کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ، زمینی راستوں کے ذریعے افغانستان اور ایران سے پاکستان داخلے پر پابندی 

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ، زمینی راستوں کے ذریعے افغانستان اور ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) کورونا پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر زمینی راستوں کے ذریعے افغانستان اور ایران سے پاکستان آنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔وفاقی وزارت داخلہ نے ایران اور افغانستان کو پابندی سے متعلق آگاہ کر دیا ہے۔ ایران اور افغان شہریوں پر زمینی راستوں کی بندش کا اطلاق 5 مئی سے 20 مئی تک برقرار رہے گا۔ 5 مئی شام 6 بجے کے بعد افغانستان اور ایران کا بارڈر بند کر دیا جائے گا۔اس سلسلے میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایران اور افغانستان میں موجود پاکستانی شہری واپس آ سکیں گے جبکہ افغان شہریوں کو انتہائی ضروری طبی امداد کیلئے پاکستان آنے کی اجازت دی جائے گی۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اور ایران سے آنیوالے مسافروں کے کورونا ٹیسٹ کیلئے بارڈر پر طبی عملہ دوگنا کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اہم اجلاس میں کورونا وائرس کی تیسری لہر اور اس کے پھیلاؤ کے پیش نظر سرحد کو دو ہفتوں کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔یہ فیصلہ این سی او سی اجلاس میں کورونا وائرس کی نئی اقسام اور پھیلاؤ روکنے کیلئے افغانستان اور ایران کے ساتھ لینڈ بارڈر مینجمنٹ کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا تھا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرحد دو ہفتوں کے لیے بند تاہم تجارت جاری رہے گی۔ کورونا پازیٹو آنے پر مسافر متعلقہ ملک واپس جائے گا۔ایران اور افغانستان سے سرحد کی بندش 4 اور 5 مئی کی درمیانی شب سے نافذ ہو کر 19 اور 20 مئی کی درمیانی شب تک لاگو رہے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان پابندیوں کا کارگو، باہمی تجارت اور پاک افغان ٹریڈ پر اطلاق نہیں ہوگا۔ باڈرز ٹرمینل پر تمام ڈرائیورز اور معاون ڈرائیورز کی تھرل سیکنگ ہوگی۔ مثبت رپورٹ آنے والے افراد کو پالیسی کے تحت ڈیل کیا جائے گا۔این سی او سی کا کہنا ہے کہ افغانستان اور ایران جانے والوں کو واپسی کی اجازت ہو گی۔ دونوں ممالک سے زمینی راستے کے ذریعے آنے والے پاکستانی مسافروں کا آر اے ٹی ٹیسٹ ہوگا۔ مثبت کیس آنے پر پاکستانیوں کو قریبی قرنطینہ سینٹر منتقل کیا جائے گا۔

سرحد بند

مزید :

صفحہ اول -