بھارت کی طرف سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی، پاکستانی چوکی پر فائرنگ، بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی، احتجاج 

    بھارت کی طرف سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی، پاکستانی چوکی پر فائرنگ، ...

  

 اسلام آباد  (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ) بھارت اپنی کارستانیوں سے باز نہ آیا، ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ورکنگ باؤنڈری پر کھلم کھلا فائرنگ کی۔پاکستان نے ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعے پر بھارت سے شدید احتجاج کرتے ہوئے سیز فائر معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان نے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے چاروا سیکٹرمیں بلا اشتعال فائرنگ کی۔ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی ناظم الامور کو گزشتہ روز طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔خیال رہے کہ رواں سال 25 فروری کو انڈیا اور پاکستانی حکام کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعدایل او سی پر سیز فائر  معاہدہ کیا گیا تھا، اس کا اعلان دونوں ممالک کے ڈی جی ایم او کے درمیان بات چیت کے بعد کیا گیا تھا۔ پاکستان نے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ  کر ایا ور   احتجاجی مراسلہ بھی  بھارتی ناظم الامور کودیا گیا  ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے جموں سیکٹر میں واقع بھارتی بی ایس ایف کی چوکی کے اہلکاروں نے بلا اشتعال پاکستان کے چارواہ سیکٹر میں چھوٹے ہتھیاروں کے تیس راؤنڈ اور 60 ملی میٹر کے چار مارٹر بم فائر کئے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 3 ٹریکٹروں پر سوار 15 بی ایس ایف اہلکار ورکنگ بانڈری عبور کر کے پاکستان کے علاقے میں داخل ہوئے۔جب پاکستان رینجرز کے جوانوں نے بی ایس ایف اہلکاروں کو تیز سائرنوں اور سیٹیوں کے ذریعے واپس بھیجنے کی کوشش کی تو انہوں نے بلا اشتعال چھوٹے ہتھیاروں اور مارٹر توپوں کے ذریعے پاکستانی چوکی پر فائرنگ شروع کر دی۔مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ جموں سیکٹر میں واقع بی ایس ایف پوسٹ نے پاکستانی چوکی پر سنائپر گن کے ذریعے بھی فائرنگ کی تاکہ کسی پاکستانی جوان کو شہید یا زخمی کیا جاسکے۔وزارت خارجہ نے کہاکہ انہیں مزید حیرانی اس بات ہوئی کہ یہ خلاف ورزی اس وقت ہوئی جب بھارتی ذرائع ابلاغ پاکستان پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔ جب بھارتی ذرائع ابلاغ میں چلنی والی خبروں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام پاکستان پر عائد کیا جا رہا تھا۔دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی بی ایس ایف اہلکاروں نے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن کو سبوتاڑ کرنے کے ارادے کے ساتھ ورکنگ باؤنڈری کو عبور اور مارٹر گولے فائر کرکے جارحانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ بھارت کی طرف سے ڈی جی ایم اوز کے 2021ء  کے معاہدے کی پہلی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بھارتی ہائی کمیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ بھارت میں متعلقہ حکام سے رابطہ کرکے ڈی جی ایم اوز کے 2021کے معاہدے پر عمل درآمد کے بارے میں بی ایس ایف اہلکاروں کے غیر مناسب رویہ ظاہر ہوتا ہے۔

دفتر خارجہ

مزید :

صفحہ اول -