نیب ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مقدمات کا اندراج کرے، لاہور ہائیکورٹ

نیب ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مقدمات کا اندراج کرے، لاہور ہائیکورٹ

  

ملتان (  خصو صی رپورٹر  ) لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کے ججز مسٹر جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور مسٹر جسٹس انوارالحق پنوں پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ڈی ایچ اے کی اراضی کی خریداری میں 95 کروڑ روپے کے مبینہ فراڈ میں ملوث ملزمان محمد افضل بھنڈر اور امجد ججہ کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کرتے ہوئے پر ڈی جی نیب پر اظہار برہمی کیا عدالت نے قرار دیا (بقیہ نمبر30صفحہ6پر)

کہ نیب ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مقدمات کا اندراج کرے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جس کو چاہیں کسی بھی مقدمہ میں الجھا دیں۔ عدالت نے انہیں طلب کیا تھا ڈی جی نیب نے بیان دیا کہ ملزمان کے خلاف گواہوں نے شہادتیں قلمبند کرادی ہیں جس پر ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری مسترد کردی گئی۔عدالت عالیہ نے قرار دیا تھا کہ نیب مقدمات کو خوامخواہ طول دیتے ہیں عائد کردہ الزامات اور استغاثہ کی کہانی ثابت نہیں ہوئی۔ اس مقدمہ کے مرکزی کردار ریٹائرڈ کرنل ظفر باجوہ کی ضمانت ہوچکی ہے۔قبل ازیں عدالت عالیہ میں ملزم افضل بھنڈر کے وکیل رانا محمد آصف سعید اور ملزم امجد ججہ کے وکیل شیخ جمشید حیات نے موقف اختیار کیا کہ کہانی میں کوئی ربط نہیں اور نہ ہی کوئی الزام ثابت ہوتا ہ ایسا لگتا ہے کہ سنی سنائی کہانی کی بنیاد پر دو شہریوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا اور الزام ثابت کئے بغیر میں انہیں گرفتار کرکے جیل بھجوادیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ ڈی ایچ اے کالونی کے پراجیکٹ کے لیے اراضی کی خریداری ریٹائرڈ کرنل ظفر باجوا کرتا تھا جو کہ انتہائی چالاک اور شاطر تھا اس نے محمد افضل بھنڈر کی سادگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے اپنے ساتھ ملا کر پراپرٹی کی خریداری کا سلسلہ شروع کر دیا افضل بھنڈر جو کہ کالونی کا قانونی اور منظور شدہ پراپرٹی ڈیلر تھا جس کے نام پر لوگوں کے ساتھ دھوکا کیا گیا وہ بیرون ملک مقیم تھا جب اسے پتہ چلا کہ اس کے نام پر فراڈ ہو رہا ہے تو نے حفاظتی ضمانت حاصل کی تھی۔ تاہم عدالت نے وکلا کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا۔

لاہور ہائیکورٹ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -