”الحفیظ نامی کمپنی کو این 95 ماسک کی فیکٹری لگوائی گئی جس کی ساری ادائیگی ۔۔“سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کی سماعت کے دوران حیران کن انکشاف 

”الحفیظ نامی کمپنی کو این 95 ماسک کی فیکٹری لگوائی گئی جس کی ساری ادائیگی ...
”الحفیظ نامی کمپنی کو این 95 ماسک کی فیکٹری لگوائی گئی جس کی ساری ادائیگی ۔۔“سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کی سماعت کے دوران حیران کن انکشاف 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سپریم کورٹ نے این ڈی ایم کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر وضاحت کیلئے چیئرمین این ڈی ایم اے کو بھی طلب کر لیا ہے جبکہ حکومت کو دو روز میں آکسیجن سلینڈر کی قیمت مقرر کرنے اور طریقہ کار وضع کرنے کا حکم بھی جاری کر دیاہے۔

سپریم کورٹ نے این ڈی ایم کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر وضاحت کیلئے چیئرمین این ڈی ایم اے کو طلب کر لیا ہے۔ ، سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ این ڈی ایم اے کے سارے معاملات ہی گڑ بڑ ہیں ، الحفیظ نامی کمپنی کو این 95 ماسک کی فیکٹری لگوائی گئی ، فیکٹری کیلئے ساری مشینری اور ڈیوٹیز کی نقد ادائیگی کی گئی ، چارٹرڈ جہاز کے ذریعے مشینری منگوائی اور اس کی ادائیگی بھی نقد ہوئی ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیش کس کو دیا گیا اور کس نے وصول کیا ، معلوم ہی نہیں ، چار پانچ مرتبہ حکم دیا تو کچھ دستاویزات دی گئیں ، اب ان دستاویزات کا بھی معلوم نہیں یہ کیا ہیں ۔ چیف نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قرنطینہ سینٹروں پر کروڑوں روپے خرچ کر دیئے گئے ، سب کو معلوم ہے کہ حاجی کیمپ قرنطینہ سینٹر کا کیا بنا، حاجی کیمپ پر کروڑوں روپے لگائے گئے ، وہاں پانی ہے نہ ہی رنگ کیا گیا ۔

سرپم کورٹ میں کورونا وائرس از خود نوٹس کی سماعت ہوئی جس دوران ڈریپ حکام نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وینٹی لیٹرسمیت کئی آلات ملک میں تیارہورہے ہیں،چیف جسٹس گلزاراحمد نے استفسار کیا کہ غیررجسٹرڈآلات اورادویات کی درآمدکی اجازت کیوں دی؟حکومت کوکیسے معلوم ہوگاکہ کونسی چیزمنگوائی جارہی ہے؟طبی آلات کی دستیابی کی کیاصورتحال ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں بتایا کہ ڈریپ اوراین ڈی ایم اے کی رپورٹس جمع کرادی ہیں، 30 اپریل کوحکومت نے غیر رجسٹرڈادویات کی درآمدکااین اوسی جاری کیا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاکوئی تحقیقات کیں کہ ادویات کیوں منگوائی جارہی ہیں؟ ڈریپ حکام نے کہا کہ کوروناسے متعلق کسی بھی دواکی قلت نہیں،ایکٹمراانجیکشن کے علاوہ کئی ادویات کااسٹاک موجودہے ۔

جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ایکٹمراکے حوالے سے کافی منفی رپورٹس ہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سٹیل سے آکسیجن کی بڑی مقدارمل سکتی ہے،پاکستان اسٹیل کے آکسیجن پلانٹ کوفعال کیاجاسکتاہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان سٹیل کاآکسیجن پلانٹ 40 سال پراناہے،آکسیجن پلانٹ فعال کرنے پرایک ارب لاگت آئے گی۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو دو روز میں آکسیجن سلینڈر کی قیمت کا تعین کرنے کا حکم جاری کر دیاہے اور کہاہے کہ قیمت کے تعین کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے ۔عدالت نے سلینڈر کی قیمتوں کا تعین کرنے کا حکم خیبر پختون خوا حکومت کی درخواست پر جاری کیا ۔اٹارنی جنرل کے پی کے کا کہناتھا کہ قیمت مقرر نہ ہونے پر سپلائرز من مانے ریٹ وصول کر رہے ہیں ، سربراہ ڈریپ نے کہا کہ آکسیجن وزارت صنعت کے ماتحت ہے ہمارا اس سے تعلق نہیں ہے ۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو آکسیجن سے متعلق تفصیلی رپورٹ فراہم کریں گے ۔

مزید :

قومی -