اہم فیصلے پارلیمنٹ کے اندر ہونے چاہئیں

اہم فیصلے پارلیمنٹ کے اندر ہونے چاہئیں

                                                                                                    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے فاٹا میں قیام امن کے لئے تمام پارلیمانی پارٹیوں نے حکومت کو مینڈیٹ دیا تھا، امن مذاکرات کے لئے حکومت کی پس پردہ کوششیں نتیجہ خیز مرحلے پر پہنچیں تو امریکہ نے ڈرون حملہ کرکے قیام امن کی کوششوں کو سبوتاژ کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں پر قومی حکمت عملی اپنانے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی ) بلائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف نے واقعی نیٹو سپلائی روکی تو اس کا ساتھ دیں گے۔دوسری جانب طالبان کی نئی قیادت نے حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے: ”حکومت امریکی غلام ہے“۔

حکومت نے طالبان سے مذاکرات کے مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی تھی، جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ حکومت کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہئیں۔ ابھی یہ کانفرنس بمشکل برخواست ہوئی تھی اور مذاکرات کے لئے ایجنڈے کی تیاریاں وغیرہ جاری تھیںکہ چند ہی روز میں اوپر تلے تشدد کے چند واقعات ہوگئے تو یہ خیال سامنے آنے لگا کہ اس ماحول میں تو مذاکرات نہیں ہو سکتے۔جو جماعتیں مذاکرات کے لئے بڑی پُرجوش تھیں، وہ بھی ڈانواں ڈول ہوگئیں۔مذاکرات کے مخالفین تو پہلے سے مخالف تھے، ان کے ہاتھ ایک اور دلیل آ گئی اور انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ ہم تو پہلے سے ہی مذاکرات کو سعیءلا حاصل سمجھتے ہیں۔مذاکرات کے راستے کو چھوڑ کرسیدھے سبھاﺅ آپریشن کرنا چاہیے اور ان قوتوں کو جو ریاست کی اتھارٹی کو چیلنج کررہی ہیں،ریاست کا مطیع و فرمانبردار بنانا چاہیے۔یہ بحث جاری تھی، بلکہ طویل تر ہوتی جارہی تھی اور کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ مذاکرات کا سرا کہاں سے پکڑا جائے،اس دوران مختلف نوعیت کی خبریں آتی رہیں۔حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ پس پردہ مذاکرات جاری ہیں، جبکہ طالبان نے کہا کہ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔اس بحث مباحثے میں شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ ہوگیا جس میں طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود میزائل کا نشانہ بن گئے اور یوں مذاکرات پس منظر میں چلے گئے اور ساری صورت حال نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا۔اب طالبان کی نئی قیادت کہتی ہے کہ پاکستانی حکومت تو امریکی غلاموں پر مشتمل ہے۔ان سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

مذاکرات کے ساتھ ساتھ ڈرون حملوں کی وجہ سے یہ سوال ایک بار پھر اُٹھ کھڑا ہوا ہے کہ نیٹو سپلائی بھی بند ہونی چاہیے۔عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم ہوتے تو ڈرون گرانے کا حکم دے چکے ہوتے اور اگر ان کی جماعت نیٹو سپلائی روکنے کے معاملے پر ان کی حمایت نہ کرتی تو وہ تحریک انصاف بھی چھوڑ دیتے۔وزیراعظم تو وہ نہ جانے کب بنیں گے، بنیں گے بھی یا نہیں، لیکن ایک صوبے کی حکومت ان کی جماعت کے پاس ہے، انہیں یہ سوال اپنی جماعت کے اندر زیر بحث لانا چاہیے کہ ان کی حکومت اس صوبے میں کیا کچھ کرسکتی ہے اور کیا نہیں کرسکتی۔مولانا فضل الرحمن اور سید منور حسن نے نیٹو سپلائی روکنے کے معاملے پر ان کی کوششوں کی حمایت کردی ہے۔اس ساری صورت حال پر مولانا فضل الرحمن ایک اور اے پی سی بلانے کے خواہش مند ہیں۔ہمارے خیال میں یہ سارے معاملات کسی نئی اے پی سی کی بجائے پارلیمنٹ میں زیر بحث آنے چاہئیں۔پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے، جن جماعتوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہے، تقریباً وہی اے پی سی میں شریک ہوئی تھیں، اس لئے پارلیمنٹ کو نظرانداز کرکے اے پی سی کو اہم فیصلوں کے لئے بطور پلیٹ فارم استعمال کرنے پر زیادہ زور دیناسمجھ سے بالاتر ہے، ایک اے پی سی پہلے سے ہو چکی ہے جس میں جو فیصلہ ہواتھا اس پر تو بوجوہ عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی، اب پھر ایک اور اے پی سی کا مطالبہ کچھ عجیب معلوم ہوتا ہے۔اس وقت جو بھی مسائل درپیش ہیں ،وہ پارلیمنٹ میں زیر بحث آنے چاہئیں۔سب سے پہلے تو ڈرون حملے ہی ہیں، جن کی وجہ سے پاک امریکہ تعلقات ایک بار پھر دوراہے پر آ گئے ہیں۔پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا ہے کہ ڈرون حملوں کے معاملے پر امریکی حکومت نے وعدے کی خلاف ورزی کی ہے اور ڈرون حملے سے امن کی سنجیدہ کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔دوسری طرف امریکہ کے وزیرخارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ اہم طالبان کمانڈر کی ہلاکت طالبان کے لئے بہت بڑا دھچکا ہے۔ پاکستان میں ڈرون حملوں سے آنے والے دنوں میں مزید کامیابیاں ملنے کی توقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نہ صرف ڈرون حملے جاری رکھے گا، بلکہ ان ڈرون حملوں کے نتائج کے بارے میں بھی پُرامید ہے۔یہ وہ نقطہ ءنظر ہے ،جس سے پاکستان اتفاق نہیں کرتا، تازہ ڈرون حملے کے بعد تو اب تقریباً اس امر پر اتفاق رائے پیدا ہوگیا ہے کہ اس سے مذاکرات کا عمل ڈی ریل ہوگیا ہے اور طالبان کی نئی قیادت کے خیالات کو پیش نظر رکھا جائے تو نہیں کہا جا سکتا کہ امن مذاکرات دوبارہ شروع بھی ہو سکتے ہیں یا نہیں، اب طاقت کے ذریعے ڈرون حملے روکنے کا آپشن باقی ہے یا پھر نیٹو سپلائی روکی جا سکتی ہے تو کیا ان راستوں کو اختیار کیا جا سکتا ہے اور کیا نیٹو سپلائی روکنے سے مطلوبہ نتائج مل سکتے ہیں´۔ ان معاملات پر پارلیمنٹ کے اندر غور ہونا چاہیے، جن جماعتوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی نہیں ہے،ضروری سمجھا جائے تو ان کے ساتھ الگ سے مشاورت ہو سکتی ہے، لیکن مشورے کا بہترین فورم پارلیمنٹ ہی ہے۔ اگر پارلیمنٹ سے ماورا اے پی سی میں فیصلے ہوتے رہے تو یہ تاثر ملے گا کہ پارلیمنٹ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے،اس لئے بہتر یہی ہے کہ ہر قسم کی مشاورت پارلیمنٹ کے اندر کی جائے اور اس کی لائیو کوریج بھی کی جائے، تاکہ قوم یہ بھی جان سکے کہ اس کے نمائندے درپیش مسائل پر کیا رائے رکھتے ہیں اور ان کی رائے پر عمل کرکے مسائل کس حد تک حل کئے جا سکتے ہیں۔غیر سنجیدہ مباحث کو بھول کر سنجیدگی اختیار کی جائے گی تو ہی موجودہ مشکل صورت حال سے کوئی راستہ نکل سکے گا۔

مزید : اداریہ