خواتین اپنی قائدانہ صلا حیتوں سے معاشرے میں مثبت کرداراداکرسکتی ہیں 

خواتین اپنی قائدانہ صلا حیتوں سے معاشرے میں مثبت کرداراداکرسکتی ہیں 

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ دنیا اپنی آبادی کا 50 فیصد خواتین کو نظر انداز کرنے کی متحمل نہیں جو اپنی قابلیت، پیداواری اور قائدانہ صلاحیتوں سے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرسکتی ہیں۔ وہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہی تھیں جس کی دعوت ان کو اے ڈی بی کی طرف سے دی گئی تھی۔اس اعلیٰ سطحی ورچوئل اجلاس کا مقصد کووڈ۔19کے بعد خواتین کی سماجی و معاشی بحالی سے متعلق بحث ومباحثے پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔پینل میں ڈاکٹر ثانیہ کے ہمراہ ماہر معاشیات، اقتصادیات اور تحقیقی محکمہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے ماہرین موجود تھے۔پینل نے کووڈ۔19 کے باعث خواتین کی ملازمتوں میں غیر متناسب حصہ کے خاتمے، لیبر مارکیٹ تک رسائی میں صنفی خلاء میں اضافے اورخواتین کی غربت میں اضافے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ بین الاقوامی ماہرین اور پالیسی سازوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایشیا بحر الکاہل کی معیشت کو معمول پر لانے کیلئے خواتین کے کام میں عدم مساوات کو دور کرنا چاہئے۔ڈاکٹر ثانیہ نے پروگرام میں صنف سے متعلق اہداف کی ضرورت پر زرو دیتے ہوئے احساس پروگرام کی مثال پر روشنی ڈالی جہاں خواتین کیلئے اضافی 50فیصد احساس فوائد پالیسی کے ذریعے انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کا ہدف موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کووڈ۔19 کے بعد ایک بڑے پیمانے پر اصلاح اور تعمیرنو کا کام ضروری ہے جس میں خواتین کا حصہ بہت اہم ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ احساس کے تحت اس وقت 250سے زیادہ پالیسیاں موجود ہیں جن میں خواتین پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ احساس کا مقصد پاکستان کی 7ملین غریب ترین خواتین کو غربت سے باہر نکالنا اور صلاحیت کے حصول میں ان کی مدد کرنا ہے۔ احساس انڈرگریجوایٹ سکالرشپ پروگرام کے تحت 4سال کیلئے ضرورت اور میرٹ پرمبنی 2 لاکھ سکالر شپ فراہم کی جاتی ہیں جس میں 50فیصد سکالرشپس لڑکیوں کو حاصل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ احساس پرائمری تعلیم اور صحت و غذائی بخش پروگراموں میں ماؤں کو مشروط مالی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔ پینل نے احساس کی خواتین سے متعلق 50 فیصد اضافی فوائد کی پالیسی کی تعریف کی جو مکمل طورپر خواتین کی بحالی پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر

مزید :

صفحہ آخر -