وزیراعلیٰ صاحب! کچھ توجہ اُدھر بھی

وزیراعلیٰ صاحب! کچھ توجہ اُدھر بھی
وزیراعلیٰ صاحب! کچھ توجہ اُدھر بھی

  

ہمارے ہاں عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ اگر کوئی حکومت، اپنے زمانے میں کوئی اچھا کام کرتی ہے تو آنے والی حکومت یا تو اسے ختم کردیتی ہے یا اس کی طرف سے نظریں پھیر لیتی ہے۔یوں نئی حکومت کی انا کی تسکین تو ہو جاتی ہے، لیکن عام آدمی کو بہرحال نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔مہذب ملکوں میں عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ نئی حکومت پچھلی حکومت کے تمام منصوبوں پر عملدرآمد جاری رکھتی ہے اور اگر اس میں بہتری کی ضرورت ہو تو بہتری لانے کی کوشش بھی کرتی ہے۔یوں قومی سرمایہ بھی ضائع نہیں ہوتا اور جن لوگوں سے متعلق وہ منصوبہ ہوتا ہے، انہیں کسی مشکل کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔ہم عجیب مہذب ملک ہیں کہ یہاں ہمیشہ اس کے برعکس ہوا ہے۔ہمارے ہاں یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ ہربُرا کام پچھلی حکومت کرتی ہے اور ہر اچھا کام موجودہ حکومت کرتی ہے،حالانکہ قصہ صرف اتنا ہے کہ یہاں جب تک کسی کی حکومت قائم رہتی ہے،تب تک کسی کو اس کے جاری اور مکمل ہو جانے والے منصوبوں پر انگلی اٹھانے کی جرات نہیں ہوتی، جونہی یہ حکومت رخصت ہوتی ہے، اس کی بدعنوانیوں کے قصے عام ہونے لگتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے ہاں شاید کوئی بھی پارٹی ایسی نہیں جو ”پچھلی حکومت“ نہ رہی ہو، یوں ہر جماعت کی حکومت پر کچھ نہ کچھ الزامات لگتے رہے ہیں، جن میں سے بہت سے سچ بھی ہوتے ہیں اور کچھ محض سیاسی سٹنٹ ہوتے ہیں۔مسلم لیگ(ق)کی حکومت پر لگا یہ الزام کبھی نہیں دُھل سکتا کہ اس نے جمہوریت کی بساط لپیٹ کر عنانِ حکومت سنبھالنے والے ایک فوجی آمر کی مدد کی اور اسی کی مدد سے وہ خود بھی ایوان ہائے اقتدار کی مکین رہی۔لیکن اس کے باوجود یہ سچ ہے کہ پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی کی حکومت نے کچھ ایسے کام کئے جو انہوں نے پہلی بار کئے اور یہی ان کی دستار کے پھول بن گئے۔ان میں سرفہرست 1122ہے۔اب ملک میں کوئی شہر ایسا نہیں ،جہاں یہ سروس نہیں۔مدد کے طلب گار کسی بھی شخص کے پاس 1122 کی گاڑی پانچ سے سات منٹ میں پہنچ جاتی ہے۔ٹریفک وارڈنز میں کچھ غلط بخشیاں بھی ہوئی ہوں گی، لیکن اس کے باوجود یہ تبدیلی پنجاب کے عوام کے لئے خاصی مفید ثابت ہوئی۔اسی طرح چودھری پرویز الٰہی نے مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے سرکاری ملازمین کے لئے گورنمنٹ سرونٹس ہاﺅسنگ فاﺅنڈیشن کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔اس فاﺅنڈیشن کی رکنیت حاصل کرنے والوں کی تنخواہوں سے ہر ماہ ایک معقول رقم کاٹی جاتی ہے۔کہا گیا تھا کہ ریٹائر ہونے پر ملازمین کو مناسب سائز کا مکان دیا جائے گا۔یہ اچھا خواب تھا، لیکن موجودہ پنجاب حکومت نے اسمبلی میں ایک بل پاس کرنے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کو مکان کے بجائے پلاٹ دیا جائے گا۔فیصلہ یہ بھی بُرا نہیں۔غریب ملازمین کے لئے اتنا سہارا بھی کافی ہے۔سر چھپانے کے لئے چھت نہ سہی،پاﺅں جمانے کے لئے ایک مختصر سا قطعہ ءاراضی سہی۔ان تمام منصوبوں کے ساتھ وہی ہوا،جس کا مَیں نے کالم کے آغاز میں ذکرکیا ہے۔مسلم لیگ(ن) کی پنجاب میں حکومت بنی تو ان منصوبوں پر دستِ شفقت نہیں رکھا گیا، جس کی وجہ سے یہ منصوبے (بالخصوص پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاﺅسنگ فاﺅنڈیشن) چل تو رہے ہیں، لیکن گھٹنوں کے بل گھسٹ گھسٹ کر،حالانکہ پنجاب کے متحرک اورسرگرم وزیراعلیٰ میاں محمد شہبازشریف سے پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاﺅسنگ فاﺅنڈیشن کو بجا طور پر توقع تھی کہ اگر اس منصوبے میں کچھ خامیاں ہیں تو وہ انہیں دور کریں گے،لیکن ہوا اس کے برعکس۔سنا ہے کہ پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاﺅسنگ فاﺅنڈیشن پنجاب کا واحد ادارہ ہے، جسے چلانے کے لئے بجٹ میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سرکاری ملازمین کی کٹوتی سے جمع ہونے والی رقم سے ملنے والے سالانہ منافع سے یہ ادارہ چلایا جا رہا ہے۔جب تک چودھری پرویز الٰہی کی حکومت قائم رہی، ملازمین کی جمع شدہ رقم پر منافع دیا گیا، لیکن مسلم لیگ(ن) کی پنجاب میں حکومت قائم ہوتے ہی سرکاری ملازمین کی جمع شدہ رقم پر منافع دینا بند کردیا گیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلے آٹھ سال سے مسلسل کٹوتی کرانے والے ملازمین کی اب تک جمع شدہ رقم تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار (140000)ہے ،جن لوگوں کی پندرہ سولہ سال سروس باقی ہے، ریٹائرمنٹ پر ان کی جمع شدہ رقم تین یا چار لاکھ روپے ہوگی۔ اب آپ خود ہی سوچئے کہ پندرہ سولہ سال کے بعد چار لاکھ میں کہاں پلاٹ ملے گا؟ شاید چاند پر!! تب ہوگا یہ کہ ملازمین کو ریٹائرمنٹ پر ملنے والی ساری رقم ہاﺅسنگ فاﺅنڈیشن کو دینا ہوگی، تاکہ یہ اسے پلاٹ دے سکے۔بصورت دیگر سرکاری ملازم کو پلاٹ سے دستبردار ہونا ہوگا۔یوں سرکاری ملازمین کے ہاتھ کیا آئے گا؟مَیں جانتا ہوں کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی وفاقی اور صوبائی حکومت کی ترجیحات میں عام لوگوں کے لئے گھروں کی فراہمی بھی شامل ہے۔آشیانہ سکیم اس ترجیح کی عملی تصویر ہو سکتی ہے۔پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کو پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاﺅسنگ فاﺅنڈیشن کے سر پر بھی دستِ شفقت رکھنا چاہیے، کیونکہ اب یہ ان کے حیطہ ءاختیار اور زیر نگرانی ہے۔اگر اس منصوبے میں انہیں کوئی خامی دکھائی دیتی ہے تو وہ اسے دور کریں، تاکہ سرکاری ملازمین کی بے چینی ختم ہو۔دوسرے یہ کہ ممبروں کی جمع شدہ رقم پر سالانہ منافع نہ دینے کا فیصلہ کرنے والوں سے بازپرس کریں، کیونکہ یہ سراسر زیادتی ہے۔کون سا ادارہ ہے جو آج جمع شدہ رقم پر منافع نہیں دے رہا؟ بے شمار مالیاتی ادارے بھاری منافع دے کر لوگوں کو سرمایہ کاری پر آمادہ کررہے ہیں، لیکن سرکاری ملازمین کی سرمایہ کاری کو بے آسرا چھوڑ دیا گیا ہے۔میری تجویز یہ ہے کہ اس فاﺅنڈیشن کے نام میں اگر لفظ ”ہاﺅسنگ“ شامل ہے تو اس کے بائی لاز میں تبدیلی کرکے کوئی ایسا نظام وضع کیا جائے کہ ملازمین کو سروس کے دوران ہی پانچ، سات یا دس مرلے کا مکان دے دیا جائے اور ان کی تنخواہوں سے ماہانہ بنیاد پر رقم وصول کر لی جائے۔اس سلسلے میں ریلوے کے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جو چھوٹے گھر بنا کر فروخت کرتے ہیں۔اس عمل سے پنجاب میں تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی،سرمایہ گردش میں آئے گا اور بے گھری کا مسئلہ بھی کچھ کم ہوگا ۔ اگر خواجہ سعدرفیق یہ کارِ فرہاد نہیں کر سکتے تو تیشہ بحریہ ٹاﺅن والے ملک ریاض صاحب کے ہاتھ میں تھما دیا جائے۔وہ ضرور اس پہاڑ سے نہر نکال لائیں گے۔اگر صورت حال جوں کی توں رہی تو میرے جیسے شاعر ایسے اشعار لکھتے رہیں گے:بھلا ہم کب جہاں میں رہ رہے ہیںکرائے کے مکاں میں رہ رہے ہیںلیتے ہیں سانس بھی تو ذرا سوچ سوچ کرہم لوگ رہ رہے ہیں کسی کے مکان میںآخر میں افتخار عارف کا دعائیہ شعر:مرے خدا! مجھے اتنا تو معتبر کردےمیں جس مکان میں رہتا ہوں ،اس کو گھر کر دے

مزید : کالم