پیپلزپارٹی کی فتح، مسلم لیگ (ن) کا ٹاکرا، بات الیکشن کمیشن تک پہنچ گئی

پیپلزپارٹی کی فتح، مسلم لیگ (ن) کا ٹاکرا، بات الیکشن کمیشن تک پہنچ گئی

  

کراچی۔سیاسی ڈائری 

مبشرمیر

قومی اسمبلی کی نشست کے  حلقہ این اے 249کے ضمنی الیکشن میں نتائج کے اعتبار سے دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی اور کچھ باتیں مشترکہ ہیں۔کراچی شہر کی نشستیں حاصل کرنا پیپلزپارٹی کی خواہش اولین رہی ہے۔اس ضمنی الیکشن میں اسے اس کا مزا مل گیا۔گوکہ ہارنے والی جماعتوں نے نتائج تسلیم نہیں کیے۔خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مفتاح اسماعیل جو گنتی کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہیں۔عام خیال کیا جارہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو یہ سیٹ مل جائے گی اور فیصل واوڈا پر زبردستی جیتنے کا الزام بھی قدرے نرم پڑ جائے گا لیکن نتیجہ پی پی پی کے حق میں آگیا۔سوالات تو بہت سے اٹھے خاص طور پر نتائج روکنے کی روایت برقرار رہی۔اس مرتبہ تحریک انصاف الزامات سے بچ گئی اور دو حلیف، حریف بن گئے۔گویا پی ڈی ایم کی دو پارٹیوں میں لڑائی ٹھن گئی۔اب دونوں کے درمیان الزامات اور لفظی گولہ باری کی جنگ جاری ہے۔

جیتنے والے امیدوار ایڈوکیٹ قادر خان مندوخیل جن  کا تعلق بلوچستان کے ضلع ژوب سے ہے ایک عرصے سے کراچی میں وکالت کررہے ہیں۔انسانی حقوق کے حوالے سے ان کا کام بہت حد سراہا جاتا ہے۔قادر خان مندوخیل نے حیران کن کامیابی سمیٹی،دیکھا جائے گا کہ اگر دوبارہ گنتی میں بھی ان کا پلڑا بھاری رہا تو الیکشن کمیشن ان کی جیت کا باقاعدہ اعلان کردے گا۔تحریک انصاف کا امیدوار اس قدر پیچھے چلاجائے گا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔تحریک انصاف ایک بہتر حکمت عملی کے ساتھ الیکشن مہم بھی نہیں چلاسکی جو اس کی کراچی اور سندھ کی تنظیم کی کمزوری ہے۔کالعدم تحریک لبیک کے امیدوار  بھی مسلسل حیران کررہے ہیں۔اس کے امیدوار نے ڈسکہ سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن میں بھی آٹھ ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔یوں یہ دکھائی دے رہا ہے کہ ایک اور مکتبہ فکر کی سیاسی جماعت ہر جگہ پر ووٹرز کو متاثر کررہی ہے۔

مفتاح اسماعیل اگر چہ الیکشن نہیں جیت سکے لیکن ان کی انتخابی مہم بہت متاثر کن تھی۔ان کے والد محترم نے بلدیہ کے علاقے میں رفاعی کاموں میں بہت خدمات انجام دی ہوئی ہیں۔غالباً اسی کا اثر تھا کہ لوگ ان کو کامیاب امیدوار تصور کرتے تھے۔ایم کیو ایم کے لیے مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔خاص طور پر بلدیہ فیکٹری کا سانحہ اسی کے دور میں پیش آیا تھا اور گورنر عشرت العباد خان تھے جن کا انداز سانحہ کے بعد غیر جانبدار نہیں تھا۔اس کی سزا اب بھی ایم کیو ایم اور اس سے وابستہ لوگوں کو ملتی رہے گی۔پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے جیتنے کا اعلان بھی کردیا تھا۔مصطفی کمال اپنی اپوزیشن سے ایک مرتبہ پھر اپنا قد قاٹھ بڑھانے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن الیکشن کے نتائج سے ان کو نقصان ہوگیا۔کیا ہی اچھا ہو کہ سید مصطفی کمال خود انتخابی عمل کا حصہ بننے سے گریز کریں اور اپنے امیدوار ہی میدان میں اتارا کریں۔

این اے 249کے نتائج اپنی جگہ لیکن ٹرن آؤٹ 21فیصد ہونا عوام کی عدم دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔گویا حلقے کے 79فیصد ووٹرز الیکشن میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے۔چھ سیاسی جماعتیں ایڑی چوٹی کا زور لگاکر اور ٹی چینلز پر زوردار ٹاک شوز کی مدد سے بھی ایک پسماندہ حلقے کے عوام کو ووٹ ڈالنے کے لیے متحرک نہیں کرسکیں۔گویا عوام کی اکثریت بھی اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اصلاحات کے بغیر یہ انتخابی عمل قابل بھروسہ نہیں ہے۔جمہوریت کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے۔

الیکشن کے نتیجے  کے فوراً بعد تحریک انصاف نے انتخابی اصلاحات کی بات شروع کی ہے اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما شہباز شریف نے الیکٹرونک ووٹنگ کی مخالفت کردی ہے جوحیرت کی بات ہے۔پاکستان میں نادرا ایک قابل بھروسہ ادارہ بن چکا ہے۔شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا اجراء آسان ہوچکا ہے۔موبائل فون سمز کی جانچ پڑتال میں بھی نادرا کی کارکردگی اعلیٰ رہی ہے۔مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور حکومت میں نادرا کے ایک سربراہ کو آدھی رات کے وقت ہٹانے کے آرڈر جاری کیے تھے۔ان پر دباؤ تھا کہ اس وقت تحریک انصاف جن حلقوں سے جانچ پڑتال کی بات کررہی تھی اس میں انہوں نے تعاون کی حامی بھرلی تھی۔مسلم لیگ (ن) اور دیگر سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ شفافیت کے لیے الیکشن اصلاحات پر مذاکرات پر آمادہ ہو جائیں۔  بائیو میٹرک سسٹم کو اپنایا جائے۔ اصلاحات کے عمل میں خاص طور پر یہ بات ملحوظ خاطر رکھنی چاہیے کہ مفادات کے ٹکراؤ کو ایڈریس کیا جائے۔پارٹی سربراہ اور اثر و رسوخ کے حامل سیاسی راہنما اپنے رشتہ داروں کو جس طرح ایڈجسٹ کرواتے ہیں وہ موروثی سیاست کو مزید مضبوط بنارہا ہے۔یہی وہ عمل ہے جو اقرباپروری کے ذریعے کرپشن کے راستے ہموار کرتا ہے۔اگر سیاسی راہنما اس ملک میں جمہوریت کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں تو بلدیاتی نظام پر اتفاق کرلیں اور اس نظام کو الیکٹرول کالج کا درجہ دے دیں تو بہت سے مسائل کا حل نکل آئے گا۔

شارع فیصل پر سیاسی کارکنوں کے ایک گروہ نے سندھو دیش کے نعرے لگائے اور آزادی کے بینرز کے ساتھ کھڑے ہو کر نعرے بازی کی۔اس پر مہاجر اتحاد تحریک کے سربراہ ڈاکٹر سلیم حیدر نے سخت احتجاج کیا ہے۔کراچی کی بعض تنظیموں نے اس پر کئی بار اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ کئی اداروں میں اردو بولنے والوں کو دانستہ کم کیا جارہا ہے۔ان کی جگہ سندھی ملازمین کو ترجیح دی جارہی ہے۔وفاقی حکومت کو اس حوالے سے تحقیقات کرنی چاہیے۔

حلقہ این اے 249میں ضمنی انتخاب، 21فیصد ٹرن آؤٹ پر تنقید!

شارع فیصل پر ایک تنظیم کے نعرے، مہاجر اتحاد تحریک کی طرف سے مذمت 

مزید :

ایڈیشن 1 -