چیف الیکشن کمشنر عدلیہ کے تحفظات دورکرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟

چیف الیکشن کمشنر عدلیہ کے تحفظات دورکرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟
چیف الیکشن کمشنر عدلیہ کے تحفظات دورکرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟

  

الیکشن کمیشن آف پاکستان اور عدلیہ ہر دو کی خواہش ہے کہ آئندہ عام انتخابات کا انعقاد مکمل طور پر شفاف، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہو۔ اس حوالے سے چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم اپنی پوری صلاحیتوں ،دیانت ،اہلیت اور آئینی و قانونی توانائیوں کے ساتھ میدانِ عمل میں ہیں۔ وہ یہ خالص انتخابی عمل کی تکمیل کے لئے انتظامی افسروں کی بجائے عدالتی افسروں کی معاونت چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں سیاسی جماعتوں اور عوام کا انتظامیہ کی بجائے عدلیہ پر زیادہ اعتماد ہے۔ اس ملک میں اب تک ہونے و الے تمام عام انتخابات میں ماتحت عدالتوں کے ججوں نے انتخابی فرائض انجام دیئے، انہوںنے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ لیکن 2009ءمیں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں وفاقی شرعی عدالت اور تمام ہائیکورٹس کے چیف جسبٹس صاحبان پر مشتمل قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے یہ پالیسی جاری کردی کہ آئندہ کوئی عدالتی افسر الیکشن ڈیوٹی نہیں کرے گا۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ الیکشن میں شکست خوردہ عناصر کی طرف سے دھاندلی کے الزامات لگائے جاتے ہیں جس سے عدلیہ کی ساکھ اور غیر جانبداری پر بھی حرف آتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ماتحت عدالتوں کے ججوں کو اپنی تمام تر توجہ مقدمات کی سماعت پر مرکوز رکھنی چاہئے۔ چیف الیکشن کمشنر چاہتے ہیں کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی جوڈیشل افسر انتخابی فرائض انجام دیں اس بابت انہوں نے چیف جسٹس پاکستان کو ایک خط لکھا تھا جس میں استدعا کی گئی تھی جوڈیشل پالیسی 2009ءکے متعلقہ حلقہ پر نظر ثانی کی جائے۔ اس خط یا درخواست کا 3 نومبر کو قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس میں جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے مختلف تحفظات کااظہار کیا گیا تاہم یہ باب بند نہیں کیا گیا کہ بلکہ ان تحفظات کے حوالے سے پیدا ہونے والے مختلف نکات کی چیف الیکشن کمشنر سے وضاحت مانگی گئی ہے۔

ان نکات میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے جواب قانون میں موجود ہیں جبکہ بعض نکات کا تعلق چیف الیکشن کمشنر کے ممکنہ اقدامات سے ہے۔ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے سوال کیا ہے کہ عوامی نمائندگی ایکٹ مجریہ 1976 کے سیکشن 7(5) کے تحت ایک ضلعی ریٹرننگ افسر اپنا آزادانہ کردار کیسے ادا کرسکتا ہے؟ اس سیکشن کے تحت ضلعی ریٹرننگ افسر کو الیکشن کمیشن کی نگرانی ، ہدایات اور کنٹرول کے تحت ذمہ داریاں ادا کرنا ہوتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کوئی سیشن جج جب ضلعی ریٹرننگ آفیسر کے طور پر کام کرتا ہے تو وہ الیکشن کمیشن یا چیف الیکشن کمشنر کے ماتحتی میں چلا جاتا ہے۔

اس حوالے سے عرض ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر سے ایسی ہدایات کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی جو لاقانونیت یا جانبداری پر مبنی ہوں۔ دوسرا یہ کہ سیشن ججز مستقل طور پر عدلیہ کے ماتحت ہیں۔ اس لئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ مقامی سیاسی قیادت کے اثر و رسوخ سے متاثر ہوئے بغیر اپنی ذمہ داریاں نمٹا سکتے ہیں۔ انہیں عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 7(6) کے وہ اختیارات بھی تفویض کئے جاسکتے ہیں جو الیکشن کمیشن کو حاصل ہیں اور جن کے تحت الیکشن پر اثر انداز ہونے والے کسی بھی سرکاری ملازم یا پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے متعلقہ افسر یا اہلکار کو معطل کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت وہ پریذائڈنگ آفیسرز، پولنگ آفیسرز اور دیگر انتخابی عملے کا تقرر کرنے کا مجاز ہے۔ مذکورہ افسر سرکاری ملازمین میں سے لئے جاتے ہیں تاہم وہ مکمل طور پر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کے تابع ہوتے ہیں حتیٰ کہ وہ انہیں معطل کرنے کا بھی مجاز ہوتا ہے۔

قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے ایک یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ ایک ضلعی ریٹرننگ آفیسر کا انتخابی عمل کو شفاف، غیر جانبدارانہ اور آزاد رکھنے کے لئے پولنگ اسٹینشوں میں تبدیلی کے لئے کیا کردار ہو گا۔ اس کا جوا ب بھی قانون میں موجود ہے۔ عوامی نمائندگی ایکٹ مجریہ 1976ءکے سیکشن 8(2) کے تحت ضلعی ریٹرننگ آفیسر الیکشن کمیشن کی ہدایت پر پولنگ اسٹیشنز کی فہرست میں تبدیلی کر سکتا ہے اس حوالے سے بھی الیکشن کمیشن ایک ہدایت کی صورت میں اپنے اختیارات ضلعی ریٹرننگ آفیسر کو تفویض کرکے اس معاملے میں خود مختار بنا سکتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماتحت عدالتوں کے ججوں کی طرف سے الیکشن ڈیوٹیاں انجام دینے سے کیا علیحدگی اختیارات کے آئینی آرٹیکل کی خلاف ورزی تو نہیں ہو گی؟ اس سلسلے میں آئین کے آرٹیکل 219 (سی) کی مثال دی جاسکتی ہے جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو الیکشن ٹربیونلز تشکیل دینے کا اختیار دیا گیا ہے جو انتخابی عذر داریوں کی سماعت کرتے ہیں۔ یہ ٹربیونلز ہائیکورٹس کے ججوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور انتخابی عذر د اریوں کے حوالے سے انتظامی طور پر چیف الیکشن کمشنر کی ہدایات کے تابع ہوتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر ہی انتخابی عذر داریوں کی سماعت کے انتظامی معاملات کنٹرول کرتا ہے۔ اگر الیکشن ٹربیونلز میں اعلیٰ عدالتوں کے ججز کام انجام دے سکتے ہیں تو ماتحت عدالتوں کے جج ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز وغیرہ کے طور پر کام کیوں نہیں کرسکتے۔ آئین کے تحت الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے جو انتظامیہ کا ماتحت ہے نہ ہی اس کا حصہ ہے۔ اس لئے یہ معاملہ علیحدگی اختیارات کے آرٹیکل کی زد میں نہیں آتا۔

آئین کے آرٹیکل 218(3) کے تحت الیکشن کمیشن کو وہ تمام اقدامات کرنے کا اختیار حاصل ہے جو انتخاب کو ایمانداری ،غیر جانبداری اور حق و انصاف کے ساتھ منعقد کرانے کے لئے ضروری ہوں۔ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے 8 جون2012ءکو ”ورکرز پارٹی پاکستان کیس“ میں ایک حکم بھی جاری کیا تھا جس میں ایماندارانہ ،شفاف ،غیر جانبدارانہ اور مبنی بر انصاف انتخابات کے لئے مختلف ہدایات جاری اور راہنما اصول فراہم کئے تھے۔ اس فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن کو آرٹیکل (218) (3) کے تحت حاصل اختیارات کو نہ صرف تقویت ملی بلکہ ان کا دائرہ بھی وسیع ہوا۔ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے اسی تناظر میں انتخابات سے قبل انتخابات کے دوران اور انتخابات کے بعد دھاندلی روکنے کے لئے کئے جانے وا لے اقدامات کے بارے میں سوال کیا ہے۔

یوں نظر آتا ہے کہ اس ملک کی عدلیہ شفاف اور آزادانہ و غیر جانبدارانہ انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن کو سہولت بہم پہچانا چاہتی ہے ۔قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے تحفظات دراصل اعتراضات نہیں بلکہ وہ نکات ہیں جن کا حل تلاش کرکے ملکی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات منعقد کرائے جاسکتے ہیں۔ ورکرز پارٹی پاکستان اور پاکستان وطن پارٹی کے کیسوں میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روح کو دیکھا جائے تو انتخابی عمل کو شفاف اور آزادانہ بنانے کے لئے الیکشن کمیشن ملک بھر کی انتظامیہ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے۔ حتیٰ کہ الیکشن کمیشن انتخابی حلقوں کو اسلحے سے پاک کرنے اور ٹارگٹ کلنگ جیسے اقدامات روکنے کے احکامات جاری کرنے کا بھی مجاز ہے۔ آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت وفاقی اور صوبائی حکام و انتظامیہ کارہائے منصبی کی انجام دہی کے لئے پہلے ہی الیکشن کمیشن کی مدد کرنے (احکامات ماننے) کے پابند ہیں اس پر مستزاد یہ کہ سپریم کورٹ کے فیصلے بھی اس حوالے سے موجود ہیں۔ عوامی نمائندگی ایکٹ مجریہ 1976ءکے سیکشن 11(اے) کے تحت تو الیکشن کمیشن کو یہ اختیاربھی حاصل ہے کہ وہ سمجھے کہ شفاف الیکشن کا انعقاد ممکن نہیں تو وہ الیکشن پروگرام بھی تبدیل کرسکتا ہے۔ سپریم کورٹ انتخابی عمل میں الیکشن کمیشن کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتی ہے۔اس بات کو چیف الیکشن کمشنر بھی سمجھتے ہیں، اس لئے توقع کی جا سکتی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر عدلیہ کے تحفظات دور کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، جس کے نتیجہ میں جوڈیشل پالیسی تبدیل اور ماتحت عدالتوں کے ججوں کو الیکشن ڈیوٹی انجام دینے کی اجازت مل سکتی ہے۔ یہاں تک دھاندلی کے الزامات کے باعث عدلیہ کی ساکھ پر حرف آنے کا سوال ہے اس حوالے سے یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ ماتحت ججوں کی الیکشن ڈیوٹی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں ہو رہے ہیں اور نہ ہی چیف الیکشن کمشنر نے اپنے خط میں عدلیہ سے انتخابی عمل کی نگرانی کی استدعا کی ہے۔ انتخابات کا انعقاد اور انتخابی عمل کی نگرانی چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی آئینی ذمہ داری اور اختیار ہے، چیف الیکشن کمشنر نے تو اس ضمن میں عدلیہ سے معاونت طلب کی ہے تاکہ عمر کے آخری حصے میں وہ شفاف ،آزادانہ ،منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا اپنی زندگی بھر کا خواب پورا کر سکیں۔

مزید :

تجزیہ -