ملک بھر کے سکولوں کی فیس20فیصد کم کی جائے،والدین کا مطالبہ

ملک بھر کے سکولوں کی فیس20فیصد کم کی جائے،والدین کا مطالبہ

  

لاہور(ڈویلپمنٹ سیل) 20فیصد فیسوں میں کمی کو اسلام آباد کے8 ہزار فیس لینے والے اداروں تک محدود کیوں رکھا جا رہا ہے، حالانکہ ملک بھر کے تعلیمی ادارے بند، امتحانات ملتوی، لاک ڈاؤن جاری، آن لائن پڑھائی ممکن نہیں اس کے باوجودپنجاب کے بیشتر نجی تعلیمی اداروں نے خاموشی سے 10سے 20فیصد فیسوں میں اضافہ کر دیا ہے اکیڈمیاں بند ہونے کے باوجود ٹیسٹوں کو جواز بنا کر فیس لینے پر بضد ہیں، حکومت فیسوں میں اضافہ رکوا سکی نہ والدین کو کسی قسم کا ریلیف دلانے میں کامیاب ہو سکی ہے والدین نے وزیر اعظم پاکستان سے فوری نوٹس لینے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند تعلیمی اداروں کے دورانیہ کی فیسیں معاف کرنے یا کم از کم اسلام آباد کی طرح 20فیصد کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تفصیلات کے مطابق نجی سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی ادارے گزشتہ 3ماہ سے بند ہیں حکومت نہم و دہم سمیت تمام امتحانات 15جون تک ملتوی کرنے کا اعلان کر چکی ہے سکولز، کالجز،اکیڈمیاں بند ہیں نجی تعلیمی اداروں نے فیسوں میں رعایت دینے کی بجائے خاموشی سے فیسوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے والدین شدید اضطراب کا شکار ہیں اور سراپا احتجاج ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کوئی تعلیمی ادارہ بھی لاک ڈاؤن میں تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ رہا اس کے باوجود دو دو اور تین تین ماہ کی اکٹھی ماہانہ فیس اضافہ شدہ فیس کے ساتھ لینے پر بضد ہیں یہی صورت حال اکیڈمی کی ہے بند ہونے کے باوجود والدین کو اکیڈمی میں پرچے لینے اور بچوں کی طرف سے حل کر دہ جوابات جمع کرانے کے لیے والدین کو بلواتے ہیں اور پورے ماہ میں 10ٹیسٹوں کے بدلے پوری پوری فیس لینے کا اصرار کر رہے ہیں  وا لدین نے حکومت کی طرف سے صرف وفاق  کے 8ہزار فیس لینے والے اداروں کی 20فیصد میں کمی کے اعلان پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ لاک ڈاؤں کی وجہ سے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کا فیصلہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں پر نافذ کیا جائے اور ہر سطح کے تعلیمی اداروں کی فیسوں میں رعایت کی جائے۔ 

فیس

مزید :

صفحہ آخر -