ہسپتالوں میں سہولیات ناپید،شہریوں کی اکثریت  کوروناایس و پیز سے بے خبر

 ہسپتالوں میں سہولیات ناپید،شہریوں کی اکثریت  کوروناایس و پیز سے بے خبر

  

خیبرپختونخوا میں عالمگیر وبا کورونا  شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور متاثرین کے حوالے سے معاملات خطرناک حدوں کو چھو رہے ہیں، اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جبکہ علاج اور ویکسینیشن کی رفتار تسلی بخش دکھائی نہیں دیتی۔ جہاں تک امور صحت کا تعلق ہے تو کورونا کے بیشتر مریض سرکاری ہسپتالوں میں جانے سے کترا رہے ہیں جہاں ایک بیڈ پر تین تین مریضوں کی موجودگی خوف و ہراس میں اضافہ کر رہی ہے جبکہ شہری احتیاطی تدابیر کو بھی در خور اعتنا نہیں سمجھ رہے۔ ایل آر ایچ میں کورونا کے مخصوص وارڈ بھی ساز و سامان سے مکمل طور پر لیس نہیں ہیں جبکہ چھوٹے ہسپتالوں کا خیر کیا ہی کہنا۔ اب ایک جدید سرکاری ہسپتال حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی نے تنقید کا ایک اور دروازہ کھول دیا ہے، ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ ہاسٹل کے دروازے کے ساتھ پڑے سامان میں لگی جس  نے بجلی کی تاروں کو لپیٹ میں لے لیا جس کے بعد ہاسٹل  خالی کرا لیا گیا ہے۔اس معاملے میں بعض اطراف سے مجرمانہ غفلت کی اطلاعات بھی ملی ہیں اس حوالے سے بھی مکمل اور باریک بینی سے تفتیش کی جانی چاہئے۔  شہریوں میں کورونا کا خوف و ہراس تو تھا ہی اب عید سے قبل لاک ڈاؤن کی صورت حال نے تشویش کو بھی جنم دیا ہے۔ عام لوگوں بالخصوص تاجر طبقے میں بے سکونی پائی جاتی ہے اور وہ پریشان ہیں کہ 8 مئی کے بعد کاروبار کی کیا صورت حال ہو گی جبکہ ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو چلا کہ کاروبار زندگی معطلی کا شکار ہے اب اگر مارکیٹیں اور ٹرانسپورٹ سمیت سب کچھ بند کر دیا جائے گا تو ہمارا اور اہل خانہ کا کیا بنے گا۔ اگرچہ سرکاری طور پر اس حوالے سے باقاعدہ کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا تاہم سینہ بہ سینہ یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ 8 مئی سے صوبے بھر میں مکمل لاک ڈاؤن ہوگا۔ دو تین روز سے صوبائی دارالحکومت سمیت مختلف علاقو ں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز سمیت نیٹ کیفے بھی بند کر دیئے گئے جس سے شہریوں کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس قسم کی خبروں نے ابہام اور تشویش کو جنم دیا ہے، پر تاجروں کی مختلف تنظیموں نے لاک ڈاؤن کے مجوزہ فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور موقف اختیار کیا ہے کہ ہم کم و بیش دو سال سے فارغ بیٹھے ہیں اور عید الفطر سے قبل کمائی کے دنوں میں بھی شٹر ڈاؤن کر دیا جائے تو بال بچوں کا پیٹ کیسے پالیں گے، اس قسم کے فیصلے ہمارے معاشی قتل کے مترادف ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صورت حال پر تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے اور کورونا سے بچاؤ کے لئے ٹھوس اقدامات یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تاجر طبقے کی مجبوریوں اور معاشی حالات کے پیش نظر کوئی مثبت راستہ اپنایا جائے۔ 

دوسری جانب یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے پولیس بھی سرگرم ہو گئی ہے اور گزشتہ دو تین روز کے دوران سٹی ٹریفک پولیس پشاور نے ماسک نہ پہننے پر ہزاروں افراد کیخلاف کارروائی ہے جبکہ بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ کی بندش کے حکومتی احکامات کی خلاف ورزی پر سیکڑوں گاڑیوں کو ٹرمینل میں بند اور درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا، اسی طرح شہر کے مختلف سیکٹروں میں شہریوں میں کورونا سے بچاو کے لئے ماسک اور سینی ٹائزر بھی تقسیم کئے جاتے رہے۔

کے پی میں امن و امان کی صورت حال میں کوئی واضح بہتری دکھائی نہیں دے رہی بالخصوص دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے معاملات میں کمی ضرور آئی ہے لیکن ان پر قابو نہیں پایا جا سکا، پشاور سمیت دیگر علاقوں بالخصوص بنوں میں پولیس اہلکاروں یا پارٹیوں پر حملوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ بنوں میں گزشتہ روز بھی ایک کانسٹیبل کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا، اس واقعہ کو ابتدائی طور پر ٹارگٹ کلنگ ہی کہا گیا کیونکہ مقتول یا اس کے خاندان کی کسی سے کوئی دشمنی سامنے نہیں آئی، پولیس کی دو ٹیمیں اس حوالے سے مصروف تفتیش ہیں۔ قبل ازیں بھی بنوں میں پولیس افسر اور اہلکار نشانہ بنتے رہے ہیں، اوپر تلے ہونے والے واقعات کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ بنوں کی سرحدیں کیونکہ وزیرستان سے متصل ہیں اور سرحد پار سے حملہ آوروں کا یہاں داخلہ آسان ہے اس لئے امن دشمن کارروائیوں کے لئے بنوں کا انتخاب کیا جانا آسان ٹارگٹ ہے۔

جب سے امریکہ نے افغانستان سے فوجی انخلاء کا اعلان کیا ہے امن دشمن کارروائیوں کا سلسلہ بھی بڑھ رہا ہے اور اس کے اثرات پاکستانی علاقوں میں بھی ہیں، اگرچہ خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقوں لنڈی کوتل، وزیرستان، پارا چنار، چترال، ڈی آئی خان اور پشاور سمیت دیگر مقامات پر سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کئے جا رہے ہیں اور کے پی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے خاصے سرگرم دکھائی دے رہے ہیں اس کے باوجود کابل اور اس سے متصل پاکستانی علاقوں میں امن مخالف کارروائیوں کے خطرات بدستور منڈلا رہے ہیں۔ افغانستان میں جو گروہ سرگرم عمل ہیں، ان کی یا سہولت کاروں کی پاکستان میں روپوشی کی اطلاعات بھی ملتی رہتی ہیں، اس حوالے سے بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کابل سمیت دیگر افغان علاقوں میں ایک روز میں کئی کئی واقعات رونما ہور ہے ہیں، تازہ ترین اطلاع یہ آئی ہے کہ دو روز قبل افغانستان کے جنوب مغربی صوبے فراہ میں ایک فوجی چیک پوسٹ پر طالبان کے حملے میں 7 فوجی جاں بحق ہوگئے۔

اس قسم کے سنگین واقعات جہاں افغانستان میں امن کے خواب کی تکمیل میں رکاوٹ ہیں وہاں امریکی افواج کے انخلاء کو بھی ڈسٹرب کر سکتے ہیں اس لئے فریقین کو چاہئے کہ وہ امن و امان کے قیام کو پہلی ترجیح کے طور پر لیں اور ایسا ٹھوس لائحہ عمل اپنائیں جو امن دشمن گروہوں کی مذموم کارروائیوں کے آگے بند باندھ سکے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ہمیشہ سے ہماری یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ افغانستان جلد از جلد امن کا گہوارہ بنے جو پاکستان کے امن کی ضمانت بھی ہے۔ ابھی گزشتہ روز  پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چینی سفیر نونگ رونگ نے ملاقات کی جس میں خصوصی طور پر  افغان امن عمل میں پیشرفت پرتبادلہ خیال کیاگیا۔،چینی سفیرنے خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔ اس موقع پر افغانستان اور پاکستان کی طرف سے امن و امان کے قیام کے لئے مشترکہ جدوجہد کے تمام پہلو بھی زیر بحث آئے اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کا امن افغانستان سے جڑا ہوا ہے۔

8 مئی سے مکمل لاک ڈاؤن ابہام کا شکار، تاجروں نے  بھرپور مخالفت کر دی

احتیاطی تدابیر نہ کرنے والے شہریوں کے خلاف پولیس ان ایکشن، مقدمات، گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ ماسک و سینی ٹائزر بھی تقسیم کئے گئے

امریکی افواج کے افغانستان کے انخلاء کی اطلاعات پر پاکستانی علاقوں میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات

مزید :

ایڈیشن 1 -