جنوبی پنجاب میں کنزیومر کورٹ سے رجوع کرنیکا رجحان انتہائی کم

  جنوبی پنجاب میں کنزیومر کورٹ سے رجوع کرنیکا رجحان انتہائی کم

  

 ملتان (  خصو صی رپورٹر  ) کنزیومر کورٹ ملتان میں 9 ماہ بعد بھی جج کی تعیناتی عمل میں نہ آسکی۔ اسی سبب ملتان کے 370 سے زائد کیسز التوا کا شکار ہیں۔ خانیوال کے 38 کیسز، 60 کیسز وہاڑی اور 18 مقدمات لودھراں شہر کیبھی شامل ہیں۔کنزیومر کورٹ میں سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں، ڈاکٹرز اور انشورنس کمپنیوں کے خلاف درخواستیں (بقیہ نمبر2صفحہ6پر)

دائر ہیں۔شہریوں نے کورئیر،موبائل،کار اور گھریلو سامان بنانے والی کمپنیوں سمیت دیگر کے خلاف کیسز دائر کر رکھے ہیں لیکن عدالت میں جج کی عدم تعیناتی سے سائلین دھکے کھانے پرمجبور ہیں۔وکلا کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب میں کنزیومر کورٹ سے رجوع کرنے کا رجحان انتہائی کم ہے۔سروسز اور اشیا کی فروخت کے لیے دھوکہ دہی اور غلط بیانی پر کنزیومر کورٹ صارفین کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے لیکن جج کی تعیناتی نہ ہونے سے انصاف کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔

التواء کا شکار

مزید :

ملتان صفحہ آخر -