اقبال کا بلبل، غالب کی بلبل، ڈش انٹینا وغیرہم

  اقبال کا بلبل، غالب کی بلبل، ڈش انٹینا وغیرہم
   اقبال کا بلبل، غالب کی بلبل، ڈش انٹینا وغیرہم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مجیب کے اپنے پاؤں میں تو بلیاں بندھی ہیں لیکن مجھے وہ اب بھی باوجود دھر لیتا ہے۔ 70 ء کی دہائی میں ہم سات آٹھ ساتھیوں نے جس دشوار گزار، پر مشقت اور جان جوکھوں میں ڈالنے والی دن بھر کی ہفتہ وار جنگل گشت کی روایت ڈالی تھی، اس کے شرکاء ایک وقت میں 22 تک جا پہنچے تھے۔ادھر بہتے عصر رواں کی روایت 8 کے ہندسے واقف نہ 22 کے عدد سے متعارف، کسی کو ذرا جھپکی کیا آئی کہ وقت ہم جیسے غبار راہ سے دامن جھاڑ کر آگے اور راہی دھندلکے میں گم۔ چوہدری کو گھٹنے تبدیل کرانا پڑے، تو آصف کے گوڈے گٹے گئے۔ بقیہ دِل کے ہزار ٹکڑوں میں سے حسین، چچا سام کو پیارا ہوا تو چچا صدیق فرنگی دیس میں جا بسے۔ 5 یا شاید وہی 8 چوہوں میں سے باقی رہ گئے 2۔دونوں ہی ہیں نیک۔ معلوم نہیں فرشتہ اجل کی بلی پہلے مجیب کا رخ کرتی ہے یا شہزاد اقبال شام اسے پسند آتا ہے۔ لڑاکی بیوی کا فیصلہ ہونا البتہ باقی ہے۔

سلسلہ کوہ ہمالیہ کی اس جنوب مغربی ترائی میں ہماری یہ جنگل گشت 50 سال سے 9 نومبر کو پورے دن کے لئے ہوا کرتی ہے، لیکن اب کی بار لڑھکتے لڑھکتے 21 اپریل کو ہو ہی گئی۔ جیوڑا۔ پنجاڑ یا پنجاڑ - جیوڑا، براستہ وادی ہوتر کل فاصلہ 10 کلومیٹر ہے۔ ہے جوانی خود جوانی کا سنگھار۔ تب ان دنوں یہ پر مشقت، دشوار اور مصائب بھرا رستہ ہم لوگ ٹھہرتے، ٹھمکتے، شاخ بدن لچکاتے جیوڑا - پنجاڑ ساڑھے تین گھنٹوں میں طے کر پاتے کہ کل چڑھائی ہے۔ اور پنجاڑ-جیوڑا یہی اترائی بھرا فاصلہ اڑہائی گھنٹوں میں طے ہو جاتا۔ ماضی کو نذر گزران کردہ اپنی شاخ بدن کی جگہ، گٹھیلے وجود کے ساتھ اب وہی فاصلہ 5 گھنٹوں میں طے ہوا ہے جوانی خود جوانی کا سنگھار!

جیوڑا میں ہمارا استقبال چڑی ترکھان نے متحیر آنکھوں سے کیا۔ اسے باقی ملک کٹھ بڑھئی کے نام سے جانتا ہے۔ہد ہد نامی یہ درباری پرندہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں آئی ایس آئی کا چیف ہوا کرتا تھا۔اسی نے ملکہ بلقیس کا سراغ لگایا تھا۔ ذرا آگے بڑھے تو علامہ اقبال کا بلبل، غالب کی بلبل سے چہلیں کر رہا تھا۔ وادی میں داخل ہوئے تو 80 سال قبل ڈلہوزی میں شفیق الرحمن کا ملاقاتی پرندہ ”کون ہے، کون ہے“ کی صدا لگا رہا تھا۔ جوڑوں کی شکل میں شرمائی لجائی فاختائیں دیکھیں۔ایک مولوی پرندہ سبحان تیری قدرت کی آوازیں لگا رہا تھا۔ مجیب کا خیال تھا کہ وہ سبحان تیری قدرت نہیں، تھوم، پیاز ادرک کہہ رہا ہے۔ نیچے وادی ہوتر میں دربار شریف پہنچے تو سجادہ نشین صاحب نے حسب ِ سابق کھلی بانہوں کے ساتھ کھلے دالان میں گڑ کی چائے سے تواضع کی۔ آگے جنگل گشت کا پر مشقت حصہ آیا تو شفیق الرحمن کا ایک اور ملاقاتی پرندہ کرر۔۔۔کرر کرتا ہمارا مستقل ساتھی بن گیا۔ پنجاڑ تک اس نے ہمارا خوب ساتھ دیا۔ شفیق الرحمن نے "دھند" میں اسے پھرر۔۔۔ پھرر کرتے سنا تھا۔ ممکن ہے،  یہاں بھی اقبال کے بلبل اور غالب کی بلبل جیسے پیچیدہ مسائل آ پڑے ہوں۔ یہ البتہ یقینی بات ہے کہ دونوں میں سے کوئی ایک پرندہ اور دوسری شاید پرندی رہی ہوگی۔

سامنے دشوار گزار گھاٹی میں تیس پینتیس گھروں کی بستی تھی۔ ہماری  غیر حاضری کے فوائد سمیٹتے ہوئے ایک سال میں بستی کے ایک غریب لیکن صاحب دل معمار نے خود اپنے ہاتھوں سے چھوٹی سی خوبصورت مسجد بنا ڈالی۔ پوری بستی میں صرف دو مرد تھے۔ امن، سکون اور سناٹا جو 50 سال سے دیکھتے آئے تھے، وہی پایا۔ لیکن ہوش ربا تبدیلی یہ دیکھی کہ ہر تین مکانوں میں سے دو کی چھتیں ڈش انٹینا سے مزین تھیں۔ صاحب! ڈش پر محفل میلاد یا درس قران تو نہیں دیکھے جاتے۔ اور نہ ان گاؤں، دیہاتوں، صحراؤں، وادیوں اور جنگلوں میں الجزیرہ ٹی وی دیکھنے والی خواتین آباد ہیں۔ پاؤں تلے سے ریت تیزی سے سرک رہی ہے۔ لشکر طالوت ہی کا سہی پر ہمارے اس مختصر سے لشکر میں سے اب بچے گا وہی جو چلو بھر پانی پر قناعت کرسکے گا۔۔۔اور بقیہ لشکر؟؟ فلیس منی۔۔!

تمام دنیا دو نئے کروں میں منقسم! دونوں کے منقسم موضوعات؟ کرہ اول: دھرنا, فارم 45, فارم 47, غزہ میں قتل عام، شرح سود 22 فیصد، آئی ایم ایف سے قرض کی منظوری، سپریم جوڈیشل کونسل، مہنگائی 21 فیصد، شہدائے غزہ کے لئے امریکی جامعات میں ریلیاں، 6 دہشت گرد ہلاک, یوکرین میں مزید روسی پیش قدمی. لوگوں کو خبر ہی نہیں کہ دیوار کے اس جانب دوسرے کرے میں کیا ہو رہا ہے۔ نمونے کا ایک موضوع چکھ کر اسی پر  ملک نہیں کل عالم کو قیاس کر لیجیے، آگے بڑھے تو پنکھٹ جوں کے توں حاضر و موجود، پر پنہاریاں مفقود و غیر موجود۔ ندی سے نکلی پختہ نالی کا سیماب آسا بہاؤ گاؤں کے کم و بیش ہر گھر کو سیراب کرتا پایا۔

 اس دوسرے کرے کے شوہر دبئی و امارات کی رنگینیوں میں گم تو بیویاں اپنی چادر سے بے نیاز لیکن فراغت، بے فکری، ڈش اور موبائل کی چادر میں  ملفوف۔ فکر مند کہ شاپنگ کو آج نکلوں یا کل۔ اس بازار کو جاؤں یا اس بازار میں؟ اتنی سی بات پر شورش کاشمیری نے پوری کتاب لکھی تو کیوں۔ پنہاری اس بازار میں جائے یا اس بازار کا رخ کرے، باشندگان کرہ اول اپنے موضوعات میں مست اور گم۔ "ہیلو, ممریز انکل! کل گاڑی لے لانا۔ آپا نصیبن اور میں کل درزی کے ہاں جائیں گی۔۔۔نہیں۔۔۔ بچے دادیوں کے پاس۔۔۔ پورے دن کے لیے…… اپنے ہی شہر میں۔۔۔لیکن شاید مطلوبہ پرنٹ نہ ملے، پنڈی پی ڈبلیو ڈی بازار جانا ہی ہو گا"۔ 50 سال کے پچھواڑے میں دادا راجولی نے ایک کویت پلٹ بھانجے بھتیجے کو گاؤں میں اکڑتے اور سلام کیے بغیر گزرتے پایا تو بولے: "او عربوں کے چرواہے، سنو! میں ناکارہ بابا یہاں کھیتوں کھلیانوں میں گھومتے ہوئے ہر آئے گئے پر نظر نہ رکھوں نا تم کویت والے واپسی پر اپنی بیویاں دارالامان میں تلاش کرتے پھرو"۔ بابا راجولی ڈش اور موبائل کے صدمات جھیلے بغیر اللہ کو پیارے ہوئے، اچھا ہی ہوا۔ ڈش پر محفل میلاد یا درس قران تو نہیں دیکھے جاتے ہیں۔ "اے ایمان والو! خود کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ". (التحریم 6)

پنجاڑ پہنچ کر سوچا اسلام آباد کی پہاڑیوں میں سی ڈی اے کے ٹریلوں پر چلتے مشاہیر نے ہمارے نقش قدم پر چلنے کا سوچا تو نتائج کے ذمہ دار خود ہوں گے۔ مصطفی زیدی ان مشاہیر کو متنبہ کر چکا ہے۔ انہی پتھروں پہ چل کر کوئی جا سکے تو جائے، جنگل گشت کے راستے میں ٹریل جیسی کوئی کہکشاں نہیں ہے۔ ہم تو مشاہیر ہیں ہی نہیں، ہمارے نقش قدم پر مت چلنا۔ اور ہاں! موبائل، ڈش وغیرہم کی بہتی تیز رفتار ندیا سے طالوت کے کہے پر چلو بھر پانی ہی لینا، تبھی بچ پاؤ گے۔ آج کا بابا راجولی جالوت کے اس طاقتور لشکر پر نظر رکھنا چاہے بھی تو نہیں رکھ سکتا۔ "خود کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ"۔

مزید :

رائے -کالم -