنا مذاکرات کی دعوت کو ٹھکرانا ہے۔ قومی اسمبلی میں مجلس قائمہ موجود ہیں۔ اگر اصلاحات لانا ہی ہیں تو قومی اسمبلی میں تجویز پیش کر کے اسے مجلس قائمہ میں لا کر بات ہو سکتی ہے کہ مجلس قائمہ میں دونوں اطراف کے رکن ہوتے ہیں لیکن یہاں اس کے بر عکس کہا جا رہا ہے۔

ایک طرف یہ حالات ہیں تو دوسری طرف پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے بات بڑھ کر پی ڈی ایم تک پہنچ گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے مطابق پیپلزپارٹی اور اے این پی واپس آ سکتی ہیں، لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے پھڈے میں حافظ حمد اللہ بھی کود پڑے ہیں۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کو تنقید کا نشانہ بنا لیا ہے۔ پہلے حلقہ این اے 249 کے حوالے سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن)  آمنے سامنے ہیں  حمد اللہ کا طرز تخاطب ایسا ہے جس سے مولانا فضل الرحمن کی دعوت والی نفی ہوتی ہے۔ اس لئے پیپلزپارٹی اور اے این پی کی واپسی نظر نہیں آتی۔ گفتگو صرف سیاسی ضرورت ہے۔

وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے بھی لاہور میں پروٹوکول کے بغیر دورہ کیا۔ کورونا کی صورت حال کا جائزہ لینے کے علاوہ انہوں نے صفائی کی ابتر حالت کا بھی نوٹس لیا اور سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایل ڈبلیو ایم سی کے حکام سے کہا ہے کہ کوڑا فوراً اٹھایا جائے۔ تمام تر دعوؤں اور ڈانٹ کے باوجود لاہور میں صفائی کی صورت حال بہتر نہیں ہو سکی۔ جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر پڑے ہیں جبکہ یونین کونسل کی سطح پر نہ تو صفائی ہوتی ہے اور نہ ہی کوڑا اٹھایا جاتا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ وحدت روڈ جیسی بڑی سڑک جو رواں رہتی ہے اور سرکاری اہل کار بھی یہاں سے گزرتے ہیں، یہاں بھی کوڑے کے ڈھیر صاف نظر آتے ہیں۔ ابھی تک مچھر مار سپرے بھی شروع نہیں کیا گیا جو کورونا وبا کی وجہ سے اور بھی ضروری ہو چکا ہوا ہے۔

کورونا کے حوالے سے اب احساس تو پیدا ہوا لیکن لاپرواہی کا انداز وہی ہے، ایکسپو سنٹر میں ویکسین لگوانے کا رجحان یکایک بڑھ گیا ہے۔ اب تو 50 برس اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو بھی ”واک ان“ کی سہولت دے دی گئی ہے۔ لیکن مراکز نہیں بڑھائے گئے۔ ایکسپو سنٹر میں بنائے گئے ویکسی نیشن کیمپ میں لمبی لمبی قطاریں نظر آنے لگی ہیں۔ ایسے میں سماجی فاصلہ کیسے رہ سکتا ہے۔ حکومت کو مزید سنٹر بنانا چاہئیں۔

مزید :

رائے -کالم -