سعودی حکام نے جنت کے پتھر حجر اسود کی قریب ترین تصویر جاری کردی

سعودی حکام نے جنت کے پتھر حجر اسود کی قریب ترین تصویر جاری کردی
سعودی حکام نے جنت کے پتھر حجر اسود کی قریب ترین تصویر جاری کردی

  

مکہ المکرمہ (ویب ڈیسک) سعودی حکام نے حجر اسود کی قریب ترین تصویر بنالی۔

سعودی وزارت اطلاعات کے حکام کے مطابق تصویر میں حجر اسود کا 49 ہزار میگاپکسل تک کلوزاپ دکھایا گیا ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ حجر اسود کی اتنی باریک اور شفاف تصویر بنائی گئی ہے۔

حکام سعودی وزارت اطلاعات نے کہا کہ حجر اسود جنت کا پتھر ہے، اس انتہائی خوبصورت تصویر میں 49 ہزار میگاپکسل تک کلوز شاٹ بنایا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنت کتنی خوبصورت ہوگی۔

انتہائی باریک بینی سے بنائی گئی اس تصویر میں فوٹوگرافی کی جدید تکنیک فوکس اسٹیک پینورما استعمال کی گئی ہے جس میں کسی بھی شے کی چھوٹی چھوٹی تصاویر کو جوڑ کر بڑی واضح تصویر بنائی جاتی ہے۔ اس تصویر کو کھینچنے میں 7 گھنٹے اور یکجا کرنے میں 50 گھنٹے لگے۔

حجر اسود کا مطلب ہے سیاہ پتھر جو خانہ کعبہ کی جنوب مشرقی دیوار میں نصب ہے۔ یہ تین بڑے اور متعدد چھوٹے ٹکڑوں پرمشتمل ہے جو ڈھائی فٹ قطر کے دائرے میں جڑے ہیں۔ ان کے گرد چاندی کا گول خول لگایا ہوا ہے۔ حج یاعمرہ کے وقت مسلمان طواف کرتے ہوئے ہر بار حجراسود کو بوسہ دیتے ہیں۔

حضرت ابراہیمؑ اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیلؑ خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے تو حضرت جبرائیلؑ نے حجر اسود جنت سے لا کر دیا تھا جسے حضرت ابراہیم نے کعبے میں نصب کیا تھا۔

جب رسول اللہ کی عمر35 سال تھی تو قریش نے کعبے کی دوبارہ تعمیر کی لیکن حجر اسود رکھنے کے مسئلے پر قبائل میں جھگڑا ہو گیا۔ ہر قبیلے کی یہ خواہش تھی کہ یہ سعادت اسے ہی نصیب ہو۔  یہ طے کیا گیا کہ کل جو پہلا شخص خانہ کعبہ کی جانب آئے گا وہی اس تنازع کا فیصلہ کرے گا۔ سب سے پہلے خاتم النبیین حضور نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔

رسول اللہ نے جھگڑا ختم کرانے کے لیے حجر اسود کو ایک چادر میں رکھا اور تمام سرداران قبائل سے کہا کہ وہ چادر کے کونے پکڑ کر اٹھائیں اور خانہ کعبہ کے پاس لے کر آئیں۔ سب نے مل کر اٹھایا اور جب چادر کعبے کے پاس پہنچی آپؐ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے حجر اسود کو خانہ کعبہ میں نصب کر دیا۔

ترمذی شریف کی روایت ہے ۔ حجر اسود جنت کے یاقوت کا ایک پتھر ہے جس کے نور کو اللہ تعالیٰ نے ختم کرکے دنیا میں اتارا ہے، اگر اس کے نور کو ختم نہ کیا جاتا تو مشرق و مغرب اس کی روشنی سے منور ہوجاتے، جس وقت اس کو اتارا کیا دودھ کی طرح بالکل سفید تھا مگر بنی آدم کی خطاوٴں نے اس کو سیاہ کردیا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -عرب دنیا -