تعلیم کا چلن

تعلیم کا چلن
تعلیم کا چلن

  


                                                     ریڈیو پاکستان کی ملازمت سے فارغ ہو کر قمر علی عباسی امریکہ سدھارے اور وہاں دنیا سے ہی رخصت ہو گئے۔ انہوں نے اپنے سفر زندگی کی ابتدا حیدرآباد سے کی تھی ۔ ان کے ساتھ محبتوں اور رفاقتوں کا قرض چکانے کے لئے ادارہ انوار ادب کے روح رواں مسرور احمد زئی نے خوبصورت محفل آراستہ کی جس میں حیدرآباد کے دو بار ڈپٹی کمشنر رہنے والے رٹائرڈ سول سروس کے افسر شفیق الرحمان پراچہ، انوار احمد زئی ،دوست محمد فیضی، ضیاءالاسلام زبیری، اداکار صداکار قاضی جاوید، منور سعید، رضوان صدیقی اور دیگر حضرات کراچی سے شرکت کے لئے تشریف لائے۔ قمر علی عباسی ادبی میدان میں بھی اپنی خدمات کی وجہ سے ایک مقام رکھتے ہیں۔ محفل میں جب لوگ ان کی یاد میں گفتگو کر رہے تھے تو کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو سوچ رہے تھے کہ یہ تعلیم کا چلن ہی تو تھا جس کی وجہ سے قمر علی عباسی بنے۔ ایک قمر علی ہی کیا، اس اسٹیج پر بیٹھے تمام حضرات کے ساتھ ساتھ حیدرآباد سے جو لوگ بھی چلے گئے، جن جن لوگوں نے بھی نام کمایا، وہ سب کچھ تعلیم ہی کی بدولت تو تھا۔

 حیدرآباد اس لحاظ سے ہمیشہ مالا مال رہا کہ وہاں تعلیم ، تعلیم داں اور تعلیمی ادارے اپنے تعلیمی چلن کے سبب ہی مشہور رہے۔ قیام پاکستان سے قبل تولا رام گرلز ہائی اسکول ہو، کندن مل گرلز اسکول ، نیو ودیا والا اسکول ہو، میرا اسکول ہو ، نیول رائے ہیرا نند اکیڈمی، سندھ ڈی جے کالج جو بعد میں گورنمنٹ کالج مشہور ہوا (گورنمنٹ کالج تو سابق صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کی وجہ سے یونی ورسٹی کا درجہ پاتے پاتے رہ گیا)یا کوئی اور ادارہ، اپنی تعلیمی خدمات کی وجہ سے مشہور تھے۔ سرکاری سطح پر صرف حیدرآباد ہائی اسکول (جو بعد میں مرحوم نور محمداخوند کی نہ بھلا ئی جانے والی گراں قدر خدمات کی وجہ سے ان کے نام پر نور محمد ہائی اسکول بن گیا) تھا۔ پاکستان بنا تو حمایت اسلام ہائی اسکول ، غلام حسین ہدایت اللہ اسکول، میمن انجمن اسکول، سٹی کالج، مسلم کالج ، غزالی کالج، ایس کے رحیم ہائی اسکول اور درجنوں دیگر تعلیمی ادارے قائم ہوئے، تاکہ بچوں کو تعلیم دی جا سکے۔ تعلیم اور کاروبار، تو بہ توبہ، تھو تھو والی صورت حال ہوا کرتی تھی۔

دونوں ادوار ، قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں تعلیمی ادارے مخیر حضرات کے تعاون سے یا چندے جمع کر کے قائم کئے گئے تھے۔ اگر چندے جمع نہیں کئے جاتے تو تولا رام گرلز اسکول ( اب جہاں سٹی کالج قائم ہے) کے ہر کمرے پر کمرے کی تعمیر کے اخراجات برداشت کرنے والوں کے ناموں کی تختی نہیں لگی ہوتی۔ تعلیم کا چلن عام تھا۔ سینٹ بونا وینچر اسکول میں چونکہ مسیحی مشنری کے انتظام کے تحت تعلیم دی جاتی تھی تو حیدرآباد میں آباد متمول شیخ برادری کے تعلیم یافتہ لوگوں نے حمایت اسلام اسکول قائم کیا پھر سچل کالجوں کا سلسلہ شروع کیا۔ لوگ تعلیم کے نام پر کاروبار کو مکروہ قرار دیا کرتے تھے۔ لوگوں میں تعلیم کے لئے خدمات انجام دینے کا ایسا جذبہ موجود تھا جس کے نتیجے میں ہی تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک ایسی بڑی تعداد پیدا ہوئی، جس نے اپنے اپنے شعبے میں نام پیدا کیا۔ ایک ایسا جذبہ تھا جس کا نعم البدل ان لوگوں کی صورت میں سامنے آیا جنہوں نے ان اداروں سے تعلیم حاصل کی۔

 درجنوں ایسے اساتذہ کے نام اب بھی احترام کے ساتھ یاد کئے جاتے ہیں جیسے لوگ کسی اپنے بہت ہی قریبی رشتہ دار کو یاد کریں۔ غلام حسین ہدایت اللہ ہائی اسکول اور ماڈل اسکول کے پرنسپل سید اکرام علی، نور محمد ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر غلام حسین ہالاوی، کینٹونمنٹ ہائی اسکول کے علی اکبر تنیو، ، عنایت علی خان، آفتاب احمد شیخ، مسلم کالج کے پرنسپل پروفیسر اللہ بخش نظامانی، پروفیسر کے این آئر، پروفیسر مرزا عابد عباس، پروفیسر عبدالرحیم ڈھیتو، پروفیسر زبیر احمد فردوسی، پروفیسر خالد وہاب اور درجنوں دیگر حضرات جو حیدرآباد کے لئے رو شنیوں کے مینار تھے۔ جن کی وجہ سے حیدرآباد میں تعلیم کا چلن تھا۔ اگر مرزا عابد عباس تعلیم کے ساتھ ساتھ سٹی کالج میں غیر نصابی سرگرمیوں کا رجحان پیدا نہ کرتے تو شفیق الرحمان پراچہ، انوار احمد زئی، رضوان صدیقی اور لاتعداد لوگ اپنی صلاحیتوں کا لوہا نہ منوا پاتے۔ سٹی کالج اپنی ان غیر نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے پاکستان ( بنگلہ دیش جو اس وقت مشرقی پاکستان تھا اور پاکستان کا حصہ تھا) بھر میں جانا پہچانا جاتا تھا۔ تعلیم کا چلن بھی عجیب چلن ہوتا ہے۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا ایسا خبط سوار ہوتا ہے کہ لوگ مقابلے کی دوڑ میں ہی مصروف رہا کرتے ہیں۔ ہفتے کے روز ہی حیدرآباد میں شطرنج ایسو سی ایشن نے بچوں کے مقابلے کرائے ۔ مہتمم انوار قریشی اور سلمان فاروقی جو خود بھی شطرنج کے مایہ ناز بین الاقوامی کھلاڑی ہیں کہتے ہیں کہ بچوں میں بے انتہا صلاحیتیں موجود ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان کی نشوونما پر دھیان کون دے۔ حیدرآباد کے بعض نجی اسکولوں میں بچوں کو شطرنج کھیلنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے ،اگر سرکاری اسکولوں میں بھی غیر نصابی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان میں مایہ ناز بین الاقوامی شطرنج کھلاڑیوں کی تعداد دس بارہ سے ہزاروں میں نہیں تو سینکڑوں میں ہو سکتی ہے۔ بھارت کی ریاست تامل ناڈو میں تو یہ کھیل سرکاری طور پر منظور شدہ ہے ۔ یہاں تو تقریری مقابلوں کے رجحان کی پرورش بھی نہیں کی جاتی۔ شطرنج کے کھیل سے ذہن چلانے اور بر وقت منصوبہ بندی کرنے کا موقع ملتا ہے۔ نوجوانوں کو ایک ایسی مصروفیت ہاتھ آتی ہے کہ وہ گلیوں میں گھومنے کی بجائے کسی جگہ بیٹھے کھیل میں مصروف ہوتے ہیں۔ حکمرانوں کی عقل پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ کھیل کے میدان نہیں ہیں، لائبریریاں نہیں ہیں، کلاسوں میں بچوں کو اخبار کا مطالعہ کرانے میں دلچسپی نہیں لی جاتی، یہ سارے کام اساتذہ کو کرنے ہوتے ہیں لیکن یہاں تو سرکاری اساتذہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ باعث ندامت ہے۔

اب تو تعلیم کا چلن ہی نہیں رہا۔ سرکاری سطح پر تعلیم میں عدم دلچسپی کے باعث تعلیم اب کارپوریٹ شعبے کا ایسا حصہ بن گیا ہے جس میں سرمایہ کاری بغرض منافع کی جاتی ہے۔ بہترین ادارے قائم ہو گئے ہیں لیکن وہاں تعلیم وہی لوگ حاصل کر سکتے ہیں جو اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ ماضی میں بھی تعلیم پر سرمایہ کاری کی جاتی تھی لیکن وہ سرمایہ کاری افراد کی نشو ونما پر کی جاتی تھی۔ اس سرمایہ کاری سے بھی منافع ہوا کرتا تھا جو کسی فرد کو حاصل نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ منافع اجتماعی منافع کی صورت میں ہوتا تھا ، جس سے معاشرے کو فائدہ پہنچا کرتا تھا۔ اب تو تعلیم کا چلن ہی نہیں رہا۔ حکومتوں نے ہزاروں ادارے قائم کئے، لاکھوں افراد کو محکمہ تعلیم میں ملازمتیں حاصل ہیں، سندھ حکومت میں تمام سرکاری ملازمین کی آدھی تعداد صرف محکمہ تعلیم کے ملازمین پر مبنی ہے جو ڈھائی لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ سالانہ بہت بڑی رقم محکمہ تعلیم پر خرچ ہوتی ہے، نتیجہ صفر ہے۔ سندھ میں تعلیم کا شعبہ جس بری طرح ناکامی سے دوچار ہے اس پر رونا آتا ہے۔ اساتذہ کو آج سرکاری خزانے سے جو معاوضہ میسر ہے اور مراعات حاصل ہیں ، وہ کبھی بھی ماضی کا حصہ نہیں رہی ہیں لیکن اساتذہ خصوصا پرائمری اساتذہ کی اکثریت اسکولوں میں اپنی ڈیوٹی انجام دینے ہی نہیں جاتی۔ ڈسٹرکٹ ججوں نے سپریم کورٹ میں سندھ کے اسکولوں کے بارے میں جو رپورٹ پیش کی ہے اس رپورٹ کو سندھ کے وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم کو ضرور پڑھنا چا ہئے، تاکہ وہ جاہل اساتذہ کو فار غ کریں اور اس بات کو تو یقینی بنا سکیں کہ اساتذہ ہر حال میں اپنے فرائض انجام دینے سکول جائیں۔ اگر تعلیم کا چلن عام نہیں ہوگا تو یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ قوم ناخواندہ افراد کا ہجوم سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھے گی۔ ٭

مزید : کالم