محرم الحرام کے دوران پنجاب حکومت کا سیکیورٹی پلان!

محرم الحرام کے دوران پنجاب حکومت کا سیکیورٹی پلان!
محرم الحرام کے دوران پنجاب حکومت کا سیکیورٹی پلان!

  

                                وزیراعلیٰ (پنجاب) میاں شہباز شریف نے محرم الحرام کے سلسلہ میں جو سیکیورٹی پلان پولیس کو دیا ہے۔ اس پلان سے انشااللہ صورت حال پر امن اور بہتر رہے گی پلان پر عمل درآمد کر کے پیدا شدہ مشکلات کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ وزیراعلیٰ (پنجاب ) کے ہمراہ جو ٹیم کام کر رہی ہے وہ بے لوث اور امن عامہ کی صورت حال کو بہتر بنانے کا عزم رکھتی ہے۔ امن و امان قائم رکھنے کے لئے شہر کو حساس قرار دے کر فوج اور رینجرز طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔9/10محرم کو موٹر سائیکل ڈبل سواری اور موبائل سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس ٹیم میں آئی ۔ جی ۔ پنجاب اور انوسٹی گیشن محمد عملیش اورڈی آئی جی آپریشن رانا عبد الجبار اور سی سی پی او لاہور اور ایس پی سٹی انوسٹی گیشن سرفراز ورک اور دیگر پولیس افسران شامل ہیں، جو نیک عزم کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دینے میں مصروف عمل ہے۔ پنجاب پولیس کا اصل مقصد ملک و سماج دشمن عناصر کی سرکوبی کرنا ہے اور امن عامہ کی صورت حال کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ (پنجاب)، چیف سیکرٹری پنجاب، ہوم سیکرٹری، آئی جی پنجاب نے میڈیا کو بتایا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے چیکنگ کا سخت نظام اپنایا جائے گا۔ سیکیورٹی کے لئے حکومت نے سراغ رساں کتے خریدنے اور سی سی ٹی وی کیمرے خریدنے کے لئے بھی فنڈز جاری کر دیئے ہیں۔ پولیس کمانڈوز، ریزرو پلاٹون، ایلیٹ فورس کے چاک و چوبند دستے اور ریگولر پولیس کے ایک لاکھ 20ہزار نوجوان کو جدید سہولیات اور خود کار علاقوں میں گشت کو یقینی بنانے کا عزم کر رکھاہے۔

 ایک اور رپورٹ کے مطابق محرم الحرام میں سیکیورٹی انتظامات کے سلسلے میں سی سی پی او چودھری شفیق احمد نے پولیس اور سی ٹی او نے وارڈنز کی 10محرم تک چھٹیوں پر پابندی عائد کر دی ہے اور تمام ڈویژن کے ایس پیز کو ہدایت کی ہے کہ صرف انتہائی سنگین صورت حال میں کسی ملازم کو چھٹی دی جائے۔ 10محرم کے بعد چھٹیاں دی جائیں گی۔ سی ٹی او کے مطابق محرم میں لیڈی وارڈنز بھی خواتین کی سیکیورٹی کے لئے ڈیوٹی کریں گی۔ محرم الحرام میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو باقاعدہ لائحہ عمل بنانا ہو گا۔ جلوسوں اور مجالس کی سیکیورٹی کے سلسلے میں غیر معمولی حفاظتی اقدمات کرنا ہوں گے۔ ہر افسر اور اہلکار کو اپنی اپنی جگہ نہایت جانفشانی اور ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دینا ہوں گے ۔ کسی بھی غفلت کی صور ت میں سماج دشمن عناصر فائدہ اُٹھا کر شہر کا امن تباہ کر سکتے ہیں۔ ایس پی سٹی انوسٹی گیشن سرفراز ورک نے اہم چوراہوں اور چوکوں میں سفید کپڑوں میں پولیس کو بھی الرٹ کر دیا ہے کہ وہ عوام کے اندر گھوم پھر کر مشکوک افراد کی نگرانی کریں۔ سٹریٹ کرائم کے خاتمہ کے لئے موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ (پنجاب) نے عوام الناس کے مفادات کے تحفظ کا عزم کر رکھا ہے۔

 محرم الحرام کی پلاننگ بابت سیکیورٹی اپنی مثال آپ ہے رینجرز اور آرمی کے دستوں کو بھی محرم الحرام میں گشت پر مامور کیا گیا ہے، گزشتہ دنوں ایک اجلاس میں صوبائی وزیر خوراک بلال یٰسین نے ڈی ایس پی نیو انار کلی ، ڈی ایس پی اسلام پورہ ، ڈی ایس پی شفیق آباد اور دیگر ایس ایچ او کے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے قابل ستائش قرار دیا، کیونکہ مذکورہ افسران نے سماجی مذہبی اور ہر حلقہ کے معززین علاقہ سے امن عامہ کے سلسلے میں اجلاس کئے اور علاقہ میں پر امن فضا بحال رکھنے پر زور دیا ہے اور جرائم پیشہ افراد کے خاتمہ کا بھی عزم کیا گیا ہے فوج اور رینجر زطلب کرنے کے ساتھ ساتھ سراغرساں کتوں اور سی سی ٹی وی کیمروں کا استعمال کرنے کا فیصلہ اچھا اقدام ہے اس سے یقینا سیکیورٹی بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور شر پسند عناصر کی بھی کڑی نگرانی کی جا سکے گی، اس قسم کے اقدامات سے دیگر علاقوں کے مکینوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، ملک و قوم اور خصوصاً تہواروں کے دوران ہم سب کو مل جل کر حکومت کا ہاتھ بٹانا ہو گا اور ہر عقیدے کا قانون کے مطابق احترام کرنا ہو گا۔ درحقیقت اتحاد ۔ تنظیم ۔ یقین محکم اور اتفاق میں برکت ہوتی ہے،لہٰذا تمام سیاسی جماعتوں کو پاکستان کی بہتری کے لئے کام کرنا چاہئے۔    ٭

مزید :

کالم -