پاک بھارت تعلقات!سرتاج عزیز کا متوقع دورہ

پاک بھارت تعلقات!سرتاج عزیز کا متوقع دورہ

بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر سلمان بشیر نے نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی لیڈر شپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ الزام تراشی کا سلسلہ چھوڑ کر تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے کیونکہ مسائل میز پر آمنے سامنے بیٹھ کر حل کئے جا سکتے ہیں، پاکستان کے ہائی کمشنر کی یہ گفتگو وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کی بھارت آمد کے حوالے سے تھی۔ سرتاج عزیز اس ماہ کے آخری عشرے میں نئی د ہلی جائیں گے جہاں ان کی ملاقات بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید سے ہو گی اور دونوں راہنما پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے بات چیت کریں گے اس سے یہ توقع بھی وابستہ کی جا رہی ہے کہ شاید برف پگھلے گی۔

پاک بھارت تعلقات روزِاوّل سے تناﺅ اور محاذ آرائی کا شکار رہے ہیں۔ اس سلسلے میں دو سے زیادہ جنگیں بھی ہو چکیں،معاملہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بھی ہے اس کے باوجود بھارت کی طرف سے مثبت رویے کا اظہار نہیں کیا جاتا، خود بھارتی حکمران (سابقہ یا موجودہ) بار بار یہ کہتے ہیں کہ تمام تنازعات دو طرفہ بات چیت سے حل ہوں گے اور جب یہ سلسلہ چلتا ہے تو اس میں رکاوٹ پیدا کر دی جاتی ہے، ایسے لگتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی حکمت عملی کا حصہ ہے بیک چینل ڈپلومیسی کے توسط سے جامع مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور فریقین مختلف امور کے حوالے سے وزارتی کمیٹیاں بنا کر بات چیت کر رہے تھے۔ اسی کے نتیجے میں پاک بھارت تجارت کا سلسلہ بڑھا اور اب بھی واہگہ کے راستے تجارت جاری ہے۔ جبکہ اس سلسلے میں معاہدے بھی ہوئے تھے پھر ویزا کی سہولتوں کے حوالے سے بھی ایک تفصیلی معاہدہ ہو گیا تھا لیکن بھارت نے ممبئی حادثے کی آڑ میں سب کچھ ختم کر دیا اور اب تک یہ سلسلہ اسی آڑ میں بحال نہیں ہو سکا اور اس سال بھارت میں قومی انتخابات بھی ہیں جس کی وجہ سے صورتحال مزید خراب کر دی گئی ہے۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کا اعلان کیا اور وہ اب بھی اس پر قائم ہیں حال ہی میں انہو ں نے برطانیہ میں بھی یہ عزم دہرایا ہے بھارت نے کافی عرصہ سے جھوٹے الزام لگا کر کنٹرول لائن پر چھیڑ چھاڑ جاری رکھی ہوئی ہے نیو یارک(امریکہ) میں دونوںوزرائے اعظم کی ملاقات میں طے ہوا تھا کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز ملاقات کر کے یہ کشیدگی ختم کرائیں گے بھارت اب تک اس میٹنگ پر رضامند نہیں ہو پایا صرف یہ ہوا کہ گزشتہ ہفتے فلیگ سٹاف میٹنگ ہوئی جو قریباً ناکام رہی کہ دونوں طرف سے اپنے موقف پر اصرار کیا گیا بھارت کے افسروں نے الزام لگائے جو پاکستان کی طرف سے رد کر دیئے گئے اور جوابی الزام لگائے گئے تناﺅ اب بھی موجود ہے۔

اسی پس منظر میں پاکستان کے ہائی کمشنر نے یہ مشورہ دیا ہے۔ ایک بات البتّہ خوش آئند ہے کہ ہندوﺅں کے تہوار دیوالی کے موقع پر سابقہ روایت کو برقرار رکھا گیا واہگہ کی عالمی سرحد پر پاکستان کی طرف سے مٹھائی پیش کی گئی تو بھارتی سکیورٹی فورس نے جوابی طور پر یہ تحفہ پیش کیا۔ یہ بہتر رویہ ہے توقع کرنی چاہئے کہ جب پاکستان کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز بھارت جا کر بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید سے مذاکرات کریں گے تو برف پگھلے گی اور بات چیت پھر سے شروع ہو جائے گی۔           ٭

مزید : اداریہ