سہولیات زیرو: ملتان میں 4لاکھ سے زائد افراد پر ہیپا ٹائٹس کا حملہ 

سہولیات زیرو: ملتان میں 4لاکھ سے زائد افراد پر ہیپا ٹائٹس کا حملہ 

  

  ملتان (  وقا ئع نگار  )  ضلع بھر میں ہیپاٹائٹس بی اور سی مرض بڑھنے لگا ہے۔یرقان سے متعلقہ ٹسیٹ بھی ناپید ہوگئے ملتان میں چار لاکھ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مرض کا مبتلا ہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں علاج نا ہونے برابر کی وجہ سے مریضوں نے پرائیوٹ ہسپتالوں سے علاج کروانا شروع کر دیا ہے۔یرقان کا علاج ویسے تو مہنگا ہے۔لیکن سرکاری سطح پر اس بیماری سے لڑنے کیلئے مفت ادویات کا کورس مہیا کیا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق یرقان کے مریضوں کو  ملتان کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج اور ٹیسٹ کروانے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔کم علمی اور دقیانوسی خیالات رکھنے والے حضرات حکما کے طب خانہ میں علاج کیلئے جاتے ہیں۔جس سے کئی بار مریض کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔(بقیہ نمبر53صفحہ7پر)

محکمہ صحت نے یرقان کے مریضوں کو اس مہلک مرض سے بچاو کیلئے تاحال کو ویکسین نہیں کروائی۔جو صرف اور صرف کاغذوں کی حد تک دفن ہو کر رہ گئی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق اس مریض کے پھیلا کی سب سے بڑی وجہ بھی غذا کا معتدل نا ہونا ہے  ڈاکٹروں کے مطابق ہیپاٹائٹس بیہیپاٹائٹس ایسے زیادہ خطر ناک ہوتا ہے۔ یہ خون کے ذریعے پھیلتا ہے۔ ہیپاٹائٹس بی جگر کی دائمی سوزش سے پیدا ہو سکتا ہے۔

صورتحال سنگین

مزید :

ملتان صفحہ آخر -