پی سی جی اے نے کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کے اعداد و شمار جاری کردیے

پی سی جی اے نے کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کے اعداد و شمار جاری کردیے

رحیم یارخاں (آن لائن) پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) نے کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کے 31اکتوبر تک کے پیداواری اعداد و شمار جاری کردیئے -پی سی جی اے کی جانب سے جاری ہونے والے پیداواری اعداد و شمار کے مطابق 31اکتوبر تک ملک بھر کی جیننگ فیکٹریوں میں 76لاکھ 6ہزار 263روئی کی بیلز کے برابر پھٹی پہنچی ہے جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 7لاکھ 55ہزار 207بیلز ©( 11فیصد) زائد ہیں -رپورٹ کے مطابق 31اکتوبر تک پنجاب کی جیننگ فیکٹریوں میں مجموعی طور پر 45لاکھ 78ہزار 634بیلز کے برابر پھٹی پہنچی ہے جو پچھلے سال کے اسی عرصے کی مقابلے میں 6.40فیصد زائد ہیں جب کہ سندھ کی جیننگ فیکٹریوں میں مذکورہ عرصے تک 30لاکھ 27ہزار 629بیلز کے برابر پھٹی پہنچی ہے جو پچھلے سال اسی عرصے کے مقابلے میں تقریبا" 19فیصد زائد ہیں-رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 31اکتوبر تک ٹیکسٹائل ملز نے ملک بھر کی جیننگ فیکٹریوں سے 56لاکھ 91ہزار 883بیلز خریدی ہیں

جب کہ 1لاکھ 91ہزار 657بیلزبیرون ملک برآمد کی گئی ہیں -رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مذکورہ عرصے تک جیننگ فیکٹریوں میں 17لاکھ 22ہزار 723بیلز قابل فروخت پری ہوئی ہیں جب کہ ملک بھر میں اس وقت 1ہزار 86جیننگ فیکٹریوں آپریشنل ہیں -رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ 31اکتوبر تک ملک بھر میں سب سے زیادہ کپاس سانگھڑ کی جیننگ فیکٹریوں میں آئی ہے جو 12لاکھ 88ہزار بیلز کے برابر ہے جب کہ سندھ کے شہر میر پور خاص کی جیننگ فیکٹریوں میں 3لاکھ 22ہزار‘سکھر میں 2لاکھ ایک ہزار جب کہ پنجاب کے شہروں بہاولنگر میں 5لاکھ 3ہزار ‘وہاڑی میں 5لاکھ 2ہزار‘رحیم یارخاں میں 4لاکھ 55ہزار جب کہ بہاولپور کی جیننگ فیکٹریوں میں 4لاکھ 48ہزار بیلز کے برابر پھٹی پہنچی ہے -ماہرین کے مطابق رواں سال ستمبر اور اکتوبر کے مہینے میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے باعث کپاس کے ٹینڈے بہت جلد کھل گئے ہیں جس کے باعث 31اکتوبر تک پچھلے سال کے مقابلے میں جیننگ فیکٹریوں میں پہنچنے والی بیلز کی تعداد کافی زیادہ ہے تاہم خدشہ طاہر کیا جارہا ہے کہ پھٹی کی دوسری اور تیسری چنائی میں فی ایکڑ پیداوار میں کافی کمی واقع ہوسکتی ہے

مزید : کامرس