کراچی ہے کرچیِ کرچیِ

کراچی ہے کرچیِ کرچیِ
کراچی ہے کرچیِ کرچیِ

  

شام کے چھ بج رہے تھے تقریبا ہر طرف اندھیرا چھا چکا تھا آ فس کی سیڑھیاں چڑھتے ہو ئے موبائل فون کی گھنٹی بجی ایک نا معلوم نمبر ! لیکن ہر اخبار نویس کی طرح نا معلوم نمبر کی کال بھی سننا پڑتی ہے جبکہ اب بہت سے دیگر لوگ صرف اور صرف موبائل میں محفوظ کئے ہوئے نمبرز سے آ ئی ہو ئی کال ہی سنتے ہیں ۔ ابھی میں نے پوری طرح ہےلو بھی نہیں کہا تھا کہ ایک نسوانی آ واز میری سما عتوں سے ٹکرائی ۔ معاف کےجئے گا! آپ غا لباً اخبار میں ہو تے ہیں ۔ جی محترمہ یقیناً ! میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں ؟ میں نے جوابا کہا ۔ کہنے لگیں ! ذرا جلدی سے بتائیے گا آ ج کا اسکو ر کیا ہے؟ میں تھوڑا ہی نہیں بلکہ بہت حیران رہ گیا آج تو کوئی میچ نہیں ہے، T20تو کب کا ختم ہو چکا ہے۔ آپ کس میچ کے اسکو ر کی بات کر رہی ہیں ۔ میں نے قدرے حیرا نگی سے استفسار کیا ۔ آپ عجب اخبار نویس ہیں ، آ پ تو بڑے بے خبر ہیں، آ پ کو پتا ہی نہیں کہ اسکو ر صرف میچ کا نہیں ہو تا خاتون نے تھوڑے تےز اور درشت لہجے میں بات کی۔ میں اپنی کم علمی کو محسوس کرتے ہو ئے جی جی کرنے لگا ۔ دوسری جانب سے پھر آ واز آئی، جناب عالی ! میری مراد یہ تھی کہ شہر میں اب تک کتنے لو گ ما رے گئے ؟ مرنے والوں کی تعداد معلوم کرنا چا ہتی ہوں ۔ اسے ہی اسکو ر کہتے ہیں ۔ اوہ میرے خدایا اب یہ ٹرم یہاں استعمال ہو گی؟ میں نے حیرانگی سے جواب دیا۔ محترمہ نے خفا ہوتے ہوئے کہا در اصل میرے ہاں لائٹ نہیں آ رہی، کےبل نہیں چل رہا اس لئے آپ کو تکلیف دی ۔ خوامخواہ اپنا اور آپ کا بھی وقت ضائع کیا اور فون بند کردیا۔

میں ایک لمحے کو ششدر رہ گیا ۔ ہم مرنے والوں کی تعداد کو کس طرح شمار کرنے لگے ہیں اور کتنے آرام اور سہولت سے اس پر گفتگو کرتے ہیں۔

اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے سورچ رہا تھا کہ لوگ اس صورتحال سے اگر چہ بہت پریشان ہیں لیکن کتنی تیزی سے ایڈجسٹ کررہے ہیں ۔

دس ماہ !1815افراد لقمہ اجل !دوسرے ہزار کی طرف تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد !کیا واقعی ہمیں ذہنی مریض بناچکی ہے ۔

جیسے جیسے وقت گزررہا ہے بااثر لوگ تیزی سے دیوار بند ہورہے ہیں ۔حتیٰ کہ رئیس شہر نے اردگرد کے گھروں کو اپنے ”ہاوس“ کے ساتھ ملا کر ایک شاہراہ کو بھی اپنے احاطے میں شامل کرلیا ہے ۔دیواریں چنوادی گئی ہیں ۔راستے مقفل ہیں !چوراہوں پر لگے ہوئے ناکے ابھی تک شہر میں موجود ہزاروں دہشت گردوں کو پہچاننے میں ناکام ہیں ۔

بہت سے سوال ہیں جو اعلیٰ عدلیہ کے منصف ،سیکیورٹی کے اداروں کے ذمہ داران سے پوچھ رہے ہیں ۔ایسے ہی بہت سے سوال میرے ذہن میں ہر شہری کی طرح پیدا ہوتے ہیں کہ دنیا ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے جرائم کی روک تھام کرتی ہے اور ہم خود کو اس سے دور رکھ کر کنٹرول کرنے کی کوشش کیوں کررہے ہیں ۔شہر میں خود ساختہ پہرے دار کہاں سے آتے ہیں ؟ آخر انہیں کون اجازت دیتا ہے کہ تم اس علاقے کے محافظ بن جاو اور علاقہ مکینوں سے ماہانہ فیس بھی وصول کرو ،جب چاہو اپنی جگہ کسی اور کو تعینات بھی کرسکتے ہو ۔اگر صوبائی محکمہ داخلہ نے متوازی عدالتی نظام قائم کررکھا ہے اور پیرول پر خطرناک افراد کو رہائی مل رہی ہے تو ہر شریف شہری کو منصفانہ طور پر اسلحہ بھی دے دو تاکہ اس غیر منصفانہ رویے کا مداوا ہوسکے ۔

سیاستدانوں کے پرائیویٹ گارڈز کو کون چیک کرتا ہے ۔یہ کون ہیں ؟ اگر بیگار نہ ملے تو ضروریات زندگی کیسے پوری کرتے ہیں ؟ بغیر نمبر پلیٹ ،موت بانٹتی گاڑیاں کس کس کی سرپرستی میں سڑکوں پر رواں دواں ہیں ۔الغرض بہت سے سوال ذہن میں گردش کررہے ہیں ۔جن کے جوابات جاننے کےلئے نامعلوم سے نامعلوم کا سفر بہت دشوار گزررہا ہے ۔

چند ہفتے پہلے امریکہ سے واپسی پر ،ہیتھرو ایئرپورٹ لندن میں بیٹھے ہوئے میری ایک ساتھی جرنلسٹ نے مجھے کہا !بس ایک دن کے بعد وہی کراچی ہوگا جہاں سے ایک ماہ پہلے گئے تھے ۔مجھے تو یہ سوچ کر وحشت ہورہی ہے کہ ڈپریشن بھی ساتھ لوٹ آئے گا ۔

میں آفس میں بیٹھا ہوا اس کی بات یاد کررہا تھا کہ زبان سے مصرع نکلا : او !یہ زمیں کھاگئی جواں کیسے کیسے!پھر خیال آیا کہ نہیں اصل مصرع یہ نہیں ہے بلکہ اس طرح ہے کہ : یہ زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے! مگر ہماری زمیں تو جواں کھارہی ہے ۔شاید اسی لیے سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے حکومت سندھ سے کہا ہے کہ اس زمین کا سروے جلد مکمل کرو تاکہ پتہ چل سکے کہ آخر اس زمیں کا پیٹ بھرا کہ نہیں ۔

جتنا سوچا جائے اتنے ہی سوال سر اٹھاتے ہیں !ا گر یہ کہیں کہ پاکستان کے کاروباری حب کو کنگال کرنے کے لئے بزنس تباہ کیا جارہا ہے تو یہاں کی کاروباری برادری کا خیال آتا ہے جو ایک طرح سے ” بھتہ“ دینے کے لئے تیار بھی ہے اور خلاف بھی ۔ وہ کسی ”آشنا پرچی“ سے نہیں ڈرتے بلکہ کسی نئی پرچی سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں ۔پارٹیاں اور گروپس بھی کیا کریں ؟ انہیں اپنا نظام چلانے کے لئے کسی سیدھے رستے سے پیسہ آتا دکھائی نہیں دیتا ۔یہ کوئی امریکہ تھوڑا ہی ہے کہ جہاں فنڈز ریزنگ کے لئے بھی "Seed Money"دی جاتی ہے ۔

علاقے غیر ہیں اور ایریا ز نوگو بنے ہوئے ہیں ۔لیکن یہ سوچنا پڑے گا کہ کوئی کسی زبان میں بات کرتا ہو ،عقیدہ کوئی بھی رکھتا ہو !ہیں تو سب انسان، سب کا خون ایک جیسا ہے ۔ کسی کے مرنے سے سب کے گھر والوں کو ایک جیسی تکلیف ہوتی ہے ۔

یہ ملک بھی اپنا ہے اور شہر بھی !آخر کب تک ، کراچی اپنی کرچیاں چنتا رہے گا ۔ ہر کوئی کسی نہ کسی غم میں ڈوبا ہوا ہے، کسی کی آنکھ کا نور مدھم پڑگیا ہے تو کسی کی کمر میں خم آچکا ہے ۔ان کرچیوں کو چنتے چنتے سب کے ہاتھ فگار ہوچکے ہیں ۔

امن، عدلیہ سے ملے یا کسی اور توسط سے لوگوں کو اسی کی تلاش ہے اور تمنا بھی جی صرف !الف سے امن!

میں نے اسی سوچ کے ساتھ سر جھٹکا ہی تھا کہ نیوز روم سے آواز آئی سر!کلرز نے آج کا ٹارگٹ بھی پورا کرلیا ہے !اسکور ڈبل فگر(Double Figure) عبور کرگیا ہے ۔

مزید :

بلاگ -