وزیراعلیٰ توجہ فرمائیں

وزیراعلیٰ توجہ فرمائیں

                                                            ےہ اےک مسلمہ حقےقت اور عالمی قانون ہے کہ کسی بھی وطن کے باسےوں کے جان ومال کا تحفظ رےاست کی ذمہ داری ہوتی ہے جو حکومتےں اپنے شہرےوں کو تحفظ فراہم کرنے مےں ناکام رہتی ہےں وہ خود ناکامی کے گڑھے مےں دفن ہوجاتی ہےں۔ انسانی جان کو دوطرح کے خطرات لاحق ہوتے ہےں اےک خطرہ ملک مےں بدامنی پھلانے والی قوتوں سے ہوتا ہے جس کے نتےجہ مےں عوام بھی لقمہ¿ اجل بن جاتے ہےں۔ دوسرا خطرہ اُن قوتوں سے ہوتا ہے جن کے ہاتھوں مےں بظاہر کوئی آتشےں اسلحہ تو نہےں ہوتا اورنہ ہی وہ نقصِ امن عامہ کا باعث بنتے ہےں مگر وہ جعلی مشروبات ، غےر معےاری خوراک، منشےات اور جعلی ادوےات کے ذرےعے انسانےت کے قاتل ٹھہرتے ہےں۔ اسی لئے پاکستان سمےت دنےا کے بےشتر ممالک مےں منشےات کی خرےدوفروخت کرنے والے مجرموں کےلئے سزائے موت کے قوانےن موجود ہےں۔ بعض ممالک مےں تو جعلی مشروبات بنانے کی سزا بھی موت ہے۔ صوبہ پنجاب کے باسےوں کی ےہ خوش قسمتی ہے کہ اہل پنجاب کو مےاںمحمدشہبازشرےف کی صورت مےں ایک فعال وزےراعلیٰ مےسر ہے۔ مےاں محمد شہباز شرےف نے جہاں مےٹرو بس منصوبہ ، اُجالا سکےم، آشےانہ سکےم اور لےپ ٹاپ سکےم جےسے بڑے کام کئے ہےں وہاں انہوں نے پنجاب فوڈ اتھارٹی قائم کرکے جعلی اشےائے خورونوش بنانے والوں کو نکےل ڈالنے مےں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔

اِس ضمن مےں لاہور کے سابقہ و موجودہ ڈی سی او صاحبان نے لاہور کو جعلی اشےائے خورونوش بنانے والے مافےا سے پاک کرنے کےلئے جو ذمہ دارےاں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ڈی او فوڈ چوہدری محمد اےوب کو دے رکھی ہےں اور جس طرح وہ جاں فشانی سے کام کررہے ہےں وہ قابلِ ستائش ہے۔ انسانی جانوں سے کھےلنے والے عطائی ڈاکٹروں کے خلاف سابقہ ڈی سی اولاہور نسیم صادق کی ہداےت پر ڈسٹرکٹ آفےسر(مانےٹرنگ اےنڈ انکوائری) امےن اکبر چوپڑا نے جس طرح مستعدی سے کام کےا ہے وہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور وزےرا علیٰ پنجاب مےاں محمد شہباز شرےف کے وژن کو فالو کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس حقےت سے تو کسی کو انکار نہےں کہ ہمارے ہاں مسائل زےادہ اور وسائل کم ہےں مگر کم وسائل کے باوجودبھی موجودہ حکومت سبک رفتاری کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کررہی ہے۔

مےں وزےراعلیٰ پنجاب مےاں شہباز شرےف کی توجہ اےک انتہائی اہم اور سنگےن مسئلہ کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ہاں اےک اےسا مافےا بھی موجود ہے جو انسانوں کوموت دےنے کے کاروبار مےںملوث ہے جس پر اگر فوری طور پرکوئی کارروائی نہ کی گئی ےا کوئی لائحہ عمل اختےار نہ کےا گےاتو انسانےت کا قاتل ےہ گروہ رفتہ رفتہ کئی ہنستی مسکراتی زندگےوں کو نگل جائے گا۔

پنجاب انسٹےٹےوٹ آف بلڈ ٹرانسفےوژن سروس کا ادارہ اےک اےسا ادارہ ہے جس کے تحت پنجاب بھر کے تمام تدرےسی اور غےر تدرےسی سرکاری ہسپتالوں مےں بلڈ بنک قائم ہےں۔ ان بلڈ بنکس کے قےام کا بنےادی مقصد ےہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں مےں علاج معالجہ کی غرض سے داخل ہونے والے اےسے مرےض جنہےں خون کی ضرورت ہو اُن کےلئے خون عطےہ کرنے والے لوگوں سے حاصل ہونے والے خون کو مناسب درجہ حرارت پر رکھنے اور خون کی سکرےننگ کی سہولےات مےسر ہوں۔

پنجاب انسٹےٹےوٹ آف بلڈ ٹرانسفےوژن سروس تمام سرکاری ہسپتالوں کے بلڈبنکس مےں مرےضوں کو عطےہ دئےے جانے والے خون کےلئے مفت بلڈ بےگ ، اور بلڈ سکرےننگ کےلئے استعمال کئے جانے والی” اسٹرپس “بھی بلامعاوضہ فراہم کرتی ہے۔ بلڈ بنکس کا عملہ اس بات کا پابند ہے کہ کسی مرےض کو خون عطےہ کرنے والے شخص کاخون سرکاری بلڈ بےگ مےں محفوظ کےا جائے اور اس کے بعد اس خون کا ٹےسٹ کےا جائے کہ کہےں عطےہ کرنے والے شخص کے خون میں ہےپا ٹائٹس بی ےا ہےپاٹائٹس سی ےا ٹی بی ےا اےڈزکاوائرس تو نہےں ہے۔مگر بدقسمتی سے سرکاری تنخواہےں حاصل کرنے والے اس عملے مےں موجود چند بدعنوان عناصر مرےضوں کے لواحقےن اور بلڈڈونرز سے حاصل ہونے والا ےہ خون پرائےوےٹ بلڈ بنکس کو فروخت کر دےتے ہےں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان حکومت کو پہنچتا ہے کےونکہ بلڈ بنکس مےں استعمال ہونے والے بلڈ بےگ حکومت سرکاری ہسپتالوں مےں داخل ہونے والے مرےضوں کےلئے مفت فراہم کرتی ہے جبکہ پرائےوےٹ مرےضوں کےلئے حکومت کا کوئی اےسا قانون نہےں ہے کہ انہےں بھی سرکاری بلڈ بےگ مہےا کئے جائےں۔

بدعنوان عناصر پرائےوےٹ اور غےر قانونی بلڈ بنکس کے مالکان کے ساتھ مل کر سرکاری بلڈ بےگز ، سرکاری اسٹرپس اونے پونے داموں پرائےوےٹ مرےضوں کو فروخت کر دےتے ہےں۔ان بلڈ بےگز پر حکومت پنجاب کی پرنٹ کی جانے والی مہر بھی اےک خاص قسم کے کےمےکل سے مٹا دی جاتی ہے۔ بات ےہےں تک ہو تو شاےد اسے برداشت کر لےا جائے مگر صوبہ بھر مےں قائم پرائےوےٹ بلڈ بنکس ڈونرز سے حاصل ہونے والا خون بغےر سکرےننگ کئے مرےضوں کو فروخت کر دےتے ہےں۔ ےہ خون پےشہ ور خون بےچنے والے لوگوں کی رگوں سے نچوڑا جاتا ہے۔ ان پےشہ ور لوگوں مےں منشےات کا استعمال کرنے والوں کی کثےر تعداد بھی شامل ہے جو مختلف قسم کے موذی امراض سے بھرا آلودہ خون فروخت کرنے مےں کوئی عار محسوس نہےں کرتے اور ےہی آلودہ خون مرےض کی رگوں مےں داخل کر دےا جاتا ہے جس سے بظاہر جس مرےض کو خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُس کی وہ ضرورت تو پوری ہو جاتی ہے ۔مگر وہ مرےض تندرست ہونے کے بجائے مختلف قسم کے موذی امراض کا دائمی مرےض بن جاتا ہے اور جلد ےا بدےر وہ بالآخر موت کے منہ مےں چلا جاتا ہے۔ دنےا بھر کے ترقی ےافتہ ممالک مےں پرائےوےٹ بلڈ بنکس بنانے کےلئے حکومت سے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ٹھہرتا ہے۔

پاکستان مےں اےسا کوئی قانون نہےں ہے ۔ جس کی وجہ سے ہر کوئی جب اور جہاں جی چاہے بلڈ بنک کا گھناﺅنا کاروبار کر سکتا ہے۔ مےری وزےراعلیٰ پنجاب مےاں محمد شہباز شرےف سے ےہ استدعا ہے کہ وہ اس سنگےن مسئلہ کی طرف خصوصی توجہ فرمائےں اور محکمہ صحت یا پنجاب بلڈٹرانسفےوژن اتھارٹی کوئی اےسا ضابطہ ضرور وضع کرے جس کے تحت ”پرائےوےٹ بلڈ بنکس “کو چیک اینڈ بیلنس سسٹم میں لایا جاسکے جبکہ اس گھناﺅنے کاروبار مےں پہلے سے ملوث مافےا کے خلاف تادےبی کارروائی کرنے کےلئے اس کا آغاز اگر لاہور سے کےا جائے تو بے جا نہ ہو گا کےونکہ ضلعی حکومت لاہور نے جس طرح وزےراعلیٰ پنجاب کی ہداےت پر لاہور شہر مےں گےس اور بجلی چوری کرنے والوں کو عبرت کا نشان بناےا ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ زندہ دلوں کے شہر مےں آلودہ خون کی فروخت کرنے والوں اس گھناﺅنے کاروبار میں ملوث مافیا، انسانیت کے قاتلوں اور موت کے سوداگروں کو بھی نشان عبرت بنادے گی ۔ تمام سرکاری ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور بلڈ بنکس کے سربراہان کو اس ضمن میں خصوصی ہدایات دی جائیں ۔ چھاپے مارے جائیں اور سرکاری بلڈ بیگ اور”ا سٹرپس“ کو پرائیویٹ بلڈ بنکوں کو فروخت کرنے والے سرکاری اہلکاروں کو بے نقاب کرکے قرار واقعی سزادی جائے ۔       ٭

مزید : کالم