سائنسی تخلیقات میں حیرت انگیز پیش رفت

سائنسی تخلیقات میں حیرت انگیز پیش رفت
سائنسی تخلیقات میں حیرت انگیز پیش رفت

  

پچھلی دہائی میں جدید مشینوں کی تخلیق میں حیرت انگیز پیش رفت ہوئی ہے۔ برقی آلات مختصر ترین صورت میں تشکیل ہورہے ہیں، جن کا استعمال جاسوسی اوردفاعی مقاصد کے لئے بھی ہورہا ہے۔ ان میں سے ایک دریافت روبوٹ کیڑے ہیں۔ یہ کیڑے آدھی مشین اور آدھے زندہ جسم پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان کو میلوں دور سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ان زندہ کیڑوں کے جسموں کے ساتھ کیمرے اور مائیکرو فون نصب کر دیئے جاتے ہیں، پھر میلوں دورسے ریموٹ آلات کے ذریعے ان کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ یہ کیڑے اڑتے ہوئے کسی بھی ننھے سے جھروکے سے اندر جا کر دیوار پر بٹھائے جاسکتے ہیں، جہاں ہمارے صدر،وزیر یا آرمی چیف بیٹھے ہوں اور قومی حکمت عملی کی اہمیت پر خفیہ گفتگو کررہے ہوں ، تو ان کی تصاویراور آوازیں وہاں سے میلوں دور کسی بھی غیر ملکی سفارت خانے تک پہنچ سکتی ہیں اور ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ بن سکتی ہیں۔ یہ مشینی کیڑے Caltechکی Jetpropulision لیب Pasadena میں تیار کئے گئے ہیں، اس پراجیکٹ کے لئے فنڈز ناسا نے فراہم کئے ہیں۔ (www.tinyurl.com/ojwmdq) ان کیڑوں کی ٹیکنالوجی یہ ہے کہ ایک (Chip) ان کے دماغ میں لگا دیا جاتا ہے جو ان کے اعصابی خلیات سے منسلک کر دیا جاتا ہے، پھر ان مشینی کیڑوں کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کسی بھی جگہ بھیجا جا سکتا ہے۔ اس قسم کے دفاعی ہتھیار امریکہ کی دفاعی ایجنسیوں سے کی جانے والی فنڈنگ کے ذریعے تیار کئے جا رہے ہیں ،جو کہ کسی بھی ملک کی سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں، اس کے لئے ضروری ہے کہ اقوام اپنی حفاظت کے لئے اپنی حکمت عملی تبدیل کریں۔

اس طرح مکھی سے مطابقت رکھتے ہوئے جاسوس بھونرے اور ننھے چوہے بھی ایک جاپانی سائنس دان (جامعہ برائے زراعت وٹیکنالوجی‘ ٹوکیو) نے بھی تخلیق کر لئے ہیں۔ روبوٹ کے استعمال کو بہتر طورپر سمجھنے کے لئے گاڑی کی صنعت کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں ہر مخصوص کام کو انجام دینے کے لئے روبوٹک ہاتھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ فارمیسی کی صنعت کو بھی تیز رفتار روبوٹ کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ ایک دن میں 50ہزار سے زائد مرکبات کے اثرات کو جانچا جاسکے۔فراک سینئر اور لین فرانس کے سائنس دانوں اور انجینئروں نے ایسے اڑنے والے روبوٹ Quadrocopter کے نام سے تیار کرلئے ہیں، جو اس ٹیکنالوجی کی بقاءکے لئے اپنی مثال آپ ہیں۔ ان ہوائی روبوٹ کے ذریعے ایک بلڈنگ تیار کی گئی ہے تاکہ تعمیراتی مقاصد میں ان کے کامیاب استعمال کو متعارف کرایا جا سکے۔ اس ٹاور کی تیاری میں بہت سارے اُڑنے والے روبوٹوں کا استعمال کیا گیا ہے، جو کہ اینٹوں کو اس طرح اٹھا کر ٹھیک جگہوں پر رکھتے ہیں، جیسے کسی موسیقی کی محفل میں رقص کر رہے ہوں۔ ان میں کئی قسم کے سینسر نصب ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں مدد دیتے ہیں اور کام کے دوران آپس میں ٹکراﺅ سے روکتے ہیں۔ یہ انتہائی برق رفتار اور مشاق ہوتے ہیں اور کسی بھی قسم کی پیچ دار اور خم دار اڑان کرسکتے ہیں۔مستقبل میں بلڈنگوں کی تعمیر کے لئے شائد اسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔

ایک اور دلچسپ ترقی یہ ہے کہ جراثیم (bacteria) کو کچھ مخصوص کاموں کی انجام دہی کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر پروفیسر سلویان مارٹل اور ان کے ساتھی یہ پتہ لگانے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ ایک مخصوص مقناطیسی آلے کے ذریعے کچھ جراثیم کی اقسام کو قابو کیا جا سکتا ہے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان (Magnetotectic) جراثیم کو مقناطیسی کشش کے ذریعے اپنا تابع کیا جاتا ہے۔ ایک فرانسیسی سائنس دان نے بیرونی مقناطیسی کشش کے ذریعے 50.000 بیکٹیریا کے جھنڈ کو قابوکرکے Epoxy (ایک حصہ آکسیجن اور دو حصے کاربن کا مرکب) کی اینٹوں سے ایک چھوٹا سا اہرام صرف 15منٹ میں تیار کروا لیا۔ اس طرح جراثم کو اپنی نگہداشت میں خون کی نالیوں میں بھی سرایت کرنے کے لئے مجبور کیا جاسکتا ہے۔ اب سائنس دانوں کا پلان ہے کہ ان ننھے کام کرنے والے گھوڑوں (Becteria)کو مخصوص دوائیوں کے ساتھ زخم کی جگہ تک پہنچانے کے لئے بھی استعمال کیا جائے۔

ایک اور حیرت انگیز ایجاد ایسے بلب ہیں جو بیکٹیریا سے جلتے ہیں اور روشنی مہیا کرتے ہیں۔ صوبہ پنجاب میں موسم گرما کی راتوں کو پائی جانے والی آگ کی مکھیاں، جنہیں ہم جگنو کہتے ہیں، وہ بھی اسی عمل کے تحت روشنی کی چنگاری پیدا کرتی ہیں اور یہی عمل گہرے سمندر میں رہنے والی جیلی فش بھی کرتی ہے۔ ڈچ سائنس دان فلپس الیکٹرونک کمپنی میں ایسے ہی ایک عمل کے ذریعے بیکٹیریا کو روشن کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے گزشتہ دہائی میں سائنس وانجینئرنگ کے مختلف شعبوں میں تحقیق اور ترقی کے فروغ کے لئے جو اقدامات کئے ہیں، بین الا قوامی تحقیقی اشاعتوں کی شرح میں حد درجہ اضافہ بلاشبہ ان کاوشوں کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس کی شرح 2000ءمیں 600 تحقیقی اشاعتیں سالانہ سے بڑھ کر آج 8000 تحقیقی اشاعتیں سالانہ تک پہنچ گئی ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کی تحریر وتحقیق کی ترقی کے لئے انتھک جدوجہد اور کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ پاکستان نے اب ہندوستان جیسے بڑے ملک کوتحقیقی اشاعتوں میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

 ٹیکنالوجی سے متعلقہ شعبوں میں انقلاب محض اسی وقت ممکن ہے، جب حکومتی سرپرستی میں نہایت مربوط انداز میں ان شعبوں کی نشوونما اور ترقی کے لئے عوامل تلاش کئے جائیں۔ پاکستان میں موبائل ٹیکنالوجی کی ترقی کی مثال آ پ کے سامنے ہے۔ جب مَیں وفاقی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی تھا، اس وقت انفارمیشن ٹیکنالوجی اورٹیلی کمیونی کشن ڈویژن بھی اسی وزارت کا حصہ تھے۔ اس وقت ملک بھر میں صرف تین لاکھ موبائل ٹیلی فون تھے اور موبائل فون کا استعمال گزشتہ آٹھ سال سے وسعت حاصل نہیں کر پار ہا تھا۔ لو گ اس لئے موبائل استعمال نہیں کر رہے تھے کہ نہ صرف کال کرنے کے نرخ ایک آدمی کی پہنچ سے دُور تھے، بلکہ کال وصول ہونے پر بھی انہیں معاوضہ ادا کرنا پڑتا تھا۔ نہایت باریک بینی سے سوچ بچار اور چند ساتھیوں سے مشورے کے بعد ہم نے کچھ مخصوص اقدام کرنے کا ارادہ کیا۔ ایک موبائل فون سروس کا افتتاح کیا گیا ،جس میں کال کرنے پر معاوضہ ادا کرنے کا نظام تبدیل کر دیا گیا۔ اب صارف کو کال وصول کرنے کے لئے کوئی معاوضہ ادا نہیں کرنا پڑتا، بلکہ اسے، جو کال کرتا ہے وہ ادا کرتا ہے۔ اس نظام کوCalling Party Pays، یعنی CPP کے نام سے منسوب کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دھماکہ خیز ترقی کا معجزہ رونما ہوا، جہاں ملک بھر میں صرف تین لاکھ موبائل فون تھے ان کی تعداد ایک کروڑ 10 لاکھ سے بھی تجاوزکر گئی ہے ،جسے اب معاشی ترقی کے اعتبار سے نہایت تیزی سے ترقی پانے والا شعبہ گردانا جاتا ہے۔

2000ءتک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی اسی قسم کی پسماندہ صورت حال کا سامنا تھا۔اس کی بنیادی وجہ مناسب تربیت یافتہ افرادی قوت کی شدید کمی تھی، کیونکہ اس وقت شاذو نادر ہی جامعات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے تھے اور نہ ہی جامعات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کی سطح کے اہل اساتذہ موجود تھے، لہٰذا ایک بڑی تعداد میں روشن دماغ اور ذہین طلباءوطالبات کو پی ایچ ڈی کی سطح پر تربیت کے لئے بیرون ممالک بھیجا گیا تاکہ جامعات کو مستحکم کیا جا سکے۔ آئی ٹی کی صنعت کو مزید مستحکم کرنے کے لئے 2001ءمیں آئی ٹی کی صنعت کو 15 سالہ ٹیکس کی چھوٹ دی گئی، اسی قسم کے کئی اقدام اٹھائے گئے، نتیجہ یہ ہوا کہ سوفٹ ویئر کی صنعت نے گزشتہ دہائی میں شاندار وسعت اختیار کر لی، جو ایک محتاط اندازے کے مطابق2001ءمیں تین کروڑ ڈالر سالانہ سے بڑھ کر آج ایک ارب سالانہ ہو گئی ہے۔ آئی ٹی کی صنعت کی پیداوار تقریباً 20فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کا پہلا منصوعی سیارہ Pak Sat I بھی 2001ءمیں خلا میں بھیجا گیا تھا جو خلا میں ایک اہم جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ 2001ءمیں پاکستان کے تمام بڑے ہوائی اڈوں کو وائرلیس انٹرنیٹ کی سہولت سے لیس کیا گیا جو اس وقت یورپ کے بڑے بڑے ہوائی اڈوں پر بھی موجود نہیں تھی۔ انٹیلی جنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کے ساتھ میری ایک میٹنگ باہمی تعاون سے اینٹل کے فنڈ سے انٹرنیٹ KIOSKS قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا،جس کے تحت تمام بڑے ہوائی اڈوں پر انٹرنیٹ KIOSK قائم کئے گئے اور 2000ءاور 2002ءکے قلیل عرصے میں جدید آئی ٹی کی صنعت کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اگر پاکستان تیزی سے بدلتی دنیا کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی جی ڈی پی کا کم از کم7فیصد حصہ تعلیم، سائنس وٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے مختص کرنا ہوگا، کیونکہ دور جدید میں محض یہی رفتار اور دیر پا ترقی کی بنیاد ہیں۔

  (بشکریہ روزنامہ ”جنگ“ لاہور)  ٭

مزید :

کالم -