حکومت ملک کے اسلامی تشخص کو نقصان پہنچانے کی کوششیں نہ کرے تو بہتر ہوگا: سراج الحق 

حکومت ملک کے اسلامی تشخص کو نقصان پہنچانے کی کوششیں نہ کرے تو بہتر ہوگا: سراج ...

  

اسلام آباد (این این آئی)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے چترال سے کراچی تک حکومت کے خلاف لوگوں کا غصہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ حکومتی کشتی ڈانواں ڈول اور بے سمت ہے۔ بائیس کروڑ عوام کے مستقبل سے کھیلنے والوں کو اپنے کیے کا جواب دینا پڑے گا۔ اشرافیہ  ہاتھوں میں چابک پکڑے غریبوں کی گردنوں پر سوار ہے۔ جونکوں کی طرح عوام کا خون چوسنے والوں کے دن گنے جاچکے۔ سابقہ اور موجودہ حکومتیں عوام کی محرومیوں کی برابر ذمہ دار ہیں۔ حکومت ملک کے اسلامی تشخص کو نقصان پہنچانے کی کوششیں نہ کرے تو بہتر ہوگا۔ مغرب کی تقلید میں مسجد و مدرسہ کو سر کرنے کی مہمات بے سود رہیں گی۔ حکومت کی جانب سے متعارف کیے گئے وفاقی اور صوبائی اوقاف آرڈینینسز کو مسترد کرتے ہیں، حکومت واپس لے۔ مدارس پاکستان کے نظریاتی قلعے ہیں۔ پاکستان حلال فوڈ میں دنیا کی رہنمائی کرے،اس فیلڈ میں تھوڑی سی محنت سے کثیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ مرکز علوم اسلامیہ منصورہ میں حلال فوڈ کے حوالے سے ایک تقریب میں بطور مہمان خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جامعہ منصورہ میں ایک دہائی سے زائد عرصہ سے ملائشیا کے انٹرنیشنل ادارے جاکم کے تعاون سے حلال فوڈ سے متعلق مختلف کورسز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ امیر جماعت نے تخصص فی فقہ الحلال کے دوسالہ کورس کی اختتامی تقریب میں شرکت کی۔ مہمانان اور مقررین میں جماعت اسلامی کے قائدین مولانا عبدالمالک، پروفیسر ابراہیم، حافظ ساجد انور، حافظ ادریس و دیگر شامل تھے۔سراج الحق نے کہا کہ حکومت آئے روز خود ہی اپنی غیر سنجیدگی اور نااہلی پر مہر ثبت کرتی ہے۔ پی ٹی آئی کو حکومت سنبھالے ہوئے تین برس ہونے کو ہیں مگر مجال ہے جو اس نے اب تک ایک دفعہ بھی سیاسی پختگی کا ثبوت دیا ہو اور قوم کے مفاد میں کوئی بہترفیصلہ کیا ہو۔ کرونا کی صورتحال بگڑ رہی ہے۔ 

سراج الحق 

مزید :

صفحہ آخر -