زندگی اے زندگی دیکھ میری بے بسی

 زندگی اے زندگی دیکھ میری بے بسی

  

ملتان میں منشیات فروشوں نے پولیس اور افسروں اور سیاسی شخصیات کی آشیر باد سے پنجے گاڑ رکھے ہیں جبکہ سپلائی کا نیٹ ورک گلی محلوں،پوش علاقوں اور تعلیمی اداروں تک پھیلا دیا گیا ہے اس خطرناک ”وباء“ کا شکار طالبعلم والدین کی امیدیں خواب مٹی میں ملا کر زندہ لاشیں بن رہی ہیں لیکن پولیس اور مافیا چند سکوں کیلئے نئی نسل کو برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے اب صحت مند نوجوانوں کو  ”بیمار“پڑھے لکھے اور مختلف اداروں میں کام کرنیوالے افراد کو بے روزگار کار آمد لوگوں کو ”بیکار“کرنے کے منصوبے پر تیزی سے کام ہورہا ہے جس سے ملتان میں زندہ لاشوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے یہاں تک کہ بعض گھرانوں کے چراغ گل بھی ہوچکے ہیں زیر نظر تصویر میں گھنٹہ گھر چوک کے قریب واقع مسجد کے مرکزی گیٹ پر کافی تعداد میں نشئی موجود ہیں جو اللہ کے گھر کا تقدس پامال کرتے ہوئے سوٹے لگانے میں مصروف ہیں مگر انہیں کوئی روکنے والا نہیں ضلعی انتظامیہ پولیس عبادت گاہ کا تقدس بحال رکھنے کیلئے کیا اقدامات، اور مافیا سے کیسے نمٹے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا؟(فوٹو:شہزاد انور امروہی)

مزید :

ملتان صفحہ آخر -