سعودی عرب کی پاکستان کی مدد لیکن بدلے میں خلیجی ملک کو کیا ملتا ہے؟ برطانوی میڈیا نے دعویٰ کردیا

سعودی عرب کی پاکستان کی مدد لیکن بدلے میں خلیجی ملک کو کیا ملتا ہے؟ برطانوی ...
سعودی عرب کی پاکستان کی مدد لیکن بدلے میں خلیجی ملک کو کیا ملتا ہے؟ برطانوی میڈیا نے دعویٰ کردیا
سورس: Twitter/@PakPMO

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ویب ڈیسک) عمران خان نے اپنے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں کُل 32 غیر ملکی دورے کیے جن میں سے وہ آٹھ بار سعودی عرب گئے, کبھی وہ سعودی بادشاہت سے رشتہ بہتر کرنے آتے اور کبھی مالی مدد مانگنے گئے، شہباز شریف نے بھی اپنا پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب کا ہی کیا۔برطانوی میڈیا نے تجزیہ نگاروں کے حوالے سے بتایا کہ اس مدد کے بدلے  ضرورت پڑنے پر سعودی عرب پاکستان سے فوجی تعاون کی توقع رکھتا ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایسا کرنے کی سب سے اہم وجہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو ملنے والی مالی امداد ہے۔مقامی میڈیا پر چلنے والی ایک خبر میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب سے آٹھ ارب ڈالر کا امدادی پیکج حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، سعودی عرب پاکستان کو تیل کی مد میں دی جانے والی مالی امداد کو دگنا کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ چار اعشاریہ دو ارب ڈالر کے جاری قرض کی واپسی کو مؤخر بھی کرے گا۔

اگست 2018 میں پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد عمران خان اگلے ہی ماہ اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب پہنچے تھے تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے، نہ ہی دونوں جانب سے کوئی بیان جاری ہوا ہے۔پھر  سعودی عرب نے آخری معاہدے کے تحت دسمبر 2021 میں سٹیٹ بینک آف پاکستان میں تین ارب ڈالر جمع کروائے تھے۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کراچی کی آئی بی اے یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی کہتی ہیں کہ 'عمران خان اور شہباز شریف وزیر اعظم بنتے ہی سب سے پہلے سعودی عرب گئے کیونکہ دونوں کو فوری طور پر مالی مدد کی ضرورت تھی، سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔‘ پاکستان کو یہ قرضہ دسمبر 2021 میں سعودی عرب سے ملا تھا۔ 

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ضرورت پڑنے پر سعودی عرب پاکستان سے فوجی تعاون کی توقع رکھتا ہے، کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب معاشی پیکجوں اور سرمایہ کاری کے وعدوں کے ذریعے مالی طور پر پسماندہ پاکستانی حکومت کی وفاداری خریدنے کی کوشش کرتا ہے،دونوں ملکوں کے تعلقات میں سعودی قرضے کوئی نئی چیز نہیں ہیں، سعودی پیسے اور امریکی پالیسی کی وجہ سے اسلام آباد ہمیشہ ریاض کے قریب رہا ہے۔