اے بسا آرزو کہ خاک شدی

 اے بسا آرزو کہ خاک شدی
  اے بسا آرزو کہ خاک شدی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 ا نسان کے جسم و جاں میں قدرت نے جو حیرتیں چھپا رکھی ہیں اُن میں چھینک مارنے کی لذت بھی شامل ہے۔ بچپن میں ہم نے ایسی ایسی ہمہ گیر چھینک مارنے والے بزرگ دیکھے جن کی ’پرفارمنس‘ اچھے خاصے دو منزلہ مکان کو ہلا کر رکھ دیتی تھی۔ پہلے چھینک کی دھمک سنائی دیتی، پھر اونچی آواز میں ’شکر الحمد للہ‘۔ شکرانے کی گونج میں خالق کی عظمت کا والہانہ اعتراف بھی ہوتا اور مخلوق سے وابستگی کا گہرا اظہار بھی۔ اِس کے باوجود یہ شعور عام نہیں تھا کہ چھینک مارنا خارجی سرگرمی بھی ہے اور ایک ایسا باطنی تجربہ بھی جس میں آدمی معرفت کی منزلیں ایک خاص ترتیب سے طے کرنے کا پابند ہو جاتا ہے۔ سچ کہوں تو اِس مسافت کے بغیر چھینک کامیابی سے ہمکنار ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔ لیکن کیوں اور کیسے؟

دیکھیے نا، بیٹھے بیٹھے آپ کے منہ، گلے یا ناک کے کسی کونے میں ایک نیم خوشگوار مگر بے آواز سر سراہٹ محسوس ہوئی۔ پھر یوں لگا جیسے سانس کی دو تین چھوٹی چھوٹی اکائیاں رُک رُک کر حلق کے اندر اتر گئی ہوں۔ ساتھ ہی ایک اندرونی ایس ایم ایس موصول ہوا کہ دل و دماغ کے کسی خاص مقام پر چھینک ’لوڈ‘ ہو چکی۔ اب آپ نے لبلبی دبائی کہ باپ دادا کی طرح ایک چھوٹا موٹا زلزلہ برپا کر دیں، لیکن ’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘۔ بس اِتنا پتا چلا کہ چھینک آنے تو لگی تھی مگر آتے آتے کہِیں ’قیں‘ ہو گئی ہے۔ممکن ہے آپ خود کو کمیٹی کا وہ نلکا محسوس کریں جو پانی کی جگہ بلبلے چھوڑ کر فارغ ہو جائے۔ یا پھر چھ وولٹ بیٹری والی ہماری وہ عمر رسیدہ فوکسی جو انجن آف کر دینے پر بھی نیم دلی سے تھوڑی دیر تک ہنہناتی رہتی اور بالآخر ایک ہلکی سی ’پھک‘ کے ساتھ بند ہو جاتی۔ 

چھینک آنے اور آ کر نہ آنے کی بات ذرا لمبی ہو گئی۔ وگرنہ باطنی محل وقوع کے مشرق و مغرب کو بدل دینے والی بہت سی حیرتیں زندگی کی دیگر سرگرمیوں سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ جیسے فرض کیا کہ کسی قصباتی بستی میں آپ پرانے فیشن کے باراتی کے طور پر مدینہ ٹینٹ سروس کی فولڈنگ کرسیوں پر مورچہ بند ہیں۔ روٹی کھُل چکی ہے اور گھمسان کا رن پڑ رہا ہے۔ پلاؤ کھاتے کھاتے پیاس لگتی ہے اور ہاتھ خود بخود ایلو منیم کے جگ کی طرف بڑھتا ہے۔ ہائیں، جگ جو اٹھایا ہے تو فضا میں ایک جھٹکے کے ساتھ دو فٹ تک اٹھتا ہی چلا گیا۔ گھڑی بھر میں سمجھ گئے کہ جگ کا ہلکا پن اس کے خالی ہونے کی وجہ سے تھا۔ پھر بھی ایمانداری سے بتائیں کہ اپنی دانست میں پانی سے بھرے ہوئے جگ کو اٹھانے کے لیے آپ نے جو زور مختص کیا، اُس کے اوپر نیچے ہو نے سے آپ کو  ’بِزتی‘ محسوس ہوئی یا نہیں؟

کبھی کبھار خالی جگ جیسا تجربہ کسی دوست کے ساتھ مدت بعد ملتے ہوئے بھی ہو سکتا ہے۔ وہ یوں کہ آپ نے اُسے بے تکلف ہم جماعت سمجھ کر باتوں باتوں میں چٹکی بھری اور جواب میں دوسری طرف سے یک لخت جرنیلی نمودار ہو گئی۔ یہ نازک صورتحال ہوتی ہے۔ ہمارے ذہن میں کسی انسان کا کیا امیج ہے اور ہم اُس سے کِس طرزِ عمل کی عمومی توقع کرتے ہے؟ بانیء  پاکستان کے پرائیویٹ سیکرٹری اور آزاد کشمیر کے پہلے منتخب صدر کے۔ ایچ۔ خورشید کی کتاب میں وہ واقعہ درج ہے جب قائداعظم نے چوکیدار گل محمد کو یہ کہہ کر اچانک ڈانٹ دیا تھا کہ ”تُم گدھا ہے، تُم بے وقوف ہے۔ تُم ٹمہارا کام کاہے کو نہیں کرٹا؟“ غصے کا یہ لہجہ بس اُسی رات سُننے میں آیا جب قائد کے کمرے کا فیوز لگاتے لگاتے گل محمد نے کوئی ایسی غلطی کی جس سے سارا گھر تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔ 

محمد علی جناح کی معمول سے قدرے ہٹی ہوئی اِس کہانی کو اب اسّی برس ہو نے کو ہیں۔ اِسی طرح چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت ایک تاریخی فل کورٹ میٹنگ کو چند مہینوں میں سولہ سال گزر چکے ہوں گے۔ مذکورہ میٹنگ میں ’انصاف سب کے لیے‘ کے نام سے ایک نغمے کو اپنا لینے اور پاکستان بار کونسل کے اجتماعات میں پیش کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق، یہ نغمہ جسٹس تصدق حسین جیلانی کی تخلیق ہے اور پہلی مرتبہ 14 اگست 2006 ء کو سپریم کورٹ کی تقریب میں سنا گیا۔ روزنامہ ’ڈان‘ نے اُنہی دنوں ایک اداریہ میں یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ اگر بار کونسل اپنی پسندیدہ شاعری کو ادارے کا ترانہ بنانا چاہتی تھی تو اس کے لیے عدالت سے باضابطہ استدعا کا اقدام اُن لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئے گا جن کا تعلق قانونی حلقوں سے نہیں۔ 

’ڈان‘ کا چھیڑا ہوا نکتہ پڑھ کر لا کالج کے ایک استاد بہت یاد آئے تھے جو ’جو ڈیشل مائنڈ سیٹ‘ کے فقدان کو ہماری عدلیہ کے متنازعہ کردار کی جڑ قرار دیا کرتے۔ مجھے اِس ’مائنڈ سیٹ‘ کا ذائقہ اُس وقت بھلا لگا جب مَیں نے برطانیہ میں جیوری سروس ادا کرنے سے، تب تک کی ایک روایت کے تحت، معذرت کر لی تھی۔ دلیل یہ دی کہ قانون کا طالب علم ہونے کی بنا پر مَیں معاملات کا ’جو ڈیشل ویو‘ لینے کی عادت رکھتا ہوں اور کسی مقدمے کا جائزہ قانون سے ہٹ کر صرف عقل سلیم کی بنیاد پر لے ہی نہیں سکتا جو بطور رکنِ جیوری میرا فرض بنتا ہے۔اِس درخواست کے جواب میں مجھے ایک باضابطہ مراسلہ موصول ہوا جس کا مفہوم یہ تھا کہ آپ کی قانون کی ڈگری کے پیش نظر ہم آپ کو جیوری کی رکنیت کے لیے نا اہل سمجھتے ہیں۔

تو کیا اپنے جوڈیشل مائنڈ سیٹ کی بدولت اعلی عدالت کا جج بھی شاعری کے تخلیقی عمل کے لیے نا موزوں قرار پائے گا؟ اردو میں اصولِ تنقید کی اولین مستند کتاب ’مقدمہ ء شعر و شاعری‘ کے مصنف اور نیچرل شاعری کی تحریک کے بانی، شمس العلما مولانا الطاف حسین حالی ’شعر کی مدح و ذم‘ کے باب میں یہ کہہ کر ہماری مشکل میں اضافہ کر گئے ہیں کہ ’’زمانہ ء حال میں بعضوں نے شعر کو میجک لینٹرن سے تشبیہ دی ہے، یعنی میجک لینٹرن جس قدر زیادہ تاریک کمرے میں روشن کی جاتی ہے اُسی قدر زیادہ جلوے دکھاتی ہے۔ اِس طرح شعر جس قدر جہل و تاریکی کے زمانے میں ظہور کرتا ہے اُسی قدر زیادہ رونق پاتا ہے۔“ 

اب تو پی ٹی آئی کے باضابطہ ترجمان اور گورڈن کالج راولپنڈی میں میرے انگلش لٹریچر کے منفرد استاد رؤف حسن بھی روز روز کے تجزیوں سے تنگ آ کر پھر انگریزی شاعری کرنے لگے ہیں۔ اِس عالم میں اگر کوئی ضدی بچہ مجھ سے یہ پوچھ بیٹھے کہ انکل بتائیں نا، جوڈیشل مائنڈ سیٹ والوں کو بھی اب شاعری کرنی چاہئیے یا نہیں؟ یہ سُن کر مَیں کچھ دیر ماضیِ قریب کی ادبی عدالت کے بڑے جج فیض احمد فیض کی طرح محض مسکراہٹ کے زور پر کام چلاؤں گا، پھر ایک لمبی تاریخ ڈال دوں گا۔ اِس پر اگر اصرار زور پکڑنے لگے تو فیض ہی کے انداز میں کہوں گا ”بھئی، ہم سے سند مت مانگو۔ کوئی ڈھنگ کی لڑائی ہو تو آدمی لڑے بھی۔“ سائل عرض کرے گا ”فیض صاحب، آپ تو بینچ ہی سے سبکدوش ہو گئے۔“ اِس پر آواز آئے گی ”ہاں بھئی، چھینک ایک بار لوڈ تو کرلی تھی مگر اب کے داغی نہیں جا سکی۔“

مزید :

رائے -کالم -