صحافیوں کے تحفظ کا بل آخری مراحل میں ہے،فواد چوہدری 

صحافیوں کے تحفظ کا بل آخری مراحل میں ہے،فواد چوہدری 

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کا بل آخری مراحل میں ہے۔کراچی کی صحافی تنظیموں کا موقف شامل کیاجائے گا۔ کراچی کے صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کو صحت کارڈ میں دس لاکھ روپے کی کوریج حاصل ہوگی۔ آدھی رقم سندھ حکومت کو فراہم کرنی ہے جو سندھ حکومت نے ادا نہیں کیے۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ کراچی میں جب بھی ہاسنگ اسکیم شروع ہوگی تو صحافیوں کو شامل کیاجائے گا۔ سندھ میں صحافیوں پر درج مقدمات کی لسٹیں فراہم کی جائیں، پولیس سے بات کرونگا انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت صحافیوں کو ہرممکن مدد فراہم کریگی۔ تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل سے کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے)کے وفد نے فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)کے صدر جی ایم جمالی، کے یو جے کے صدر اعجاز احمد اور جنرل سیکریٹری عاجزجمالی کی قیادت میں ملاقات کی۔ وفد میں کے یو جے کے نائب صدور لنبی جرار، ناصرشریف، جوائنٹ سیکریٹری رفیق بلوچ ایگزیکٹوکمیٹی کے ارکان شمائلہ نواز، اعمانویل سیموئیل، جاوید حسین خٹک، سمین نواز، جیوتی مہیشوری، شیریں جامی، پی ایف یو جے سندھ چیپٹر کے صدر سعید جان بلوچ، کے یو جے سابق حسن عباس اور سینئر صحافی چاند نواب موجود تھے۔ گورنرکی معاونت رکن سندھ اسمبلی جمال صدیقی ودیگر نے کی۔ جنرل سیکریٹری کے یوجے نے نو منتخب باڈی کاتعارف کرایا اورگورنر سندھ کو صحافیوں کے مسائل سے آگاہ کیا۔ کے یو جے کے صدر اعجاز احمد نے کے یو جے کی تاریخ کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے اس کے بعد سے تقریبا 8 ہزار صحافی بے روزگار ہوئے ہیں اور حکومتی سطح پر ان کی امداد کیلیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کے یو جے نے سندھ کے 19 اضلاع میں ایک ہزار سے زائدصحافیوں کو ہیلتھ کارڈ کا اجرا کیا۔ انہوں نے گورنر سندھ کے توسط سے وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ وفاقی حکومت بھی کے یو جے کے انڈوومنٹ فنڈ میں اضافے کے لیے فنڈز جاری کرے، ساتھ ہی صحافیوں کی امداد کیلیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ پی ایف یو جے کے صدر جی ایم جمالی نے کہا ہے کہ کے یو جے ہیلتھ انشورنس کا کام شروع کیا ہے اس کو تسلسل سے جاری رکھنے کیلیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے یوجے کی مزید مالی مدد کرے۔ شہید صحافیوں کیلیے وفاقی حکومت کی جانب سے اعلانات کیے گئے تھے لیکن ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ 10 سے 12 سال میں 136 صحافی شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اندرون سندھ پولیس کا صحافیوں کے ساتھ رویہ بہت پریشان کن ہے اور بے جا مقدمات بنائے جارہے ہیں اور اے ٹی سی کی دفعات بھی شامل کی جارہی ہیں۔ اس معاملے میں سکھر، گھوٹکی و دیگر اضلاع کی صورتحال بہت خراب ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی ہاسنگ اسکیم میں صحافیوں کو بھی شامل کیا جائے اور صحافیوں کیلیے کوٹہ مختص کیاجائے۔ کے یو جے کے سابق صدر حسن عباس نے کہا کہ سندھ پروٹیکشن بل اور وفاقی حکومت کی سطح پر پروٹیکشن بل جلد بناکر صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اس میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔

مزید :

صفحہ اول -