الیکشن چوری کرنا چھوڑ دیں، انتخابی اصلاحات کی ضرورت نہیں،شاہد خاقان 

     الیکشن چوری کرنا چھوڑ دیں، انتخابی اصلاحات کی ضرورت نہیں،شاہد خاقان 

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ الیکشن چوری کرنا چھوڑ دیں، کسی انتخابی اصلاحات کی ضرورت نہیں، الیکٹرانک ووٹنگ مشین بنانا حکومت اور پارلیمان کا کام نہیں، وزیراعظم کہتے تھے کسی کو نہیں چھوڑیں گے، عدالتوں میں کیمرے لگا کر دکھائیں نیب کیا کر رہا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما شاہد خاقان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے بازاروں کا دورہ کیا، اشیا پڑی تھیں، خریدار کوئی نہیں تھا، ایک سرکاری افسر کیساتھ حکومتی عہدیداروں کا سلوک سب نے دیکھا، سرکاری افسر سے معافی مانگیں، یہ آپ کے نہیں سرکار کے ملازم ہیں، 73 سالہ تاریخ میں 3 سال میں آٹے کی قیمت دگنی کبھی نہیں ہوئی۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کمیشن ہی بنا دیں آٹے کی قیمت کیسے دگنی ہوگئی، آپ نے چینی کی قیمت کم کرنے کیلئے کیا کارروائی کی؟ ترین صاحب پر جو کیس بنائے گئے اس میں چینی کا کوئی تعلق نہیں، 3 سال میں بجلی 200 فیصد مہنگی ہوگئی، سرکلر ڈیٹ اس شرح پر پہنچ گیا جو معیشت برداشت نہیں کرسکتی۔پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما شاہد خاقان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم جس کام کی نگرانی کا کہتے ہیں اس کا بیڑہ غرق ہوجاتاہے، وزیراعظم نے کہا تھا کہ رمضان میں قیمتوں کے معاملات کی نگرانی خود کروں گا اور اپریل میں سب سے زیادہ مہنگائی ریکارڈ ہوئی، وزیراعظم نے بازاروں کا دورہ کیا، وہاں اشیا پڑی تھیں لیکن خریدار کوئی نہیں تھا۔ 

شاہد خاقان

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیر خزانہ شوکت ترین نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج طلب کرلیا،ای سی سی 18 نکاتی ایجنڈے پر غور کرے گی، کے الیکٹرک کو این ٹی ڈی سے اضافی بجلی فراہمی کی منظوری دی جائے گی۔ ایجنڈے کے مطابق آفشور سپلائی کنٹریکٹرز کو ہونیوالی ادائیگیوں پر ٹیکس کا معاملہ ایجنڈے میں شامل ہے،اجلاس میں بجلی پر سبسڈی کو پہلے مرحلے میں مستحقین تک محدود کرنے کا جائزہ لیا جائے گا،نومبر 2019 سے جون 2020 تک فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے نیپرا کے فیصلے پر بھی غور ہوگا، وزیر اعظم کامیاب جوان انٹر پینورشپ سکیم کا جائزہ لیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کی بلڈنگ تعمیر کرنے کیلئے 57 کروڑ اور وزارت دفاع، پٹرولیم ڈویژن و دیگر کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹ جبکہ فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ کیلئے 1 ارب 56 کروڑ کی منظوری کا امکان ہے۔ آکسیجن کی تیاری کیلئے صنعت کو بلا تعطل کام کی اجازت دینے پر غور ہوگا،ملک میں آکسیجن کی تیاری صرف طبی ضرورت کیلئے ہوگی،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق برآمد اور درآمد پالیسی 2020 کے اطلاق پر غور ہوگا۔

 اقتصادی رابطہ کمیٹی 

مزید :

صفحہ اول -