جناب پہلا قدم اٹھائیے ۔۔۔

جناب پہلا قدم اٹھائیے ۔۔۔
جناب پہلا قدم اٹھائیے ۔۔۔

  

 ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم

 فرض کریں آپ کو ایک دعوت میں مہمان خاص بلایا گیا ہے اور آپ کے سامنے ایک پورا بکرا روسٹ کر کے یا بھون کر رکھ دیا گیا ہے اب آپ کو وہ بکرا کھانا ہے ۔ تو آپ کو کیا کرنا چاہیے ؟ یقیناً اگر آپ سارے بکرے کے بارے میں سوچناشروع کر دیں گے تو کچھ بھی نہیں کھاسکیں گے ۔ آپ کا کام پہلا لقمہ لینا ہے یہ سوچے بغیر کے بکرا کتنا بڑا ہے اور آپ نے کتنا زیادہ کھانا ہے ۔  آپ بڑے کاموں کے بارے میں فکر مند ہونے کی بجاۓ پہلا قدم اٹھا ئیے کام خود آسان ہو جاۓ گا ۔اب میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں ۔

کیا آپ چاند پر جانا چاہتے ہیں ؟ میرے اس سوال کا جواب اگر آپ ہاں میں دیتے ہیں اور پھر آپ مجھ سے سوال کیجیے کہ کیسے ؟ تو میں اپنے کندھے اچکاتے ہوۓ بہت آسان الفاظ میں آپ کو کہوں گا پہلا قدم اٹھائیے۔ جی ہاں اگر آپ چاند پر بھی جانا چاہیں تو پہلا قدم اٹھانا ضروری ہے ۔ ہمارے کچھ دوست ایسے ہیں ہم جب ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کسی بھی موضوع پر ایسے بات کرتے ہیں جیسے وہ سب کچھ کر سکتے ہیں اور اس میدان میں ان جیسا کوئی  ماہر نہیں ۔ سن کر ہمیں بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر وہ اس میدان میں ہوتے تو دی بیسٹ تھا بلکہ بس بات ہی ختم تھی مگر حقیقت یوں ہے کہ وہ جس میدان میں اس وقت ہوتے ہیں شاید اس میں بھی کامل نہیں ہوتے۔

اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اچھا دماغ نہیں رکھتے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جتنی بحث کرتے ہیں بعض اوقات اس میدان کے لوگوں کو ہی غلط ثابت کر دیتے ہیں وہ پریکٹیکل زیرو ہوتے ہیں ۔ ان کی باتیں خیالی پلاؤ اور کسی ہوائی قلعے کی فتح ہوتی ہیں ۔ ان لوگوں کی ناکامی اسی بات میں پوشیدہ ہوتی ہے کہ وہ پلاننگ اچھی کرتے ہیں بار بار کرتے ہیں مگرکبھی بھی پہلا قدم نہیں اٹھاتے۔ میرے وہ دوست آپ تو نہیں ہیں نا، ذرا غور کیجیے گا ۔ پہلا قدم اٹھائیے زیادہ سے زیادہ آپ گریں گے پھر اٹھ کھڑے ہوں آپ ان ہزار ہا لوگوں سے اچھے ہوں گے جو کامیابی کے سمندر کے کنارے بیٹھے بس اس کے حسین مناظر کو خیالات میں لا کر خوش ہوتے ہیں اور ایسا ایکٹ کرتے ہیں جیسے وہ ہی اصل کامیاب ہوں ۔۔

یاد رکھیں ۔۔۔ آپ کی منزل ممکن ہے آپ کے اردگرد موجود تمام انسانوں سے اچھی اور بڑی ہو مگر آپ اس بات کو ثابت تب ہی کر سکیں گے جب آپ وہاں پہنچ کر دکھائیں گے اور یقیناً اس کے لیے آپ کو پہلا قدم اٹھانا پڑے گا ۔ بعض لوگوں کو یہ کہتا سنا ہے کہ وہ فلاں آدمی دیکھو اسے ناک پونچھنا نہیں آتا تھا آج بڑا سیٹھ بنا پھرتا ہے ۔ تو جناب وہ سیٹھ آپ سے اس وقت بھی بہتر تھا جب اسے ناک صاف کرنا نہیں آتی تھی اور آج آپ سے بہترین ہے کیونکہ وہ سیٹھ ہے اور ایسا اس لیے ہے کہ آپ اپنے علم معلومات اور منصوبہ بندی کے نشے میں مبتلا خود کو بہترین جانتے رہے اور وہ اس وقت بھی اپنی کم معلومات ناقص علم کے ساتھ پہلا قدم اٹھا چکا تھا اور کامیابی کے سفر کا عملی طور پر آغاز کر چکا تھا آپ اس وقت بھی تنقیدی دماغ رکھتے تھے اور آج بھی ۔ یہی وجہ ہے وہ سیٹھ آپ سے اور آپ جیسوں سے لاکھ درجہ بہتر ہے ۔

دوسروں کے قدموں کے نشانات ٹیڑھے ہونے کا راگ الاپنے کی بجاۓ اپنے قدم ناپنے پر توجہ دیجیے آپ بھی کامیاب ہوں گے جو سوچتے ہیں اسے لکھیے کامل منصوبہ ترتیب دیجیے اور بسم اللہ کر دیجیے ۔پرفیکٹ کے چکر میں ناقص سے بھی جاتے رہیں گے ۔ یاد رکھیں ہر بہتر میں بہترین کی گنجائش ہوتی ہے ۔ بہترین کے چکر میں بہتر مت ضائع کیجیے۔ کامیابی خود چل کر آپ کے پاس نہیں آۓ گی ممکن ہے آپ کی منزل کے مطابق اس کے قدموں کی تعداد ہزار ہو یا کئی سو یا کئی ہزار مگر پہلا قدم اٹھائیں گے تو ہی سفر شروع ہو گا ۔ انشاء اللہ باقی صبر و استقامت کے ساتھ بڑا پھل ملتا ہے ۔

.

نوٹ : ادارے کا مضمون نگار کی آرا سے متفق ہونا ضروری نہیں .

مزید :

بلاگ -