ناموس رسالت ؐ کے قانون پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، مسلم ممالک اسلا مو فوبیا کیخلاف متحد ہو جائیں: عمران خان 

ناموس رسالت ؐ کے قانون پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، مسلم ممالک اسلا مو فوبیا ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)  وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ناموس رسالت کے قانون پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہم کسی کے دباؤ میں فیصلے نہیں کرتے، حکومت اپنے طور پر معاملات کو دیکھ رہی ہے، وزراء   اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے احتیاط کریں۔   وزیراعظم  نے ان خیالات کا اظہار    وفاقی کابینہ   اجلاس  کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ منگل کو ہونیوالے  کابینہ  اجلاس میں  یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد سے متعلق کابینہ ارکان  نے گفتگو کی۔   علی محمد خان نے  کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد کا سخت جواب دیا جانا چاہیئے،  جس پر وزیراعظم نے جو اب دیتے ہو ئے کہا کہ ناموس رسالت کے قانون پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہم کسی کے دباؤ میں فیصلے نہیں کرتے، ناموس رسالت ہر مسلمان کے لیے سب سے بڑھ کر ہے،حکومت اپنے طور پر معاملات کو دیکھ رہی ہے، وزیراعظم نے تنبیہ کر تے ہو ئے کہا کہ وزراء   اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے احتیاط کریں۔  کابینہ اجلاس میں مشیر تجارت رزاق داؤد  نے عیدالفطر کی 6 چھٹیاں دینے پر اعتراض کر تے ہو ئے کہا کہ عیدالفطر کی تین چھٹیاں دینی چاہئیں۔چھ چھٹیاں ہونے سے ایکسپورٹرز کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عبدالرزق دا ؤد کے خدشات کو دور کر نے کیلئے وزیراعظم نے عید کی چھٹیوں کے دوران ایکسپورٹرز کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی۔   وفاقی کابینہ نے ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا میں ممبر پروڈکشن کی تقرری  اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی 100 سال مکمل ہونے پر یادگاری سکہ جاری کرنے کی منظوری دیدی۔ کابینہ کو کورونا کیسز کی  صورتحال ایس او پیز پر عمل درآمد اور علاج معالجہ پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا میں ممبر پروڈکشن کی تقرری کی منظوری  دی۔  اجلاس میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی 100 سال مکمل ہونے پر یادگاری سکہ جاری کرنے کی منظوری  دی گئی۔ اجلاس میں ملکی اقتصادی صورتحال بارے قومی پالیسی واضع کرنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ اجلاس میں عید الفطر پر قیدیوں کی سزاوں میں خصوصی کمی کی منظوری بھی دی گئی۔۔ کابینہ نے  پاکستان ریلوے میں ریل کاپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کنسٹرکشن کی تعیناتی کی منظوری  دی۔ اجلاس میں نیشنل بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتی کی منظوری دی گئی۔  کابینہ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی تشکیل نو کی منظوری دی۔  اجلاس میں سعودی پاکستان سپریم کونسل کی تشکیل کیلئے معاہدہ کرنے کی منظوری دی گئی۔ ماحولیات کے شعبہ میں سعودی عرب کے ساتھ تعاون کیلئے ایم او یو کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے بعد صحافیوں کو فیصلوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے استعمال اور اووسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے  کی سہولت کے لئے اختیارات دینے سے متعلق 2آرڈیننس، سندھ حکومت کی درخواست پر سندھ میں ایس او پیز پر عمل درآمد کیلئے فوج تعینات کرنے،عید الفطر پر قیدیوں کی سزاؤں میں 90دن معافی کی منظوری دیدی ہے،سرکاری ملازمین نوکری سے استعفیٰ دئیے بغیر ایم پی ون اور ایم پی ٹو سکیل کے حصول،آئی پی پیز کو بقایا جات کی مد میں 40فیصد ادا کرنے اور پاک سعودی تعلقات کو مستحکم بنانے کیلئے سپریم کورآرڈینشن کمیٹی کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فواد چوہدری نے  بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے آغاز میں ہدایت دی کہ بوڑھے ماں باپ کے تحفظ کے حوالے سے قانون سازی کے عمل کو تیز کیاجائے۔ وزیراعظم کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو حق رائے کا اختیار دینے کے حوالے سے پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے بتایا کہ عید کے آخر تک مقامی طور پر تیار کی جانے والی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا ماڈل(پروٹوٹائپ مکمل طور پر تیار کر لیا جائے گااورمشیر برائے پارلیمانی امور نے بتایا کہ الیکٹرانک ووٹنگ کے حوالے سے بڑی پیش رفت میں الیکشن کمیشن ووٹنگ کے عمل کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے کرانے پر تیار ہے اور اس حوالے سے قانون سازی کی جارہی ہے۔انصاف کی فراہمی کے سول پروسیجر کوڈ میں اصلاحات کے حوالے سے وزیراعظم نے صوبہ خیبر پختونخواہ اور وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے حکومت پنجاب کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے کوششیں تیز کی جائیں تا کہ سہل اور بروقت انصاف کی فراہمی یقینی ہوسکے۔معاون خصوصی برائے صحت نے کابینہ کو کورونا کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب‘کے پی کے میں کوروناکے پھیلاؤ میں ٹھہراؤ کا رجحان دیکھا گیا ہے جوکسی حد تک تسلی بخش ہے تا ہم اس حوالے سے ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد اور این پی آئیز پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت وفاقی دارالحکومت میں این پی آئی پرعمل درآمد کی شرح 88فیصد ہے جبکہ سندھ میں یہ شرح 45فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے‘ کابینہ نے ایس او پیز پر 100فیصدعملد ررآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا۔کابینہ کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے اور گذشتہ روز ایک لاکھ 64ہزار افراد کو ویکسین لگائی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ جون‘جولائی تک 25ملین افراد کو ویکسین لگانے کا عمل مکمل ہوجائے۔کابینہ نے بریگیڈئر ریٹائرڈ عتیق احمد کو ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا بورڈ میں بطور ممبرکنٹرول تعینات کرنے کی منظوری دی۔ وفاقی کابینہ نے این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے قیام کے 100 سال مکمل ہونے پر اس ادارے کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے 100روپے کے یارگاری سکے کے اجراء کی منظوری دی۔ این ای ڈی سی یونیورسٹی کا قیام 1921میں عمل میں آیا تھا اور اب تک یہ ادارہ 60ہزار سے زائد گریجویٹس پیدا کرچکا ہے جو اندرون اور بیرون ممالک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔کابینہ نے پیسے کا سراغ لگانے کے حوالے سے نیشنل پالیسی بیان کی بھی منظوری دی،ان اقدامات کا مقصد کسی بھی ناجائز طریقے سے بنائے جانے والے پیسے کے حوالے سے قانونی اور انتظامی اقدامات کو مزید موثر بنانا ہے۔کابینہ نے احسن علی چغتائی کو نیشنل بینک آف پاکستان کے بورڈ  میں بطور پرائیویٹ ممبر تعیناتی کی منظوری دی۔ کابینہ نے محمد سہیل راجپوت کی جگہ ایڈیشنل سیکرٹری فنانس کی بطور

   سرکاری ممبر تبدیلی کی منظوری دی۔کابینہ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی تنظیم نو کی منظوری دی۔ ان ممبران کی مدت تعیناتی دو سال (برائے سال 2021-2023ء) کیلئے ہو گی۔کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سعودی۔پاکستان سپریم کوآرڈینیشن کونسل'' کے قیام کیلئے معاہدے کی منظوری دی۔ سعودی۔پاکستان سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے قیام کا فیصلہ پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت کے درمیان 2018ء میں کیا گیا۔ فروری 2019ء میں سعودی ولی عہد کے پاکستان کے دورے پر اس میں مزید پیشرفت ہوئی اس کونسل کے قیام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، معاشی اور ترقیاتی اہداف کے حوالہ سے مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے اعلیٰ سطح کے پلیٹ فارم کا قیام ہے۔ وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد اس کونسل کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ اس کونسل کے تحت تین شعبوں میں جن میں سیاسی/سکیورٹی، معاشی امور اور سماجی/کلچرل امور شامل ہیں، سربراہی متعلقہ وفاقی وزیر کریں گے۔کابینہ نے ماحولیات کے شعبہ میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین مفاہمت کی یادداشت کے مجوزہ مسودے کی منظوری دی۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد ماحولیات کے شعبہ میں درپیش چیلنجز پر قابو پانے کیلئے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔کابینہ نے امیگریشن آرڈیننس 1979ء کے تحت اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر لائسنسوں کی تنسیخ کے حوالہ سے اپیلوں کی سماعت کیلئے کابینہ ممبران (وزیر برائے تعلیم اور وزیر برائے انسانی حقوق) پر مشتمل کمیٹی کے قیام کی منظوری دی۔ یہ کمیٹی اپیلوں کے حوالہ سے سماعت کرے گی اور اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرے گی۔ پاکستان ریلویز کے آپریشنز میں نجی شعبہ کی شمولیت کو یقینی بنانے اور اس حوالہ سے نجی شعبہ کی بھرپور شمولیت کی حائل میں ایک بڑی رکاوٹ کو دور کرنے کے حوالہ سے وفاقی کابینہ نے اہم فیصلہ لیتے ہوئے نجی شعبہ کی جانب سے دی جانے والی بولیوں (بڈز) پر 10 فیصد ایڈوانس ود ہولڈنگ ٹیکس کے خاتمہ کی منظوری دی۔وفاقی کابینہ نے سیّد نجم سعید کو ریلوے کنسٹرکشن پاکستان لمیٹڈ کا چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے 8 اپریل 2021ء اور 15 اپریل 2021ء کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ ان فیصلوں میں ایک اہم فیصلہ بین الوزارتی معاملات خصوصاً کارسرکار کو مقررہ مدت میں سرانجام دینے اور اس حوالہ سے ٹائم لائن کی تعیناتی ہے۔کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 28 اپریل 2021ء کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی منظوری دی۔ ان فیصلوں میں مختلف وزارتوں کی تکنیکی اضافی گرانٹس کی درخواستوں پر فیصلے اور آئی پی پیز کو نئے انتظامات کے تحت ادائیگیوں کی پہلی قسط کی ادائیگی کی منظوری شامل تھی۔ چوہدری فواد حسین نے این اے 249میں دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹرز کا ٹرن آؤٹ انتہائی کم تھا، ضمنی انتخاب کسی تماشے سے کم نہیں تھا، کابینہ نے دو آرڈیننس کی منظوری دی ہے جس کے تحت الیکشن کمیشن ای وی ایم مشین استعمال کرسکے گا،چاہتے ہیں، ووٹنگ کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق ملے گا،شہباز شریف اور بلاول بھٹو کو پارلیمنٹ کا کردار نہیں پتہ، ہمارے اوپر نابالغ لیڈر شپ مسلط ہے جسے پارلیمان کے کردار کا علم نہیں،مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی سیاست خاتمے کے قریب ہے، وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ این اے 249 میں ری کاؤنٹنگ کا فیصلہ اس لیے آیا کہ وہاں بدترین دھاندلی ہوئی، ہمارے ہاں الیکشن کمیشن کو بہت ہی ذمے دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے، تحریکِ انصاف کراچی میں دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اتنے کم ووٹوں کے ساتھ اسمبلی میں آ جانا تماشہ لگتا ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے بھی ووٹنگ میں کمی آئی ہے، ا۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ توقع ہے کہ سیاسی جماعتیں بیرون ملک مقیم پاکستا نیوں کو ووٹ کا حق دینے میں ساتھ دینگی۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کیلئے پرعزم ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق نہیں دینا چاہتے، سمندر پار پاکستانیوں کو اتنا ہی پاکستانی سمجھتے ہیں جتنا پاکستان میں بسنے والوں کوحاصل ہے۔

وفاقی کابینہ

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ) وزیراعظم عمران خان نے تمام مذاہب کے ماننے والوں کی دل آزاری روکنے کیلئے قانونی اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار کی آڑ میں ناموس رسالت ؐ میں گستاخی ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے اور اسلام فوبیا سے بین المذاہب نفرت کو ہوا ملتی ہے مسلم دنیا کو متحد ہوکر اجتماعی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ او آئی سی کے رکن ممالک کے سفیروں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں اسلاموفوبیا کا مسئلہ پہلے سے زیادہ شدت اختیار کرچکا ہے میں نے وزیراعظم بننے کے بعد کوشش کی کہ مسلم ممالک اور مغربی دنیا کے مابین جو خلیج بڑھ رہی ہے اسے کم کیا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ اسلامی دنیا نبی کریمؐ کی ناموس میں گستاخی برداشت نہیں کرتی جبکہ مغرب اسے آزادی اظہار گردانتا ہے۔ مغربی دنیا اس معاملے پر مسلمانوں کے جذبات کو سمجھنے سے قاصر ہے اور مسلمان مغربی ممالک کے ذہن کو نہیں سمجھتے۔ مغرب کو اندازہ ہی نہیں کہ مسلمان اپنے نبی کریم ؐکا کس قدر احترام کرتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ مسلمان ممالک نے مغرب کو اپنے احساسات اور جذبات سے آگاہ کرنے کیلئے کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی۔ مغرب کیلئے مذہب کا تصور ہمارے تصور سے بہت مختلف ہے بدقسمتی سے کچھ عرصے بعد کوئی گستاخانہ واقعہ ہوتا ہے جس کے خلاف پوری مسلم دنیا میں احتجاج اور ردعمل ہوتا ہے جس پر مغرب یہ کہتا ہے کہ مسلمان تنگ نظر ہیں اور آزادی اظہار کے قائل نہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے کوشش کی کہ مسلم قیادت کو اس معاملے پر متحد کروں اور ہم مل کر مغرب اور یورپی ممالک کے رہنماؤں کو سمجھائیں کہ ہمارے نبی کریم ؐکی ناموس اور تکریم کس طرح کا معاملہ ہے اور آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ہم ناموس رسالت میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتے۔ ہمیں مغرب کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی اور اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا شدت پسندی کو اسلام سے جوڑنے سے عالمی سطح پر مسلمان متاثر ہوتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کو اس کے انتہا پسندوں سے شناخت نہیں کیا جا سکتا۔ مغرب میں کوئی ایک مسلمان اگر دہشتگردی کے کسی واقعہ میں ملوث ہو تو سارے مسلمانوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں ہے۔ہمیں مغرب کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ خود کش حملوں اور اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ او آئی سی عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے اور اسلام کے صحیح تشخص اور امن کے پیغام کو اجاگر کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بین المذہب ہم آہنگی کیلئے کوششیں کررہا ہے اسلام فوبیا سے بین المذاہب منافرت کو ہوا ملتی ہے اور تہذیبوں کے درمیان افہام وتفہیم کو نقصان پہنچتا ہے۔ اسلامی ممالک کے سفیروں نے اسلام فوبیا کے خلاف وزیراعظم کی کاوشوں کا خیرمقدم کیا۔وزیراعظم عمران خان نے قومی رابطہ کمیٹی برائے زراعت کے فورم سے ملکی زرعی شعبے کی ترقی کے راستے میں آنے والی مشکلات کو فوری طور پر حل کرنے، ترقی کے عمل کی مسلسل نگرانی اور مناسب وقت پر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے موثر فیصلہ سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی زرعی شعبے کی ترقی اب اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس ضمن میں حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ، ڈاکٹر شہباز گل، ممبر اکنامک ایڈوائزری کونسل عابد قیوم سلہری اور سینئر افسران شریک تھے۔گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، صوبہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے چیف سیکرٹری صاحبان اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس میں ملک کے زرعی شعبے کی ترقی، لائیو اسٹاک کی بحالی اور کسان کی خوشحالی کے لئے قلیل، وسط اور کثیر مدتی روڈ میپ پر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے عملدرآمد کی مربوط حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی ۔معاون خصوصی جمشید چیمہ نے گزشتہ دو سالوں میں گندم، چاول، مکئی، گنے اور آلو کی فصل کی ریکارڈ پیداوار، اور خصوصی طور پر موجودہ حکومت کی کسان دوست پالیسیوں کی بدولت کاشتکاروں کو ان ریکارڈ پیداوار کے جائز اور مناسب منافع کے ثمرات پر آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مناسب قیمتوں کی وجہ سے کاشتکاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ در حقیقت، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے کسانوں کو سبسڈی کی فراہمی اور پیداوار کی زائد قیمت مقرر کر کے کسانوں کے استحصال کو ختم کیا ہے۔معاون خصوصی نے بین الاقوامی زرعی ماڈل کا پاکستان کے زرعی ماڈل سے تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے ملک میں مستقبل کے زرعی ماڈل کا مجوزی خاکہ پیش کیا جس میں زیادہ توجہ لائیو اسٹاک کی بحالی، سبزیوں اور پھلوں کی معیاری پیداوار پر دیا گیا ہے۔صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان نی اپنے متعلقہ صوبوں میں زرعی ترقی کے منصوبوں کے بجٹ کے پی سی ون،  کسان کارڈ، ریسرچ، نرسری ڈویلپمنٹ، فوڈ پراسیسنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی بروئے کار لانے کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ دی۔شرکاء کو اس سال گندم کی حوصلہ افزاء پیداوار کے حوالے سے بھی بریف کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1960 کے بعد ملک کے زرعی شعبے پر کوئی توجہ نہ دی گئی۔ موجودہ حکومت ملک کی ترقی میں زرعی شعبے کی کلیدی حیثیت اور کسانوں کی خوشحالی کے پیش نظر اس شعبے کو ترجیحاتی بنیادوں پر ترقی سے ہمکنار کرنے کا عزم کیا ہے۔ وزیراعظم نے گزشتہ دو سال میں گندم، مکئی، چاول، گنے اور آلو کی حوصلہ افزاء پیداوار کے پیش نظر کاشتکاروں کو مزید سہولیات اور سازگار ماحول کی فراہمی یقینی بنانے اور پورے ملک میں زرعی ترقی کے نئے ویژن کے تحت زراعت کے مختلف شعبوں کی بحالی کے لئے ٹھوس اقدامات پر مبنی روڈمیپ وضع کرنے کی ہدایات دیں۔وزیراعظم نے قومی رابطہ کمیٹی برائے زراعت کے فورم سے ملکی زرعی شعبے کی ترقی کے راستے میں آنے والی مشکلات کو فوری طور پر حل کرنے، ترقی کے عمل کی مسلسل نگرانی اور مناسب وقت پر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے موثر فیصلہ سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملکی زرعی شعبے کی ترقی اب اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس ضمن میں حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -