اینٹی کرپشن حکام کا سرکاری کرپٹ مافیا سے مبینہ مک مکا، درخواستیں داخل دفتر، سائل رل گئے 

اینٹی کرپشن حکام کا سرکاری کرپٹ مافیا سے مبینہ مک مکا، درخواستیں داخل دفتر، ...

  

لاہور(ارشدمحمود گھمن)محکمہ اینٹی کرپشن کا صوبائی اداروں کے کرپٹ مافیا کے ساتھ گٹھ جوڑ،ڈ ی جی اینٹی کرپشن کودھوکہ میں رکھ کر قومی خزانہ کے اربوں روپے لوٹنے والے افسران کے خلاف آنے والی درخواستیں مبینہ طور پرمک مکا کر کے متعلقہ اداروں کو واپس بھجوانا شروع کردیں،کرپٹ افسروں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر درخواستیں دینے والے افراددربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبورہوگئے،تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر کے صوبائی اداروں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ،محکمہ ریونیو،ایل ڈی اے،محکمہ سی اینڈڈبلیو، محکمہ زراعت، محکمہ پولیس اور محکمہ جنگلات سمیت دیگر سرکاری اداروں کے افسروں کے خلاف کرپشن کے الزامات کی 5ہزار سے زائد اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر لاہور کو موصول ہوئیں جس میں سے آئی ٹی برانچ میں تعینات عملہ کی مبینہ ملی بھگت سے کرپٹ افسران کی انکوائری کرنے کی بجائے ان افسران کے ساتھ مبینہ مک مکا کر کے درخواستیں ان صوبائی اداروں کے متعلقہ ہیڈ کو بھجوادی جاتی ہیں جس سے مذکورہ افسران اپنے محکموں کے افسران کے ساتھ مبینہ طور پر مک مکا کرکے درخواستوں کو پس پشت ڈلوا لیتے ہیں،یادرہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کو دی جانے والی درخواستوں میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی 400، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو 1155،ایل ڈی اے کی 1796،محکمہ پولیس کی 380،محکمہ ریونیو کی972،محکمہ زراعت کی96اور محکمہ جنگلات کی102درخواستیں شامل ہیں جومتعلقہ محکموں کو واپس بھجوا دی گئی ہیں، ذرائع نے بتایا کہ جن کے خلاف درخواستیں دی گئی ہیں ان میں محکموں کے گریڈ19،18،17اور14کے افسربھی شامل ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران کے ساتھ ساز باز کررکھی ہے اور ان کے خلاف دی جانے والی درخواستوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے محکمہ اینٹی کرپشن متعلقہ محکموں کو واپس بھجوا دیتاہے،اس حوالے سے ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس کے مطابق ایسی درخواستیں جومحکمہ اینٹی کرپشن کے رولز میں نہیں آتیں ان کو متعلقہ محکموں کو ارسال کردیاجاتاہے تاہم اگر کوئی ایسی درخواست جس پر کارروائی بنتی ہو اسے بھی واپس محکمہ کو بھجوا دیاجائے تو ایسے افسر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اینٹی کرپشن حکام 

مزید :

صفحہ آخر -