”عوام بدحال“ آئینی ادارے باہم گریبان

”عوام بدحال“ آئینی ادارے باہم گریبان
”عوام بدحال“ آئینی ادارے باہم گریبان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسے مناظر قوم کو دیکھنے کو مل رہے ہیں جن کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، حکمران اشرافیہ اداروں کے نام نہاد اصولوں کی جنگ کی آڑ میں اپنی کرسی بچانے اور طاقت دکھانے،زبردستی اپنے فیصلے مسلط کروانے کی دوڑ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور بلاوجہ کی کشمکش قومی اداروں کے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہونے پر عوام سر پکڑے بیٹھے ہیں آئیں پاکستان،دستورِ پاکستان کے اہم ترین ادارے جو ایک دوسرے کے محافظ تصور کیے جاتے تھے ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار نظر آ رہے ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی اور یوٹیلیٹی بلز سے ستائی ہوئی پاکستانی عوام نذہ صرف اضطراب کا شکار ہے بلکہ پارلیمنٹ کی طرف سے عوامی ریلیف کے لئے آئین سازی یا ریلیف کی بجائے عوامی جذبات کو یکسر نظر انداز کر کے گڑے مردے اکھاڑنے کی حکومتی وزیر کی مہم جوئی سے جمہوریت سے بیزاری کا سبب بن رہی ہے، اداروں کی ضد سے نیا بحران جنم لے رہا ہے۔ جناب چیف جسٹس کے سچ اور خواجہ آصف کے کڑوے سچ سے عوام خوش ہو نے کی بجائے رونے پر مجبور ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان کے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر سماعت کے موقع پر ریمارکس میں فرمایا:سیاست دان انصاف نہیں من پسند فیصلے چاہتے ہیں سیاست نے عدالتی کارروائی کو گندھا کر دیا ہے۔سپریم کورٹ کے ججز کا جاری کیا گیا حکم سب پر لازم ہے، قانون سازی کے اختیار سے متعلق وفاقی فہرست میں کچھ حدود و قیود ہیں فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کے سیکشن 55کا بھی جائزہ لیں یہ حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی آزاد عدلیہ آئین کا بنیادی جزو ہے لازم ہے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین کے بنیادی جزو کی آئین سازی کے ذریعے خلاف ورزی کی گئی۔ منگل کے دن میں چیف جسٹس آف پاکستان کے ر یمارکس میڈیا پر گونج رہے ہیں شام کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی طویل اور بظاہر دبنگ عملاً  ننگ خطاب اور سابق وز یراعظم شاہد خاقان عباسی کے مطالبے نے نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے۔چیئرمین پی اے سی کی طرف سے رجسٹرار سپریم کورٹ کے وارنٹ جا ری کرنے کا اعلان جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے پارلیمانی کارروائی کے منٹس مانگنے کے جواب میں خواجہ آصف فرماتے ہیں نہ منٹس دیں گے نہ وزیراعظم کی قربانی، اعلانِ جنگ کرتے ہیں۔ وزیر دفاع نے سپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا آپ سپریم کورٹ کو خط لکھ کر کیسوں کی تفصیلات مانگیں نظام میں عوامی نمائندوں کے مینڈیٹ کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔سپریم کورٹ کوشش کر رہا ہے حکومت مدت پوری نہ کرے ایک کمیٹی بنائی جائے جو عدالتی فیصلوں کا حساب لے، خواجہ آصف مزید فرماتے ہیں ذوالفقار علی بھٹو، سید یوسف رضا گیلانی، نواز شریف کیسز کا حساب دیں جو لوگ اس دنیا میں نہیں ہیں ان پر بھی مقدمہ چلایا جائے، وزیراعظم کی گردنیں لینے کی روایت ختم کی جائے۔پنچایت لگانا مذاکرات کرنا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے۔انہوں نے کہا قومی اسمبلی نے جتنی خدمت کی کسی اور ادارے نے نہیں کی آج ایک ادارہ ہم سے اس مقدس ایوان کی کارروائی طلب کر رہا ہے۔ ایک دفعہ نہیں سو دفعہ پروسیڈنگ طلب کریں ہماری کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے، ہماری کارروائی راز نہیں ہوتی،میں بول رہا ہوں ٹی وی پر ہر کوئی سن رہا ہے۔ سپریم کورٹ کا احترام ہے مذاکرات پر مجبور کرنا پنچایت، محفلیں لگانا، ہدایات دینا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے۔انہوں نے ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہمیں اپنے ادارے کا دفاع کرنا پڑے گا ایک پارٹی کو پہلے2018ء میں سہولت کار ملے، انہیں اب پھر سہولت کار مل گئے ہیں۔ ایوان میں بیٹھے ارکان کا فرض بنتا ہے سہولت کاری کے آگے دیوار بن جائیں۔خواجہ آصف نے کہا وزیراعظموں کی گردنیں لینے کا رواج ختم ہونا چاہیے، وزیر دفاع، شاہد خاقان عباسی اور جاوید لطیف کی تقریر لکھنا مقصود نہیں ہے،ان کے طرزِ عمل سے ایسا لگ رہا ہے وزیر دفاع، سابق وزیراعظم جان بوجھ کر سپریم کورٹ کی دیوار پر سر ٹکرا کر شہید ہونے کا پروگرام بنا رہے ہیں،قانون کا طالب علم ہوتے ہوئے میں نے پہلی دفعہ محسوس کیا ہے جتنی لچک سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کی باہم ضد اور ایک دوسرے سے بات نہ کرنے اور میں نہ مانوں پالیسی پر دکھائی اتنی شاید پہلے کبھی نہ دکھائی ہو۔ خواجہ آصف کے دھماکہ خیز خطاب کے باوجود پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دو دور ہونا معمول نہیں ہے، لگ رہا ہے مقتدر حلقے آئینی اداروں کی بلاوجہ کی محاذ آرائی اور سیاست دانوں کی ضد اور مَیں نہ مانوں پالیسی پر راضی نہیں ہیں، مقتدر حلقے پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے گزشتہ رویوں سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ عدلیہ سے پہلے فوج اور سابق آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف محاذ آرائی اور کردار کشی سے ہر کوئی واقف ہے، راقم نے محسوس کیا ہے عدلیہ کے ججوں کی آڈیو لیکس اور سیاست دانوں کی آڈیو لیکس اور ایک دوسرے پر الزام تراشی سے پاکستان کی نیک نامی میں اضافہ نہیں ہو رہا۔مذاکرات میں ڈیڈ لاک اور سیاست دانوں کی باہمی کشمکش اور الیکشن کی تاریخ پر اتفاق نہ ہونے کے تماشے کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک بھی مانیٹر کر رہا ہے،انہی حالات میں امریکہ کی طرف سے پاکستان کو امریکہ یا چین دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے کا کہنا معمولی بات نہیں ہے، افسوسناک پہلو جس سے عوام میں بے چینی اور بداعتمادی جنم لے رہی ہے وہ ہے پی ڈی ایم کی بالعموم اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور عمران خان کی میڈیا ٹاک دونوں طرف سے عوام کی حالت زار کا تذکرہ نہ کرنا اور الیکشن کی ضد مگر منشور اور عوامی ریلیف کا منصوبہ نہ دینا مزید اضطراب کا باعث بن رہا ہے۔دوسرا افسوسناک پہلو جو سامنے آ رہا ہے سیاست دانوں کی بلاوجہ کی اَنا پرستی سے پیدا ہونے والے حالات کا فائدہ ہمارا دشمن اٹھا رہا ہے دو ماہ میں دہشت گردی کے خلاف درجنوں آپریشن  میں جہاں درجنوں دہشت گرد جہنم واصل ہوئے ہیں وہیں ہمارے پاک فوج کے جوانوں کی قربانیاں بھی کم نہیں ہوئی، دشمن کی سازش ہے،قوم عدم استحکام کا شکار ہو، ہمارے سیاست دان اپنی کرسی کی دوڑ میں عوام کو روندتے ہوئے دشمنانِ دین اور پاکستان کے مخالفوں کے ایجنڈے کو تقویت دے رہے ہیں۔ایک سوال بار بار جو عوام کر رہی ہیں ان سیاست دانوں کو کون سمجھائے، ملکی معیشت کی ابتری دہشت گردوں کی مہم جوئی میں باہمی محاذ آرائی نہیں کی جاتی یکجہتی کی جاتی ہے نازک حالات میں قوم کو متحد و منظم کرنے اور ریلیف دینے کی ضرورت ہے نہ کہ دشمن قوتوں کا آلہ کار بننے کی؟
٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -